بے دست سماج کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی سماج کا ظرف ناپنا ہو تو اس کے اہلِ تخلیق و فن کار کا احوال اور ان سے ہونے والا انفرادی و اجتماعی سلوک و خیالات دیکھ لو۔جھٹ پتہ چل جائے گا کہ سماج کی رگوں میں کتنی زندگی باقی ہے یا کتنی مردنی گرفت کررہی ہے۔جیتا جاگتا کلیلیں بھرتا سماج اہلِ تخلیق و فن کو بھی قابلِ فخر و احترام قومی اثاثوں کی فہرست میں گردانتا ہے اور اس قومی اثاثے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔مگر عالمِ سکرات کی کگار پے جھولتا سماج ؟ اس کے بارے میں کیا کہنا۔وہ تو خود قابلِ ترس و تیمار داری ہے۔

اگر پاکستانی سماج کا جغرافیائی پوسٹ مارٹم کیا جائے تو جنوبی پنجاب میں ایسے کئی جاگیردار خانوادے ہیں جن کی آمدنی کا درست اندازہ صرف ان کے منشیوں کو ہے۔ان میں سے کچھ نہ صرف اپنی نسل در نسل روحانی ، علمی و تہذیبی میراث پر فخر کرتے ہیں بلکہ مزارات کے ساتھ ساتھ بیش بہا کتب خانوں کے بھی مجاور ہیں۔نثر اور شعر کی ان کی سمجھ حیرت انگیز ہے۔

سیاست گھر کی باندی اور مقامی افسر شاہی ہمہ وقت داشتہ۔ان زمینی خداؤں کے لیے کسی کے کام آجانا چٹکی بجانے سے بھی آسان ہے۔ دائیں چھنگلیا کے اشارے پر ان کا کوئی بھی چاہنے والا یا تعلق دار کسی گدھے کو بھی سونے میں تول کے یہ سونا خیرات کرسکتا ہے۔

لیکن اسی جنوبی پنجاب میں جب راجن پور کے زوالیہ دبدبے دار سرداری سماج میں نذیر فیض مگی جیسے شاعر کو دیکھتا ہوں تو اس کی ٹوٹی کمانی والی عینک اور گھسی ہوئی چپل اس کے کلام پر واہ واہ برسانے والے کلف دار طاقت پرستوں کے کھوکھلے پن کو کچھ اور نمایاں کردیتی ہے۔بقول نذیر فیض ’’ خیال کرن نہ کرن ، عزت بہوں کریندن ‘‘(خیال کریں نہ کریں ، عزت بہت کرتے ہیں )۔ نذیر فیض پچاس برس سے بے فیض دھرتی پر شاعری کر رہا ہے۔آج تک پہلا مجموعہ تک شایع نہ کر پایا۔

نذیر فیض مگی اکتوبر 2016ء میں انتقال کر گئے

اور اسی جنوبی پنجاب میں دریا پار جدید سرائیکی شاعری کے ایک ہراول نام شاکر شجاع آبادی کا بھی وجود ہے۔گیارہ برس سے فالج کا شکار ہے۔آٹھ برس سے پرائڈ آف پرفارمنس کے سرٹیفکیٹ کا بوجھ سینے پر دھرے ہوئے ہے۔ اس کے سیکڑوں اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ گذشتہ برس (2014) شریف برادران نے شاکر شجاع آبادی کے لیے ماہانہ وظیفے اور گھر کا اعلان کیا۔

ایک مرتبہ پچیس ہزار روپے کا وظیفہ آیا ضرور۔ مگر گھر کے عوض شاکر کو نشتر اسپتال ملتان کے ایک کمرے میں علاج کے نام پر کمرہ میسر آ گیا۔ صد شکر کہ حضرت خواجہ غلام فرید کو عباسی حکمرانوں جیسے مرید میسر ہو گئے۔ آج ہوتے تو نذیر فیض مگی یا شاکر شجاع آبادی کا طرزِ حیات گلے میں ڈالے خودی کے گیت خود ہی کو سنا رہے ہوتے اور بدلے میں بس ’’واہ سائیں واہ ‘‘ پا رہے ہوتے۔

سندھ لطیف و سچل کا وارث ، ٹھٹھہ کی تہذیبی شان و شوکت کا قصہ خواں، جہاں یہی بحث نہیں تھمتی کہ دریائے سندھ میں زیادہ پانی ہے کہ دریائے روحانیت زیادہ بڑا ہے۔ آج ہر کوئی چیخ رہا ہے کہ سندھ کی روادارانہ اجرک کو متعصب ملا تار تار کر رہا ہے۔ تب ہی تو جواں سال صادق فقیر کے جنازے میں اتنے کثیر لوگ پہنچے جتنے اسے زندگی میں ایک محفلِ موسیقی میں بھی میسر نہ تھے۔

یہ سب صادق فقیر جیسے سوگوار فقیر تھے جو جانے سندھ کے کس کس کونے سے مٹھی آئے کہ ہوٹلوں میں کھانا ختم ہوگیا۔مگر اچھا ہی ہوا کہ صادق فقیر کو آخری سلامی دینے والے ان قطار در قطار بے نام سوگواروں کے درمیان کوئی ایسا فن پرور نہیں تھا جسے پورا صوبہ صرف اس لیے جانتا ہو کہ اس کے آگے پیچھے رواں سائرن بجاتی گاڑیوں کی قطار ہی ختم نہیں ہوتی۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے۔۔

کون ہے جو پاکستان تا بھارت سلیم کوثر کے اس مصرعے سے واقف نہیں۔ وہی سلیم کوثر آج کل کراچی کے ایک کونے میں علیل پڑا ہے۔ مگر بقول جون ایلیا ،

کس کو فرصت کہ مجھ سے بحث کرے

اور ثابت کرے کہ میرا وجود

زندگی کے لیے ضروری ہے۔

سلیم کوثر

ہاں اس کراچی میں سب سے آسان کام ہے بھتہ لینا اور دینا، لوٹنا اور لٹنا۔چھیننے والے سلامت، چھننے والے بہت۔ کسی کو کسی پر اعتراض نہیں۔مگراس پوری منڈلی میں ایک بھی تو سلطانہ ڈاکو نہیں۔زندگی لینے والے بہت ، زندگی دینے والا کوئی نہیں۔تو پھر کیوں نہ یہاں کا جمالِ احسانی قرض کے اسپتالی بستر پے پڑا پڑا نعت کا یہ شعر گنگناتا مر جائے،

ویسے تو ہر زمانے کو حاجت ہے آپ کی

پر ان دنوں زیادہ ضرورت ہے آپ کی

عبید اللہ علیم اپنے ہم عصروں اور نئے تخلیق کاروں کو تسلی دیتا دیتا خود بھی مرگیا کہ ’’ پیارے صاحب کسی شریف عورت کو کسی طوائف کے تمول سے پریشان نہیں ہونا چاہیے ’’۔۔ مگر ایک سفید پوش علیم کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک دلال سماج میں اہلِ ہنر کے پاس خود کو تسلی دینے والا تکیہ لازمی ہے کہ جس پر سر ٹیک کے رویا جاسکے۔

رہی بات پڑھے لکھے وسطی و لاہوری پنجاب کی تو وہاں آج بھی میراث سر آنکھوں پر اور میراثی اپنے ہی قدموں پر۔ اہلِ قلم وہی بامراد کہ جس کی قلم کسی طاقتور پیڑ میں لگی ہو۔اور خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کا کیا کہوں کہ جو عرصہ ہوا اہلِ تخلیق و فن کے لیے صرف ذہنی نہیں ، وجودی کربلا بن چکے ہیں۔

مگر بہادر ہیں دراصل وہ لوگ جنہوں نے نوسر بازی کی بیعت، جہل کی منشی گیری ، رعونت کی پاپوش برداری ، اختیار کی مالش اور بے علمی کی خوشامد اختیار کرنے پر آمادگی کے بجائے تخلیق کاری کے کرب کے وقتی خسارے کو ہی منافع جانا اور اپنے ہی آگے ہاتھ پھیلا کے زندگی گذار ڈالی۔ایک آڑھتی سماج میں یوں سہولت سے گذر جانا بھلا کوئی معمولی کام ہے ؟

ہاں یہاں آپ جونک بن کے ہی آسودگی کاٹ سکتے ہیں۔مگر جونک بننا بھی تو ہر ایک کے بس میں نہیں۔ایک خاص طرح کی بے حسی درکار ہے ، گلاس میں گلاس اور آبخورے میں آبخورہ جیسا ڈھل جانے کی مایع جاتی صفت چاہیے اور ہر طرح کا فاسد و غیر فاسد خون چوسنے اور اسے حلال سمجھنے کا بوتا ہو تب ہی آپ ایک کامیاب کاروباری سماجی جونک بن سکتے ہیں۔

اور جب ایک بار آپ آدمیت کے زینے سے اتر کے جونکوں کی دنیا میں داخل ہوگئے تو پھر کسی بھی طرح کے خون کی کیا کمی ؟ جس طرح تخلیق کار جزوقتی نہیں ہوسکتا اسی طرح جونک بننے کا عمل بھی کل وقتی ہے۔یا تو آپ جونک ہیں یا پھر نہیں ہیں۔

تخلیق کاروں اور اصحابِ ہنر کے تذکرے سے فوراً یہ بات ذہنِ عمومی میں آتی ہے گویا ہم شاعری ، نثر ، فنونِ لطیفہ وغیرہ کے وابستگان کی بات کررہے ہیں۔مگر یہ دائرہ اتنا چھوٹا نہیں ۔ہر وہ کھلاڑی جو اپنے انداز سے کھیل کے میدان میں اپنا اظہار کرنا چاہتا ہے ، ہر وہ سائنسداں جس کے پاس ایک کایا کلپ آئیڈیا ہے ، ہر وہ میڈیا پرسن جو بھیڑ چال سے نکل کے کچھ نیا کرنا چاہتا ہے، ہر وہ بیورو کریٹ جو اپنے کام میں انسانیت اور بنیادی اخلاقیات کی آمیزش کرکے اسے انسان دوست بنانا چاہتا ہے ۔

ہر وہ جنرل جو روایتی وار گیم کے مضمحل دماغ میں تازہ خون دوڑانے کے لیے بیتاب ہے ، ہر وہ عالم جو عقیدے کو پرپیچ در پیچ دستار سے آزاد کر کے سر کو ہوا لگوانے کا خطرہ مول لے رہا ہے ، ہر وہ زن و مرد و طفل جو ننگ کو ستر کہنے سے انکاری ہے۔یہ سب کے سب اہلِ تخلیق و ہنر ہیں اور ان سب کو ایک جونک پرور آڑھتیانہ سماج میں خسارے کی سرمایہ کاری درپیش ہے کہ جس میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی صعوبتیں ہی ان کا انعام اور علتِ کج کلاہی ہی ان کا سکون ہے۔

آج یہ آڑھتی سماج اپنی ہی کھوکھلاہٹ کی دلدل میں خود کو آہستہ آہستہ دھنستے دیکھ تو رہا ہے مگر خود کو بچانے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر پارہا۔بچانے کے لیے ہاتھ ضروری ہیں۔اور سماج کے ہر شعبے کے اہلِ تخلیق و فن کی حوصلہ افزائی و توقیر و اعتراف ہی وہ ہاتھ بخشتے ہیں جنھیں ادھر ادھر چلا کے سماج خود کو بچاتا ہے۔مگر بقول ایک خساروی شاعر احمد نوید ،

بے بسی دیکھ میرے ہاتھ بھی اب ٹوٹ گئے

پاؤں پہلے ہی میسر نہ تھے چلنے کے لیے

10 مارچ 2015

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •