اسما نے سات ہزار کے لیے ذلت کیوں سہی؟

کل ملتان میں سکول ٹیچر کے ساتھ ہونے والے واقعے پہ سارا دن پوسٹس لگتی رہیں۔ زیادہ تر نے سکول انتظامیہ کی بے حسی پہ تنقید کی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ چند احباب کی پوسٹس نظر سے گزریں کہ سات ہزار مہینہ پہ نوکری کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ابھی تو صرف اٹھارہ کی تھی۔ اس کا اپنا نالج کیا ہو گا۔ وہ بچوں کو کیا سکھاتی ہو گی۔ کوئی اور کام کر لیتی۔ اور بہت کچھ۔

میں یہ سب پڑھ کے حیران بھی ہوئی اور مجھے دکھ بھی ہوا ایسے لوگوں کی بے حسی پہ۔ کیا ان کی بے حسی بھی سکول انتظامیہ جیسی نہیں، جنہوں نے بچی کو تڑپتے دیکھا لیکن اپنی گاڑی نہیں دی۔ لیکن بعد مرنے کے اسی گاڑی پہ لد کے اس بچی کے قصبے میں افسوس کے لیے پہنچ گئے۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے لیکن یہی حقیقت ہے کہ ہم لوگوں کو بھی آواز اٹھانے، بولنے کے لیے لاشوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم اپنے ارد گرد ہوتی نا انصافیوں کو دیکھتے رہتے ہیں لیکن بولتے تب ہیں جب تک کوئی مر نہ جائے۔

Read more

میرے آٹھ مارچ کے بینر پر کیا لکھا ہو گا؟

مارچ کی آٹھ تاریخ ایسی آئی اور بیشتر مرد و زن کے حواسوں پہ ایسی چھائی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ پورا مارچ ہم آٹھ مارچ ہی سمجھ کے گزاریں گے۔ ویسے ہوا تو کچھ ایسا نہیں کہ لوگوں کی راتوں کی نیندیں اور دن کے چین کھو جائیں۔ لیکن دل کا کیا کریں کہ دل تو بچہ ہے جی۔ عورت مارچ نے معاشرے کے فرسودہ اور عورتوں بارے دقیانوسی اور گھٹی ہوئی سوچ پہ ایسی کاری ضرب لگائی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ان کے کان اب تک شائیں شائیں کر رہے ہیں۔ اور ان کو اپنی آنکھوں پہ یقین بھی نہیں آ رہا کہ وہ ایسا بھی کچھ پڑھ سکتی ہیں۔ کیسا، بھئی یہی کہ اپنی ڈک پک اپنے پاس رکھو۔ ڈک۔ ٹیٹر شپ نہیں چلے گی۔

مجھے تو یہ بینر پڑھ کے اپنے آپ کو کوسنے دینے کا دل کیا کہ ایسا کریں ایکٹو جملہ میرے دماغ میں کیوں نہ آیا۔ مجھے یاد ہے کہ 2005 میں میری ایک قریبی عزیزہ نے بہت ذوق و شوق سے کمپیوٹر لیا۔ اسے سیکھنے کے لئے باقاعدہ ٹیچر رکھی گئی۔ نیٹ کنکشن اس وقت بہت پیچیدہ ہوتا تھا۔ ڈائل اپ وغیرہ کے بعد رو رو کے سپیڈ پکڑتا تھا۔ خیر ایسے ہی سیکھتے سکھاتے انہوں نے یاہو کی آئی ڈی بنائی۔ اور یاہو چیٹ روم میں جانا شروع کیا۔

وہاں ان کی کسی مرد سے مختلف موضوعات پہ بات چیت شروع ہوئی۔ دو چار بار کی بات کے بعد ان صاحب نے کہا کہ ویب کیم پہ بات کرتے ہیں۔

Read more

میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی

پانچ سال پہلے میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی۔ اس کی وجوہات میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ محدود سرکل، محدود وسائل اور محدود سوچ (مجھے لگتا ہے کہ سوچ میں وسعت لانے کے لئے حلقہ احباب کا وسیع اور باشعور ہونا ضروری ہے ) نے مجھے زندگی سے اس قدر باغی کر دیا کہ مجھے زندگی میں کوئی کشش محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔ میں ہمیشہ سے زندگی سے باغی نہ تھی لیکن وقت اور حالات نے مجھے ایسا کر دیا۔

خیر پانچ سال پہلے جب میں نے لاسٹ اٹیمپٹ کی تو مجھے یاد تو نہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ میں نے اپنے آپ کو بہت اذیت دی۔ اور اس کے آفٹر ایفیکٹس بھی مجھے ہی بھگتنے پڑے۔ اس کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ میرے مر جانے سے کیا فائدے ہوں گے یا کس کس کو نقصان ہو گا۔

Read more

مرد بوڑھا نہیں ہوتا، اور عورت بھی آنٹی نہیں بنتی

عمر کو لے کر عورت کے ساتھ دہرا رویہ ہمارے یہاں عام پایا جاتا ہے۔ لڑکی کم عمر اور جوان ہے تو اسے بچی کہہ کے پکارا جائے گا۔ پچیس سے اوپر ہوتے ہی اگر اس کی شادی نہیں ہوتی تو اس کی عمر نکلی جا رہی ہے کہہ کہہ کے اسے نفسیاتی مریض بننے پہ مجبور کر دیا جاتا ہے۔ تیس کراس کرتے ہی وہ عورت سے آنٹی بن جائے گی۔ آنٹی کی اصطلاح کا بھی مت پوچھیں۔ ہمارے یہاں تھرٹی پلس خواتین کو آنٹی کہہ کے پکارا جائے گا، زور لفظ آنٹی پہ ہو گا۔

اس لفظ سے ہمارے یہاں بہت سے نوجوان جنسی حظ اٹھاتے ہیں۔ اس بات کو لکھنے میں کوئی خیالی تصور نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مرد اگر تیس سال کراس کر لیتا ہے۔ تو اس کے لئے لفظ انکل کیوں عام نہیں ہوتا۔ تھرٹی پلس شادی شدہ مرد کو بھی بیس بائیس سالہ لڑکی کبھی انکل نہیں کہتی۔ لیکن دوسری طرف لڑکے ایسا کرتے ہیں۔

Read more

بچوں کی جنسی تربیت کیوں ضروری ہے؟

بچوں کا جنسی استحصال اور ہمارا اس پہ عمومی رویہ بہت عجیب و غریب ہوتا ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ بچے کو اس بات کا اعتماد دیں کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہمیں اس پہ یقین ہے، ہم بچے کو ڈراتے ہیں، بلکہ اسے چپ رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ بچہ جب جنسی طور پہ ہراساں ہوتا ہے تو وہ اندر سے بہت ڈر جاتا ہے۔ اسے یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے، لیکن وہ یہ بات اپنے والدین کو بھی بتانے سے ڈر رہا ہوتا ہے۔

Read more

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے سنیں

دو دن ہو چکے ہیں لکھنے کے لئے نوٹ پیڈ کھولتی ہوں، مگر الفاظ ہی گم ہو جاتے ہیں۔ ذہن جیسے خالی سلیٹ۔ فیس بک کھولتی ہوں تو ان بچوں کی تصویریں سامنے آتی جاتی ہیں۔ دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ بہت ہمت کی کہ چونگی امر سدھو تک تو جا ہی سکتی ہوں۔ چلی جاتی ہوں، مگر بنا ماں باپ کے بچوں کو ملنے یا دیکھنے کی ہمت نہیں جٹا پائی۔ اس کے لئے شاید ہمیشہ گلٹی رہوں گی مگر یہ اس درد سے کم ہی ہو گا جو ان بچوں کو ملنے سے ملتا۔ میں کیوں اتنی حساس ہوں کہ دن میں کئی بار پھوٹ پھوٹ کے روئی۔ رونے میں اس بات کا خیال بھی رکھا کہ بچے روتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ کیونکہ بچوں کے نزدیک میں بہادر ہوں، تو بہادری بھی تو دکھانی ہی تھی۔

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے بہتر کون جان پائے گا۔ میں جسے بہت سے القابات ملتے رہتے ہیں، کبھی بہادر، کبھی مغرور اور کبھی منہ پھٹ۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں بروکن فیملی چائلڈ ہوں۔ اب جب ماں باپ سر پہ نہ ہوں تو رشتے دار کیا سلوک کرتے ہیں مجھے تو آج تک نہیں بھول سکا۔

Read more

فروری میرا پسندیدہ کیوں

بچپن سے مجھے سال کے دو مہینے بہت پسند ہیں، ایک دسمبر اور ایک فروری۔ بچپن میں دسمبری شاعری والا تو کوئی کیڑا نہیں تھا۔ مگر دسمبر کی سردی مجھے بہت پسند تھی۔ اور اب تک ہے۔ فروری کو پسند کرنے کی ایک بنیادی وجہ تو میری سالگرہ کا اس مہینے میں آنا ہے۔ اور دوسرا بسنت کا تہوار اسی مہینے میں منایا جاتا تھا۔ فروری میں جہاں باغوں میں رنگ برنگ کے پھول نظر آتے تھے وہیں آسمان پہ رنگ برنگی پتنگوں اور گڈوں کی تعداد آسمان پہ بھی بہار کا سماں ہی دکھاتی تھی۔

Read more

بیٹی کی شادی پہ ناک اونچا رکھنا ضروری ہے کیوں!

ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ عام طور پہ جیسا سلوک رواء رکھا جاتا ہے، وہ تو صاف نظر آتا ہے۔ لیکن بیٹی کے لئے رشتہ تلاش کرنے سے لے کر اس کی شادی تک والدین جس اذیت سے گزرتے ہیں وہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ پارلر چلانے کے ساتھ ساتھ میں نے کچھ عرصہ قبل رشتے کروانے کا کام بھی شروع کیا۔ اس سارے عرصے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ بچیوں کے رشتے کے لئے ماں باپ پہ کیا گزرتی ہے۔ لیکن کئی جگہوں پہ لڑکی والے بھی ایسی ڈیمانڈز رکھتے تھے کہ حد نہیں۔

لڑکوں کے گھر والوں کی ڈیمانڈ کہ لڑکی خوبصورت ہو کے علاوہ وہ اچھے علاقے میں رہتی ہو، گھر کی گلیاں تنگ نہ ہوں اور فیملی چھوٹی ہو۔ غرض ایسی ایسی باتیں کہ الاماں الحفیظ۔ میں لڑکیوں کے رشتے نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن میں جانا شروع ہو گئی تھی۔ آخر میں نے اس پہ دو حرف بھیج کے یہ کام ہی چھوڑ دیا۔

Read more

اگر پارلر چلانا معیوب ہے تو پھر یہ چلتے کیوں ہیں؟

بچپن میں سنتے تھے ہاتھ سے محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ بچپن کی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ آپ چاہ کے بھی ان کو بھلا نہیں سکتے۔ تو یہ بھی میرے نزدیک ایسی ہی باتوں میں سے ایک بات تھی۔ میں نے ہمیشہ محنت سے کام کرنے کو ترجیح دی۔ کیونکہ مجھے…

Read more

کیا می ٹو کہہ دینا کافی ہے؟

ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے کہ ہر چیز میں ہم نقل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ اسے خود تخلیق کرنے کی کوشش کریں۔ یا پھر کسی بھی کام میں پہل کرنے کی ہمت دکھا پائیں۔ پچھلے دنوں سے سوشل میڈیا پہ ایک مہم زوروشور سے جاری ہے۔ جو کہ…

Read more