ہر وقت یہی سوچ! کیا بنے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں یہاں کی روایات کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ میں جتنا بھی چاہوں کہیں نہ کہیں سے معاشرتی اصولوں کے جال میں پھنس ہی جاتا ہوں یہ آدھے تیتر آدھے بٹیر جیسے نظام نے ذہنی مفلوج کر رکھا ہے سمجھ نہیں آتی کہ ہم نے بہت سے کام جو رب کے کرنے والے ہیں ان کی ذمہ داری خود اٹھا رکھی ہے۔ رزق کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے لیکن ہر وقت یعنی تمام عمر رزق کی تلاش میں گزار دینا بھی زندگی کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے اور ہمارے نزدیک رزق صرف نوٹ ہی تو ہیں۔

ہمارے ہاں جب کوئی اولاد پیدا ہو خصوصاً بیٹیاں تو پیدائش کے ساتھ ہی جہیز کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہم تعلیم حاصل ہی اس لئے کرتے ہیں کہ پیسے کمانے ہیں اور آج کل تو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی دولت مند ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں جھانک لیں صرف روپوں کی ریل پیل ہے۔ اپنا گھر ہونے کہ باوجود پلاٹ خرید کے رکھنے اور زیورات جمع کرنے جیسی خواہشات نے زندگی کے اصل مقاصد کو دفن کر دیا ہے۔ ہر وقت دولت جمع کرنے کا جنون ہے جو مر کر ہی اُترتا ہے حالانکہ تاریخ نے کبھی کسی دولتمند کو یاد نہیں رکھا۔

یہ دراصل ہمارے ہی بنائے ہوئے اصول ہیں جن پر پورا اترنے کے لئے سوائے دولت کے اور کچھ نہیں چاہیے۔ ایسے اصولوں اور قاعدوں پر قائم معاشرہ کسی جیل سے کم نہیں ہو سکتا۔ یہاں بہت سے لوگ کسی ایسے دن کے لئے بھی پیسہ جمع کرتے رہتے ہیں جس کا پتہ ہی نہیں کہ وہ آئے گا بھی کہ نہیں لیکن اس ایک دن کے انتظار میں گزرتے وقت کی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔

اپنے آپ کو وقت دینا بھی سانس لینے جتنا ضروری ہے زندگی کے باقی رنگوں کو بھی دیکھنا اور ان سے لطف اندوز ہونا بھی لازمی ہے۔ میرے نزدیک جس نے جو کھا لیا، پہن لیا، خرچ لیا یہ دیکھ لیا وہی اس کا رزق ہے باقی جو بھی جمع کیا ہو وہ تو کسی اور کا ہی ہے۔ ہم جو چاہتے ہیں وہ نہیں کر پاتے اور جو نہیں کر سکتے اس کی جستجو میں ہی لگے رہتے ہیں۔

ہم پتہ نہیں آج میں کیوں نہیں جیتے، مستقبل کی فکروں نے ہماری آزادی چھین لی ہے۔ سوچ اور فکروں نے قید کر رکھا ہے اور ان میں سے زیادہ تر وہ پریشانیاں ہیں جن کے بغیر بھی زندگی اچھی خاصی گزر سکتی ہے۔ اور کچھ ایسی فکریں بھی ہیں جن کی ذمہ داری خود رب العالمین نے اپنے پاس رکھی ہے جو کائنات کا تخلیق کار ہے لیکن ہم ان روایات، سوچ اور معاشرتی اصولوں کے اتنے سخت شکنجے میں ہیں کہ یہ یقین ہی نہیں آتا کہ رب العزت ہمارے کام آسان کر سکتا ہے ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ اللہ مالک ہے لیکن مانتے نہیں جس کی وجہ توکل کی شدید کمی بھی ہے۔ جسے بھی دیکھ لو کسی نہ کسی ایسی شے کو حاصل کرنے میں مگن ہے جس کی اسے قطعاً ضرورت نہیں اور ضرورتیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ ہر وقت یہی سوچ! کیا بنے گا؟

اختر ہوشیارپوری کا شعر ہے،

اختر گزرے لمحوں کی آہٹ پر یوں نہ چونک
اس ماتمی جلوس میں ایک زندگی بھی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •