کراچی کا کچرا سیاسی نہیں، سائنسی مسئلہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں کراچی میں کچرے کا مسئلہ نمایاں ہو کر توجہ کا مرکز بنا۔ اس موضوع پر روزانہ طویل بحثیں نشر ہوئیں۔ مختلف جماعتوں کے سیاستدانوں کو بلایا گیا بلکہ آپس میں لڑایا گیا۔ اینکر صاحبان اور دوسرے انٹرویو دینے والوں نے مختلف حکومتوں پر تنقید اور طنز کر کے عوام کے خون کو گرمایا۔ کچرا اُٹھانے کی ایسی ایسی انوکھی تجاویز سامنے آئیں جو آج سے قبل اس میدان کے ماہرین نے بھی کبھی نہیں سنی ہوں گی۔ ایک معزز ممبر اسمبلی نے تجویز دی کہ جہاں کچرا نظر آئے وہاں کے ایس ایچ او کو معطل کر دو۔ ایک وفاقی وزیر نے فرمایا کہ فوری طور پر کراچی میں ایمر جنسی لگا دی جائے۔ ایک صوبائی وزیر نے اِن پر الزام لگایا کہ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں شہر میں کچرا کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ کسی مسئلہ کو حل کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں بنیادی حقائق کیا ہیں؟ اس کے بعد ہی اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

پہلے تو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں جو اچانک صرف کراچی میں پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ایک عالمی سنگین مسئلہ ہے اور آج سے بیس سال قبل 1999 میں ورلڈ بینک نے What a waste?کے نام سے ایک رپورٹ شائع کر کے اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ کچرے کا مسئلہ وقت کے ساتھ خطرناک ہوتا جائے گا۔۔ اور پھر 2012 میں اس بارے میں ایک اور رپورٹ شائع کی تھی۔ اکثر ملکوں نے اس بارے میں منصوبہ بندی کر لی تھی لیکن ہم نے اپنی روایتی لاپرواہی کی وجہ سے اس کو بڑھا کر اس حال تک پہنچایا۔ پوری دنیا کے شہروں میں یہ مسئلہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ 2000 میں اوسطاَ روزانہ ایک شخص 0.6 کلو گرام کچرا پیدا کرتا تھا۔ اور 2012 میں ایک اندازہ کے مطابق ایک شہر کا رہنے والا اوسطاَ ہر روز 1.2 کلوگرام کچرا پیدا کر رہا تھا۔ اور اندازہ ہے کہ 2025 تک یہ اوسط بڑھ کر 1.4کلو گرام ہو جائے گی۔ یہ عالمی اوسط ہے ہر شہر میں یہ اوسط مختلف ہو سکتی ہے۔ اب دنیا میں ہر سال تقریباََ 2 ارب ٹن کچرا پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے شہروں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2012 میں دنیا کے شہروں میں 3ارب لوگ رہ رہے تھے اور اندازہ ہے کہ 2025میں چار ارب بیس کروڑ افراد دنیا کے شہروں میں رہ رہے ہوں گے۔ اب مجموعی طور پرچین میں امریکہ کی نسبت زیادہ کچرا پیدا ہو رہا ہے۔ ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ 2012 کی نسبت 2025 میں دنیا میں پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار دوگنا ہو جائے گی۔

2012 میں پاکستان میں اوسطاَ روزانہ ایک شخص 0.84 کلو گرام کچرا پیدا کرتا تھا اور پورے ملک میں 50384 ٹن کچرا روزانہ پیدا ہورہا تھا۔ اور حکومت ِ پاکستان کا اندازہ ہے کہ اب ملک میں روزانہ 77000 ٹن کچرا پیدا ہو رہا ہے۔ اور یہ اندازہ لگایا گیاہے کہ 2025 میں ایک پاکستانی روزانہ ایک کلوگرام سے زائد کچرا پیدا کر رہا ہوگا اور پورے ملک میں روزانہ ایک لاکھ نو ہزار ٹن کو ٹھکانے لگانا پڑے گا۔

اب کراچی کا جائزہ لیتے ہیں۔ گذشتہ بیس سال میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ اسی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ کسی بھی ملک کے بڑے شہروں میں ہر شخص زیادہ ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے جن سے زیادہ کچرا پیدا ہو۔ اب صرف کراچی میں روزانہ 13000 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ سادہ حساب بھی ظاہر کر دیتا ہے کہ پچھلے بیس سال میں کراچی میں کچرے کی صفائی کے انتظامات میں کم از کم ڈھائی سے تین گنا اضافہ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ کراچی میں موجودہ صورت ِ حال کی وجہ کیا صرف کراچی کی زیادہ آبادی ہے؟ 2016 میں جب اس پہلو کا سروے کیا گیا تو کراچی کے صرف 17 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ ان کی گلیوں کی روزانہ صفائی ہوتی ہے اور لاہور کے 45 فیصد شہریوں نے کہا کہ ان کی گلیوں کی روزانہ صفائی ہوتی ہے۔ اس کا قصوروار تو کراچی کی مقامی حکومت کو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس سروے میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ کراچی کے صرف 15 فیصد گھر میونسپل کی طرف سے مقررہ جگہ پر گھر کا کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں۔ اور پاکستان کے جن نو شہروں کا اس پہلو سے جائزہ لیا گیا ان میں سے یہ سب سے بری شرح تھی۔ اس کی ذمہ داری شہریوں پر عائد ہوتی ہے۔

کچھ ہفتوں سے میڈیا پر بار بار تفصیلی پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں کہ کراچی سے کچرا اُٹھایا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جو گند جمع ہو گیا ہے وہ صاف تو کرنا پڑے گا۔ لیکن سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کسی مہذب شہر سے گھروں اور اداروں میں سارا کوڑا کرکٹ ایک ہی ڈسٹ بن میں ڈال کر باقی کام مقامی میونسپل پر نہیں چھوڑ دیتے۔ مثلاَ لندن میں جس کوڑے دان کا نیلا ڈھکنا ہو اس میں ری سائیکل ہونے والی اشیاء مثلاَ کاغذ، گتے کے ڈبے، گلاس کی بوتلیں ، ٹن ، پلاسٹک کی بوتلیں ڈالی جاتی ہیں۔ ایک کوڑے دان کا ڈھکنا برائون ہوتا ہے ، اس میں کھانے کی چیزیں اور گھاس وغیرہ ڈالی جاتی ہیں۔ باقی اشیاء جس میں شاپر بھی شامل ہوتے ہیں ، اس کوڑے دان میں ڈالے جاتے ہیں جس کا ڈھکنا سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ اگر مختلف قسم کا کوڑا علیحدہ علیحدہ جمع کیا جائے تو اس کو نہ صرف ٹھکانے لگانا آسان ہوتا ہے بلکہ اس سے فائدہ بھی اُٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کام کے لئے لوگوں کو آگہی دینا اور شہریوں کا تعاون ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پھر شہر پر مختلف مقامات پر ایسے سٹیشن بنائے جاتے ہیں جہاں ارد گرد کے علاقے کا کوڑا جمع کر کے قرینے سے ٹھکانے لگانے کے لئے بھجوایا جا تا ہے۔ اس وقت توکراچی کا اکثر کچرا شہر میں ہی مختلف مقامات پر پڑا رہتا ہے اور اسے صحیح طریق پر ٹھکانے نہیں لگایا جاتا۔

کراچی کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے دو لینڈ فلز(Landfills)  قائم کئے گئے تھے۔ لینڈ فلز کا مطلب ہوتا ہے کہ زمین میں کھدائی کر کے اس میں ایسے طریقے سے کوڑا دفن کیا جاتا ہے کہ وہ ماحول کو نقصان نہ پہنچائے۔ اوّل تو یہ دو لینڈ فلز کراچی کے لئے ناکافی ہیں ا ور کراچی کے اکثر مقامات سے بہت دور ہیں۔ دونوں لینڈ فلز کے لئے 500ایکڑ کا رقبہ مخصوص کیا گیا تھا۔ لیکن حسب ِ دستور قبضہ ہوجانے کی وجہ سے سے ان کا رقبہ دو سو ایکڑ تک محدود ہوگیا ہے۔ اور اب یہاں محفوظ اور سائنسی طریق پر کچرا دفن نہیں کیا جا رہا بلکہ فقط وہا ں کوڑے کے پہاڑ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ضرور اس بات کی ہے فوری طور پر سائنسی خطوط پر کافی لینڈ فلز بنائے جائیں جہاں محفوظ طریق پر کوڑا دفن کیا جا سکے۔

لینڈ فلز کے طریق کے علاوہ دنیا میں ایسی بھٹیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں جس میں محفوظ طریق پر کچرے کو جلایا جاتا ہے لیکن ایسے طریق پر کہ کوئی نقصان دہ گیس خارج ہو کر فضا کو خراب نہ کرے بلکہ اس سے بجلی تیار کرنے کا کام بھی ہو رہا ہے۔ لیکن اس پر ابتدائی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کچرے سے فائدہ اُٹھانا یا اس میں موجود اشیاء کو پھر قابل ِ استعمال بنانا ایک علیحدہ سائنس ہے۔ اور اب اس طریق کو ہی اس مسئلہ کا حقیقی حل سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن جب ہم ابتدائی مراحل طے کر لیں گے تو ہی اس حل کی طرف قدم بڑھا سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •