دو عورتیں، دو کہانیاں، دو دھوکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی عورت کی کہانی

یہ کہانی میری جاننے والی لڑکی کی ہے۔ فریحہ کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے۔ کام کے حوالے سے میری اس کے ساتھ مہینے میں دو بار لازمی ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دن اس نے بتایا کہ اس کا نکاح ہے۔ لڑکا رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا ہے۔ لڑکی کے گھر والے بڑی مشکل سے شادی کے لیے مانے ہیں۔ جب کہ لڑکے کی فیملی نہیں مان رہی۔ نکاح میں لڑکے کے دوست ہی شرکت کریں گے۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی لیکن میں نے سوچا کہ لڑکی پڑھی لکھی سمجھدار ہے۔ اس نے سوچ سمجھ کے فیصلہ کیا ہو گا۔

لڑکی ایک سیلولر کمپنی میں اچھی سیلری پہ جاب کر رہی تھی۔ لیکن لڑکے نے سب سے پہلے جاب چھوڑنے کی فرمائش کی۔ میں نے اس بات پہ لڑکی کو سمجھایا لیکن جب عشق کا بھوت چڑھا ہو تو پھر کچھ نہیں سوجھتا۔ خیر شادی ہو کے لڑکی چلی گئی۔ لڑکی کا واٹس ایپ بند ہو گیا تو مجھے حیرت تو ہوئی لیکن میں نے سوچا شاید نمبر چینج ہو گیا ہے۔ تقریبا تین ماہ بعد لڑکی سے ملاقات ہوئی۔ پریگنینٹ تھی حالت بری تھی۔

میں نے پوچھا کہ سب خیریت ہے۔ اس نے بتایا کہ شادی کے بعد صرف ایک مہینہ لڑکا ٹھیک رہا ہے۔ اس کے بعد لڑائی جھگڑے فساد خرچہ نہ دینا شروع کر دیا ہے۔ لڑکی کی پریگنینسی کی خبر بھی اس نے برے منہ بناتے ہوئے سنی۔ واٹس ایپ، فیس بک اور ٹک ٹاک سب بند کر دیا۔ سمارٹ فون سے سم نکال کے کی پیڈ والے موبائل میں ڈال دی۔ قصہ مختصر یہ کہ آٹھویں مہینے لڑکی کو گھر سے میکے بھیج دیا۔ لڑکی کے جڑواں بچے ہوئے ہیں۔ نہ ہی ڈیلیوری کا خرچہ دیا نہ بچے دیکھنے آیا۔ سننے میں آیا کہ اس نے والدین کی مرضی سے دوسری شادی کر لی ہے۔ اور دوسری بیوی کو گھر لے آیا ہے۔ میرے مشورے کے مطابق لڑکی نے پرانی جاب کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اب اسے اپنے ساتھ ساتھ دو بچوں کی پرورش بھی کرنی ہو گی۔

نتیجہ

بنا سوچے سمجھے شادی کرنا اور اپنی معاشی خودمختاری کو ختم کرنے کا نقصان صرف لڑکی اٹھاتی ہے۔ ہمیشہ سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں۔ کسی دوسرے کو یہ حق نہ دیں کہ وہ آپ کی ذات کے متعلق فیصلے کرے۔ شادی کے بعد فوراً سے بچہ پیدا کرنے کی احتیاط کریں۔ خدانخواستہ علیحدگی کی صورت میں بچوں کا نہ ہونا رحمت کی بات ہے۔ بصورت دیگر سب سے زیادہ محرومی کا شکار بچے ہوتے ہیں۔

دوسری عورت کی کہانی

یہ لڑکی میری بہت قریبی ہے۔ بہنوں کی طرح ہے۔ ذات برادری کے ایشوز کی وجہ سے اس کے رشتے کا مسئلہ رہتا تھا۔ پچھلے سال انہی دنوں سعودیہ میں رہنے والے لڑکے سے اس کی منگنی ہو گئی۔ منگنی چونکہ گھر والوں نے ہی کی تھی۔ اس لیے لڑکی خوش تھی۔ لڑکی نے منگنی ہونے تک کبھی کسی لڑکے سے بات چیت نہیں کی تھی۔ جب منگنی ہوئی تو پھر لڑکے سے بات چیت شروع ہو گئی۔ پورا سال لڑکا محبت بھری باتیں کرتا رہا۔ لڑکی نے بھی اپنا پورا پورا وقت اسے دیا۔

اکتوبر کے مہینے میں شادی طے تھی۔ جب ان لوگوں نے دن رکھنے کی بات کی تو لڑکے والوں نے ان کے سر پہ بم پھوڑ دیا کہ لڑکے نے سعودیہ میں شادی کر لی ہے۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اب یہاں سب سمجھ سکتے ہیں کہ شادی طے ہوئی ہو اور انکار ہو جائے تو لڑکی کی کیا حالت ہوتی ہے۔ لڑکی کے گھر والے بھی صدمے میں چلے گئے کہ یہ کیا ہوا ہے۔ اب قصہ مختصر یہ کہ لڑکے والوں نے کوئی بھی ڈیٹیل دینے سے انکار کر دیا۔ صورت حال کسی طرح واضح نہیں ہو رہی تھی۔

پھر میں نے سعودیہ میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا۔ انہوں نے چھ دن کی مسلسل کوشش کے بعد اس لڑکے کو ٹریس کر کے پکڑا۔ اور اس سے کہا کہ سچ بات بتاؤ۔ تب پتہ چلا کہ لڑکے کو چوری پاکستان بلا کے اس کی شادی کرائی گئی ہے۔ جس میں لڑکے کی فیملی شامل ہے۔ اب اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ لڑکے کے گھر میں ان کے ساتھ ان کی ماموں اور ممانی رہتے ہیں۔ جن کو لڑکی کا لپ اسٹک لگانا یا ٹراوزر پہننا پسند نہیں تھا۔ اس بات پہ ان کی ایک بار لڑکی کی بہن سے بحث ہوئی تھی۔ جس پہ بہن نے کہا تھا کہ ابھی وہ ہمارے گھر ہے۔ جب آپ کے گھر آئے گی تو پھر آپ اعتراض کرنا۔ اسی بات کو ایشو بناتے ہوئے انہوں نے لڑکے کی کہیں اور شادی کرا دی۔ اور لڑکی والوں کو معاشرے کی باتیں سننے کے لیے چھوڑ دیا۔

لڑکے کی پوری انکوائری کے بعد پتہ چلا کہ اس نے ہر بات پہ جھوٹ بول رکھا تھا۔ نوکری، شہر اور تنخواہ سب غلط بتا رکھی تھی۔ لڑکی والوں نے لڑکے کی تحقیق کی بجائے لڑکے کے باپ کی نیک نامی دیکھ کے ہاں کر دی تھی۔ جب کہ نیک نامی کا پتہ تو لڑکے کا کیا جانا چاہیے تھا۔

نتیجہ

بنا تحقیق کے رشتہ طے کرنے سے نقصان صرف لڑکی والوں نے بھگتا۔ لڑکی کو بوجھ کی طرح اتارنے کی بجائے اس کی پسند ناپسند اور سوچ کا خیال رکھنا ضروری چیز ہے۔ اپنی بیٹیوں کو انسان سمجھنا ضروری ہے۔ شادی تو ہو ہی جاتی ہے۔ لڑکیوں کو کم سے کم اتنی اوئیرنیس ضرور دینی چاہیے کہ وہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کر سکیں۔ کسی کے ہاتھ کھلونا بننے سے بہتر ہے سر اٹھا کے شان سے اپنی زندگی جئیں۔ ہمارا معاشرہ لڑکی کی شادی ٹوٹنے پہ جس قسم کے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ لڑکی جس ٹراما سے گزر رہی ہے۔ اس کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے یہ رشتہ طے کیا اور جنہوں نے توڑا۔ بیٹیوں کے معاملات میں سوچ کو وسیع کیجئیے۔ رشتہ کرتے وقت چھان بین کیجئیے، اور ڈولی اٹھی ہے جنازہ واپس آئے والی سوچ سے چھٹکارا پانے کی کوشش کیجئیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •