یہ چینلز کی ریٹنگ کا کیا چکر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے آج سے کئی سال پہلے اپنی ایک تحریر میں سوال کیا تھا کہ چار چینلز کی اجارہ دری میں باقی ٹی وی چینلز کیا کررہے ہیں آج کل جب کے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری معاشی مشکلات سے دوچار ہے ورکز معاشی استحصال اور جبری برطرفیوں کو بھگتے یا ریٹنگ فوبیا کے پیچھے دوڑنے والوں کی آوازیں سنیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریٹنگ کی آواز ان حلقوں سے آتی ہے جنہیں اس کی الف ب بھی نہیں معلوم جن میں میرا شمار سرفہرست ہے۔

لوگ کیا دیکھ رہے ہیں اور کیا دیکھنا چاہتے ہیں یہ دو الگ الگ موضوعات ہیں لیکن اس میں ایک ضمنی سوال ہیں جن کی کی ریٹنگ آرہی ہے ان کے پاس کیا ایسی گیدڑ سینگی ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔ دن کے چوبیس گھنٹوں میں شام سے لے کر رات 12 تک کا جو مواد نشر کیا جاتا ہے اسے پرائم ٹائم کی اصطلاح کے ساتھ جانا جاتا ہے سارے دن کیا چلتا ہے اور کیوں چلتا ہے اس پر صرف بحث ہوتی ہے۔ لیکن پرائم ٹائم میں یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ اینکر ہی ریٹنگ کی وجہ ہے۔

اس کا کونٹیٹ چاہے کتنا اچھا یا برا کیوں نا ہو۔ ایک عام سی بات ہے کہ اگر جیو ٹی وی پر شام سات بجے کراچی کے کچرے پر حامد میر ٹرانسمیشن کریں اور اس میں چیف منسٹر سے لے کر مئیر کراچی۔ اور لیٹس کلین کراچی کے بانی علی زیدی بھی ہوں وزیر بلدیات بھی ہوں تو کوئی کیوں کسی اور چینل پر کراچی کے کچرے کی آہ وبکا سنے گا اور پھر ریٹنگ کے سارے میٹر بھی انہی کونمبر ون دکھائیں گے ہر شخص آرمانی اور ویساچی جیسے برانڈ ہی پہنا چاہتا ہے۔

اسی طرح ہر شخص جیو اے آر وائی۔ دنیا اور سماء اور کہیں جاکہ ایکسپریس ہی دیکھنا چاہتا ہے اور اس پر راج کرتے اینکر چاہے وہ شوز کریں یا نیوذ پڑھیں ساری ریٹنگ بھی ان کی ہی آتی ہے اب اس نوحہ اور گریہ ذاری کی وجہ جاننے سے پہلے یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ چینلز کو اے بی اور سی کیٹگیری میں شمار کرکے ان کی مالی حثیت کا تعین بھی کیا گیا ہے کسی حد تک اس بات کو ہضم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ میڈیا لاجک نامی بلا جب سے وارد ہوئی ہے اس نے چینلز کو عجیب وغریب بنا دیا ہے۔

5 بڑے چینل کی ریٹنگ کبھی ڈاون نہیں ہوئی اب اس کی وجہ کیا ہے اور اس کی لاجک کیا ہے یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن میرا سوال بڑا سادہ ہے اگر سارے بڑے بڑے ہاتھی ایک جگہ ہیں تو یہ جو چینلز کا جنگل پھیلا ہوا یہ تو اس کو بند کریں یا اس کی منصفانہ پالسی ترتیب دیں ہر جگہ حامد میر کاشف عباسی کامران خان۔ شاہ زیب خانزداہ۔ مہر بخاری۔ عاصمہ شیرازی۔ یا فریحہ ادریس صاحبہ جو سب میرے سنیئر ہیں اور نہایت قابل لوگ ہیں موجود تو نہیں ہوسکتے اور اگر انھی تمام لوگوں کے گرد میڈیا لاجک کے نمبر گھومتے ہیں تو اس میں کیا لاجک ہے یہ سمجھائی جائے کیبل آپریٹریز جیو کو آخری نمبر پر بھی ڈال دیں ریٹنگ پر اثر نہیں پڑتا۔ ایکسپریس نیوز کا ریٹنگ لانے کا پردہ فاش ہو لیکن اس کی ریٹنگ پر اثر نہیں پڑ ریا۔ شام سات ست آٹھ میں سماء سے لے کر دنیا اور دنیا سے آگے کچھ بھی نہیں کا فارمولہ کون طے کر رہا ہے ہر چینل کے مالک یقینا اپنے چینل کو سب آگے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہوں گے۔

لیکن پاکستان کا نمبروں نیوز چینل نمبر ون ٹکر مطلب جس کا سب کچھ نمبرون تھا۔ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کیسے ہوا یہ بھی آنکھوں نے دیکھا ہوسکتا ہے آپکو میری بات بے ربط لگے مسئلہ یہ ہے کہ تمام ہی چینلز میں کام کرنے والے ورکرز کے لئے ان کا چینل ہی ان کی جنت ہے لیکن بعض بے وجہ کے ہھتکنڈے جس میں ریٹنگ سہرفیرست اس نے میڈیا ملکان اور ان کے ورکرز پر بے وجہ کا تناؤ طاری کردیا ہے شاید میری بات بڑی غیر تکنیکی محسوس ہو لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں 50 سے زائد چینلجز ہیں جو نیوز نشر کرہے ہیں باقی اینٹرٹیمنٹ۔ اسپورٹس۔ ریجنل میوزک اور اسلا امی چینلز کی فہرست الگ ہے۔

کیا نیوز نشر کرنے والے چینلز پر دکھائی جانے والے پروگرامز کا معیار شخصیات ہیں یا اس پر نشر کیے جانے والا مواد دوسری طرف پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں ہر مبنی ہے اور نکے مطابق وہ ٹاک شوز کو دیکھنے سے بہتر کام اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کو ترجٰیح دیتے ہیں بلکہ ایک نوجوان نے مجھے یہاں تک کہاں کہ چار چینلز کے بڑے اینکرز کے علاوہ کوئی اور شو کرے بھی تو کیا فرق پڑتا ہے اب تو سب کو پتہ کہ چینل پر نیوز اور کرنٹ افئیرز میں صرف ایک دوسرے کو نیچا دیکھنے کی جنگ ہے۔

کسی بھی چینل کو چھوٹا یا بڑا کہنے کا اختیار کس نے اور کیوں دیا اس پر بھی سوال ہونا چاہیے مئیر کراچی وسیم اختر ہوں یا علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال سب ہی سے بات کی ہے اور سب ہی کو عزت دیکے ہمیشہ اپنے پروگرامز میں مدعو کیا ہے لیکن معزرت کے ساتھ ان سب کو ریٹنگ لانے والے چینلز کا ایسا نشہ ہے کہ وہ چاہے عزت دیں یا نا دیں جانا سب نے انہی کے پاس ہے شیخ رشید کو سماء پر جگہ چاہیے یا اے آر وائی پر منسٹر کا عہدہ کوئی بھی ہو وہ عوام کے لئے حاضر ہوتا ہے لیکن چھوٹے چینلز جن کو میں چھوٹا نہیں سمجتی آنے سے پہلے یہ کہنا کہ اچھا آپ بھی کوئی چینل ہیں معذرت ابھی وقت نہیں میں اس وقت فلاں فلاں چینل پر ہوں خیر یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریٹنگ کے مینارے بنانے والوں نے جو میٹر نصب کر رکھے ہیں ان کی تعداد سے لے کر ان کی اہمیت کا کیا معیار ہے یہ جواب بھی بہت ضروری ہے

پچھلے دنوں ایک آئسکریم پارلر پر ایک خاتون میرے پاس آئیں اور مجھے میرے نام سے مخاطب کر کے پوچھا آپ ٹی وی پر پروگرام کرتی ہیں۔ میں نے جواب دیا جی ہاں کہنے لگی میرے بابا نے مجھے بھیجا ہے وہ آپکا شو دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ 40 سے لے کر 60 سال تک کی عمر کے لوگ کرنٹ افئیرز کے شوقین ہیں اور اسے دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو مجھ جیسے اینکرز کو بھی جانتے ہیں ہاہاہاہا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جن چینلز پر سیاسی شخصیات ے ساتھ اینکرز اور پروڈیوسر کے رابطے ہیں وہ ان کے لئے ہر وقت دستیاب ہیں تو باقی جن کو چھوٹے چینل کہا جاتا ہے وہ کہاں جائیں اس میں ایک نکتہ یہ بھی کہ پیمرا آئے روز نئے چینلز کے لائنس کا اجراٗ کرر ہا ہے جبکے معروضی حالات کے سامنے ہوتے ہوئے ہر نئے آنا والا چینل اپنی بقا کی جنگ کے لئے لڑتا رہے گا

پراپرٹی ڈیلرز۔ کیبل چلانے والے۔ بیکری اونر۔ اور ناجانے کون کون سے لوگ چینل کے ملکان کی فہرست میں ہیں۔ پھر کیایہ چینلز کی بھار مار اپنے تعلقات کو وسیع کرنے اور اپنے کاروبار کے اثر کو قائم رکھنے کے لئے کھولے جارہے ہیں۔ صحافی کے لئے ہر وقت ایک ہی تلوار حالات ٹھیک نہیں تنخواہ وقت پر نہیں چینل کی ریٹنگ نہیں آرہی۔ صحافتی تنظیمیں بھی چار دن کا بین کرکے خاموشی کی چادر مٰیں ایسا سوتی ہیں کی اگلے درجنوں صحافیوں کی برطرفی یا پھر کسی صحافی کی خودکشی کی خبر پر نیند ٹوٹتی ہے ریٹنگ کے چئمپن ہی اگر 6 یا 8 یا 4 چینلز ہیں تو باقی تو سب کی دکانیں بند کریں اس وقت ٹیلی ویژن کی زبوں حالی کی گریہ جاری ہے کہ ویب ٹی وی چینلز بھی میدان مین آگئے ہیں اب ان کے ریٹنگ معیار کو کون جانچ رہا ہے۔ ریٹنگ کی بنیاد بنا کرمالکان کے من مانے فیصلے کسی مذاق سے کم نہیں لگتے بین الاقوامی میڈیا کے کسی ایک اینکر یا رپورٹر پر کیا ریٹنگ کی تلوار لٹکتی ہے؟

کیا ان سے کہا جاتا ہے کہ آ نیوز کی ریٹنگ نہیں آرہی شوز کی ریٹنگ نہیں آرہی میرا تو بڑا سیدھا سا سوال ہے۔ جن کی ریٹنگ آرہی ہے اس کی کیا وجہ ہے اور جن کی نہیں آرہی اس کے پیچھے کیا سائنس ہے سیاست دانوں کو بھی انہی چار چینل پر دکھائی دینے کا شوق ہے جو بڑے گروپس ہیں۔ باقی کوئی کتنی عزت دے علی زیدی نہیں آئیں گے شیریں مزاری نہیں آئیں گی شہباز شریف نہیں آسکیں گے۔ بلاول صاحب نہیں آئیں گے اس بے توقیری کا حل تو یہی ہے باقی سب چینل بند کر اور 6 یا 4 یا 8 چینلز کو کھانے کمانے دو بات لمبی ہوگئی لیکن ایک سوال اور ہے یہ جو ریٹنگ میٹر کیا وہاں کوئی خاص بجلی کی ترسیل کا نظام ہے۔ جہاں لائٹ ہی نہیں جاتی اور بس ریٹنگ ہے کہ آتی ہی جاتی ہے۔ آتی ہی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •