سیانے چوہے کی شادی اور ڈیل کرنے سے توبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اور خوب سیانا چوہا تیز بارش میں پھنس گیا۔ بوچھاڑ سے بچنے کے لئے اس نے جلدی جلدی ایک بل کھودا اور اس میں دبک گیا۔ وقت گزاری کے لئے وہ بل کو مزید کھودتا گیا۔ کھودتے کھودتے اسے ایک مردہ درخت کی جڑ ملی جو بالکل خشک تھی۔ چوہے بہت کفایت شعار اور سلیقہ مند مخلوق ہوتے ہیں۔ سیانے چوہے نے سوچا کہ میں اس لکڑی کو گھر لے جاؤں گا اور اسے جلا کر کھانا پکاؤں گا۔ مینہ تھما تو سیانا چوہا اس جڑ کو منہ میں دبائے اپنے بل کی طرف روانہ ہوا۔

وہ کچھ آگے گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی بہت مایوسی کے عالم میں آگ جلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیٹھے بچے رو رہے ہیں۔
سیانے چوہے نے دلگرفتہ ہو کر پوچھا ”کیا ہوا؟ یہ بچارے کیوں رو رہے ہیں؟ “

آدمی نے جواب دیا ”یہ سب کھانے کے لئے رو رہے ہیں مگر لکڑیاں گیلی ہیں اور آگ نہیں پکڑ رہیں۔ میں آگ جلا کر روٹیاں نہیں پکا سکتا کہ ان کا پیٹ بھر سکوں“۔
”اگر یہی تمہاری مشکل ہے تو میں اسے حل کر دیتا ہوں۔ تم یہ خشک جڑ لے لو اور اس سے آگ جلاؤ۔ “ چالاک چوہے نے اسے لکڑی دے دی۔

اس آدمی نے جڑ کو سلگانا شروع کیا اور چند لمحوں میں خوب آگ بھڑک اٹھی۔ وہ بہت شکرگزار ہوا اور اس نے چوہے کو لکڑی کے بدلے آٹے کا ایک پیڑا دے دیا۔ سیانے چوہے نے خود کو بہت داد دی اور سوچنے لگا۔ ”میں کتنا عقلمند ہوں۔ ایک گلی سڑی جڑ کے جڑ کے بدلے میں نے ایسی بہترین ڈیل کی ہے۔ آٹے کا یہ پیڑا میری چار پانچ دن کی روٹیوں کا بندوبست کر دے گا۔ واہ واہ، میں کتنا سیانا ہوں۔ اور خوش قسمت بھی“۔

شاداں و فرحاں وہ آگے بڑھا۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ اسے ایک کمہار دکھائی دیا جو کبھی اپنے چاک کو گھماتا اور کبھی اسے چھوڑ کر اپنے تین روتے پیٹتے بچوں کو چپ کروانے کی کوشش کرتا۔
”خدایا، کتنا شور ہے۔ یہ کیوں رو رہے ہیں؟ “ سیانے چوہے نے پوچھا۔

کمہار نے جواب دیا ”میرا خیال ہے کہ انہیں بھوک لگی ہے۔ گھر میں آٹا نہیں اور ان کی ماں آٹا لینے بازار گئی ہے۔ جب تک وہ واپس نہیں آتی تو ان روتے ہوئے بچوں کی وجہ سے نہ تو میں کام کر سکتا ہوں اور نہ آرام“۔

”بس اتنا سا مسئلہ ہے؟ یہ لو آٹے کا پیڑا، اسے جلدی سے پکا کر ان کے منہ میں روٹیاں ڈالو تاکہ یہ چپ تو ہوں“۔ سیانے چوہے نے اسے پیڑا دیتے ہوئے کہا۔
کمہار چوہے کا بہت احسان مند ہوا۔ اس نے احسان کا بدلہ چکانے کے لئے اسے اپنی سب سے بہترین ہنڈیا تحفے میں دے دی۔
سیانا چوہا اس ڈیل سے بہت خوش ہوا۔ وہ ہنڈیا سر پر اٹھا کر اٹھلاتا ہوا آگے چلا اور سوچنے لگا ”واہ واہ، میں کتنا سیانا ہوں۔ اور خوش قسمت بھی۔ کیسی اچھی ڈیل کی ہے“۔

سیانا چوہا ہنڈیا اپنے سر پر اٹھا کر اپنے گھر کی سمت چلا۔ وزن کے باعث اس سے چلا نہیں جا رہا تھا اور وہ سوچنے لگا کہ ہر ڈیل کے بعد کامیابی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے ہلکی سی جڑ تھی، پھر اس سے بھاری پیڑا اور اب اتنی بھاری ہنڈیا۔ لیکن ہر ڈیل پہلے سے بڑھ کر بھی تو تھی۔ اس نے ایک مرتبہ پھر خود کو داد دی ”واہ واہ، میں کتنا سیانا ہوں، اور خوش قسمت بھی۔ کیسی اچھی ڈیل کی ہے“۔

چلتے چلتے وہ ایک چراگاہ تک پہنچا جہاں ایک گڈریا اپنی بھینسیں چرا رہا تھا۔ وہ ایک بھینس کا دودھ دوہنے کی کوشش کر رہا تھا مگر کسی برتن کی بجائے وہ اپنے جوتے میں دودھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”خدایا، تم کتنے گندے ہو۔ اپنے جوتے کو منہ سے لگا کر یہ دودھ پیو گے؟ تم کسی برتن میں دودھ کیوں نہیں دوہتے؟ “ سیانے چوہے نے کراہت آمیز منہ بنا کر کہا۔
”کیونکہ میرے پاس کوئی برتن نہیں ہے اور مجھے بھوک لگی ہے“۔ گڈریے نے جواب دیا۔

”بس اتنی سی بات ہے۔ تم یہ ہنڈیا لو اور اس میں دودھ نکالو۔ میں ایسی گندگی دیکھ بھی نہیں سکتا جو تم کر رہے ہو“۔ سیانے چوہے نے کہا۔

گڈریے نے سیانے چوہے سے ہنڈیا لے لی اور اسے دودھ سے لبالب بھر دیا اور پھر چھکا چھک پی گیا۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ دودھ دوہنا شروع کیا اور ہنڈیا بھر گئی تو اسے سیانے چوہے کی طرف بڑھا کر کہنے لگا ”لو تم بھی پیو، تم نے اپنی ہنڈیا دے کر میری مدد کی ہے“۔

سیانے چوہے نے یہ دیکھ کر منہ بنایا اور کہنے لگا ”نہیں نہیں میرے دوست۔ یہ ڈیل مجھے قبول نہیں ہے۔ بفرض محال میں اتنا دودھ پی بھی لوں تو میرا چھوٹا سا پیٹ پھٹ جائے گا۔ اور میں بری ڈیل نہیں کرتا۔ میں ایک ددھیل بھینس سے کم پر سودا نہیں کروں گا“۔

”کیا تم نے مجھے بدھو سمجھ رکھا ہے؟ ایک ہنڈیا کے بدلے میں بھینس دوں گا؟ ایک ہنڈیا کی ایسی قیمت کس نے سنی ہے؟ اور میں نے تمہیں بھینس دے بھی دی تو تم اس کا کیا کرو گے؟ کیا تم اپنے اس مختصر سے وجود سے ہنڈیا سے بڑی کوئی چیز سنبھال سکتے ہو؟ “ گڈریا چلایا۔

اپنے وجود کا طعنہ چوہے کو پسند نہیں آیا۔ وہ پنجوں کے بل کھڑا ہوا تاکہ خوب بلند قامت دکھائی دے اور کہنے لگا ”یہ میرا مسئلہ ہے، تمہارا نہیں۔ تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے میری ہنڈیا کے بدلے بھینس دو۔ ورنہ میں جنگل کے بادشاہ کو بلا لاؤں گا اور وہ اتنا ظلم دیکھ کر انصاف کرنے کی خاطر تمہاری ساری بھینسیں کھا جائے گا۔

گڈریے نے ڈر کر اپنی بھینس کی رسی کھولی اور چوہے کی دم سے اس کی گرہ باندھنے لگا۔
”نہیں نہیں، اگر اس ڈشکری نے مجھے کھینچا تو میری دم توڑ کر لے جائے گا۔ رسی کو میری گردن کے گرد باندھو“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1185 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar