افغان امن مذاکرات۔۔۔تعطل یا خاتمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


افغانستان اور پاکستان کے لئے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے جیمز ڈوبن نے وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات منسوخ کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کا فیصلہ ان کے مخصوص سیمابی انداز کو ظاہر کرتا ہے اور وہ اکثر اپنے فیصلے تبدیل کرتے رہتے ہیں جن سے نہ صرف ان کے مخالفین تذبذب میں مبتلا ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے اتحادی بھی شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں۔

جیمز ڈوبن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں طالبان کے ساتھ بات چیت مستقل طور پر بند نہیں ہوئی ہے اور یہ ہر صورت دوبارہ شروع ہو گی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد کیا صدر ٹرمپ افغانستان سے 5,000 امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے اپنے بیان پر قائم رہیں گے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے زور دے کر کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہو چکے ہیں۔ پیر کے روز، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ خود کیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی۔ تاہم ٹرمپ انتطامیہ کے کچھ حلقے اسے منسوخی کی بجائے معطلی کہہ رہے ہیں۔

کیا مذاکرات معطل ہوئے ہیں یا منسوخ؟

اس کا جواب دیتے ہوئے، سابق نائب معاون وزیر خارجہ کارل اِنڈر فرتھ کا کہنا تھا کہ معاملات چونکہ اتنے مبہم ہیں، اس لئے وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اُن کا کہنا تھا، ”میں کسی بھی اور شخص کی طرح ابہام کا شکار ہوں“۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں، معاملات جتنا جلد ممکن ہو سکے، سلجھنے چاہئیں۔

مگر اتنا ابہام کیوں ہے؟

اس کا جواب دیتے ہوئے سابق نائب معاون وزیر خارجہ رابن رافیل کہتی ہیں کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اور یہ اُن کا اندازہ ہے کہ وزیر خارجہ پومپیو نے پوری طرح سے دروازہ بند نہیں کیا۔ اس لئے یہ منسوخی نہیں ہے۔ پومپیو نے تو نہیں کہا کہ یہ منسوخی نہیں ہے، لیکن انہوں نے دروازہ بند نہیں کیا۔

ایسا کیا ہوا کہ مذاکرات ایک سمجھوتے میں تبدیل ہوتے ہوتے رک گئے؟

کارل انڈر فرتھ کہتے ہیں کہ بات چیت دس ماہ سے چل رہی تھی اور پھر اچانک ڈرامائی انداز میں کیمپ ڈیوڈ میں ایک اجلاس کا اہتمام کرنے کی کوشش کی گئی، جو میرے خیال میں بہت ہی انوکھی اور عجیب سی بات تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچ کہ آخری لمحے پر کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ، طالبان اور صدر غنی اجلاس منعقد کریں، یہ واضح طور پر وائٹ ہاؤس میں بغیر سوچے سمجھے اچانک ہی کیا جانے والا فیصلہ تھا، جس کی نہ کوئی تیاری کی گئی تھی اور نہ ہی اس میں شامل دیگر بہت سے عوامل کو زیرغور لایا گیا تھا۔

لیکن رابن رافیل کہتی ہیں کہ شاید طالبان یا صدر غنی نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کسی ایک یا دونوں فریقوں نے اس میں شرکت سے اتفاق کیا تھا۔ طالبان کے نقطہ نظر سے، وہ ایسی کسی ملاقات میں شرکت سے پہلے چاہتے تھے کہ کسی معاہدے پر دستخط ہو جائیں، اور وہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے پہلے امریکہ سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ”سو میرے خیال میں انہوں نے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ ملاقات تب کریں گے جب معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے، اور ایسا نہیں ہوا“۔

دوسرا ان کا کہنا تھا کہ صدر غنی کو اس معاہدے کا مسودہ دکھایا گیا تھا، اور وہ اس سے خوش نہیں تھے۔

رابن رافیل کہتی ہیں اس لئے صدر غنی ایسی کسی بھی ملاقات میں آنے سے ہچکچا رہے تھے، کیونکہ وہ اس معاہدے کے مسودے سے مطمئن نہیں تھے، اور پھر حملوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر بہت دباؤ تھا اس لئے انہوں نے اس معاہدے کو منسوخ کر دیا۔

کیا منسوخی کی وجہ انتظامیہ کے درمیان اختلافات تھے؟

اس کے جواب میں رابن رافیل کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک واضح طور پر ایسا ہی تھا، اور یہ کوئی راز کی بات بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو طالبان سے کسی معاہدے کے حق میں ہیں، اور جو کسی سیاسی سمجھوتے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں جو طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے نزدیک طالبان قابل اعتبار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ کہیں گی کہ نتظامیہ میں اختلاف پایا جاتا تھا، کم از کم اس اختلاف کے بارے میں جو کچھ رپورٹ ہوا ہے، وہ میرے نزدیک مصدقہ ہے۔

کارل انڈر فرتھ نے بھی اختلافات کے بارے میں اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ نتظامیہ کے درمیان تقسیم کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ اس اختلاف میں وزیر خارجہ پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی فوج خود بھی چاہتی ہے کہ ان کی کچھ نہ کچھ موجودگی وہاں رہے۔

انڈر فرتھ کہتے ہیں کہ واضح طور پر افغان عوام خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ امریکی اور نیٹو افواج کا وہاں سے مکمل انخلا ہو، کیونکہ وہ اس کے نتیجے میں طالبان کے اثر و رسوخ میں اضافے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے خوب واقف ہیں۔

صدر اشرف غنی کیا کہتے ہیں؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے امن بات چیت کی منسوخی کے بعد، افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ امن بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اگر طالبان یہ سوچتے ہیں کہ وہ انہیں ڈرا دھمکا کر مذاکرات کریں گے تو پھر ایسا نہیں ہو گا۔ صدر غنی نے کہا کہ امن بغیر شرائط کے ممکن نہیں ہے، اور امن مذاکرات صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب طالبان جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •