انصار عباسی نے جسٹس جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگوانے کی اندرونی کہانی بیان کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی انصار عباسی نے خبر دی ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگوانے کیلئے ایک مشترکہ دوست نے اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کیا تھا۔ اس مشترکہ دوست نے یہ تک پیشکش کی تھی کہ ریٹائرڈ جسٹس تقرر سے پہلے ہی اپنا دستخط شدہ استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ وہ اپنے قابل بھروسہ ہونے کو ثابت کر سکیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ دوست سے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کی ضرورت نہیں ہے اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کے تقرر کے حق میں فیصلہ کیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مذکورہ مشترکہ دوست جسٹس (ر) جاوید اقبال کے تقرر کیلئے خود ہی اصرار کر رہے تھے یا انہیں ریٹائرڈ جج نے ایسا کرنے کے لئے کہا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے کچھ حامیوں نے پہلے ہی سے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سے رابطہ کر رکھا تھا تاکہ انہیں چیئرمین نیب لگوانے کیلئے حمایت حاصل کی جا سکے۔

معلوم ہوا ہے کہ کہ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو نیب کا سربراہ لگانے کے حامی نہیں تھے لیکن ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ آصف زرداری نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی حمایت کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف نے بھی اس وقت کے وزیراعظم شاہد عباسی سے بات کی تھی اور شائستگی سے جاوید اقبال کا نام پیش کرتے ہوئے ان کے نام پر غور کرنے کے لئے کہا تھا۔

جاوید اقبال کی چیئرمین نیب کے آئینی منصب پر تقرری کے لئے کوشش کرنے والوں میں ایک پراپرٹی ٹائیکوں کا نام بھی لیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ باخبر صحافی قبل ازیں انکشاف کر چکے ہیں کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اپنی تقرری کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کی اسلام اآباد میں قیام گاہ پر بذات خود ملاقات کی تھی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا کے ساتھ غیر رسمی بات چیت میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانے پر قوم سے معذرت کی تھی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ نیب کے قیام کا بنیادی مقصد سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا ہے۔

شاہد عباسی کی جانب سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانے پر معذرت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تقریر کے 24 گھنٹے بعد سامنے آئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ملک میں احتساب کا عمل غیر متوازن اور سیاسی انجینئرنگ کا حصہ ہے۔ دوسدری طرف نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اصرار کرتے ہیں کہ احتساب بیورو سیاسی بنیادوں پر کسی کو نشانہ بنانے پر یقین نہیں رکھتا اور بلا امتیاز احتساب کا عمل جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •