احمد بشیر کی ملنگنی

آج جہاں سے میں کھڑی ہو کر احمد بشیر کے بارے میں کچھ کہنے کی ہمت کر پا رہی ہوں، اس کے بارے میں کبھی میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ میں سوچ بھی کیسے سکتی تھی کہ جس کا باہر کی دنیا کے ساتھ واسطہ تھا ہی نہیں۔ میں جب لوگوں کو یہ کہتے سنتی ہوں کہ وہ تو سالوں سے لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی صحبت میں رہ رہے ہیں تو ان سے ایک عجیب سی

Read more

ٹرپل ایکس اور مولانا کے پچاس ارب

معاف کیجئیے گا اگر مضمون کے نام سے آپ کو یہ گمان پیدا ہو کہ شاید کوئی بالغان کے لیے فلم چلنے لگی ہے۔ کیونکہ جن تین ایکسز کی بات مجھے کرنا ہے، انہیں یہ نام جچے گا بھی بہت۔ جب تک ہمیں دنیا کی سمجھ آئی، اس سے پہلے تک ہمارے نزدیک ایکس صرف سابقہ بوائے یا گرل فرینڈ ہی ہو سکتے تھے۔ یا زیادہ ہی تیر مار لیا تھا تو ایکس ہسبینڈ یا وائف۔ حتی کہ زیادہ تر

Read more

میرے پاکستانیو

کبھی کبھی مجھے شدت سے یہ احساس ہوتا کہ ہمارے ملک کے اکیس کروڑ ننانوے لاکھ نوے ہزار لوگ شارٹ ٹرم میموری لوس کا شکار ہیں۔ بچ جانے والے دس ہزار میں سے بھی چند ہی ایسے ہوں گے جن کو باتیں کرنے والوں کی باتیں نہیں بھولتیں۔ کیونکہ وہ نہ تو باتوں میں آتے ہیں نہ ہی یہ گمان رکھتے ہیں کہ ان باتوں میں کوئی سچائی ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہر دوسرا

Read more

ایک رات کا کیا لو گی؟

مارچ کا مہینہ کیا شروع ہوا، ایک ہنگامہ سا بپا ہے۔ یہ ہنگامہ اس ہنگامے سے کہیں بڑھ کے ہے جو کسی کے تھوڑی سی پی لینے پہ برپا ہوتا ہے۔ خدا جانے یہ اختیار خدا سے انسانوں کو کب ودیعت ہوا ہے کہ اب چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو۔ اس کا فیصلہ زمینی خداؤں نے اپنے ہاتھ سے کرنا ہے۔ ہماری بدقسمتی کہہ لیں یا خوش قسمتی کہ ہم انسانوں کی اس جنس سے ہیں، جسے ہر جانب سے

Read more

ہنگامہ ہے کیوں برپا – ایک خط مولانا کے نام

اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ امید واثق ہے آپ مکمل طور خیریت سے ہوں گے ، کیونکہ وطن عزیز میں صرف دو ہی اجارہ داریاں چلتی ہیں۔ ایک تو مذہبی لوگوں کی اور دوسروں کا میں نام نہیں لینا چاہتی۔ سمجھ تو آپ جاویں گے۔ جناب محترم سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے ملک میں گنگا کے الٹی بہتے رہنے کی وجہ آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ جس کا جو کام ہو وہ اس کی بجائے

Read more

غزوہ ہند کی للکار – مسکان سے پاکستان تک

دو دن سے سوشل میڈیا پہ گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ رن بھی ایک رن (عورت) کی وجہ سے ہے۔ انڈیا کی ریاست کرناٹک کی ایک طالبہ مسکان جو یونیورسٹی اپنی سکوٹی پہ پہنچتی ہیں۔ انہیں عبایہ میں دیکھ کر شیو سینا اور چند سٹوڈنٹس ان پہ تنقید کرتے ہیں۔ تنقید کی وجہ ظاہر ہے کہ حجاب تھی۔ ایک طرف جے شری رام کے نعرے لگے تو دوجی جانب لڑکی نے بھی

Read more

میری آواز ہی پہچان ہے گر یاد رہے

آوازوں سے مجھے عشق کس عمر میں ہونا شروع ہوا، یہ تو یاد نہیں۔ ہاں مگر یہ یاد ہے کہ بہت چھوٹی عمر سے ہی جب کبھی بھی سکون کی تلاش ہوتی تو جائے پناہ موسیقی میں ملتی۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو آوازوں کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں۔ آواز کا کنیکشن بہت مضبوط ہوتا ہے۔ آپ لوگ اختلاف رکھ سکتے ہیں۔ مگر میرا یقین اس پہ بہت پختہ ہے۔ آوازوں سے محبت میں مبتلا ہونے

Read more

مرغے کی بانگوں سے جڑی ہماری قسمت

ہم بہت چھوٹے تھے۔ (ہم سے مراد میں ہوں بلکہ میرے ساتھ بھی میں ہوں)۔ اس دور میں کراچی رہتے تھے۔ کراچی میں تو ہمیں ہمیشہ چوزے خریدنے کی خواہش رہتی تھی۔ کیونکہ م مرغ جو ہم قاعدے میں پڑھتے تھے،وہ کہیں نظر نہ آتا۔ سو ہم امی سے ہر وقت ضد لگائے رکھتے کہ ہمیں چوزے لے دیں۔ ہم انہیں پال پوس کے مرغا اور مرغی بنائیں گے۔ یہ الگ بات کہ ہماری قسمت میں ہمیشہ ہی مرغی آتی۔

Read more

خدا کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے عاشق

قیامت کے روز خدا نے آپ سے دو معاملات پہ حساب کرنا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ بچپن سے ہم پڑھتے آئے کہ خدا حقوق اللہ تو معاف کر دیں گے سوائے شرک کے، مگر حقوق العباد کے لیے آپ کو اس انسان سے ہی معافی مانگنی پڑے گی جو دنیا میں آپ کی زیادتی کا شکار رہا۔ جب تک وہ معاف نہ کرے آپ بھلے جنتی قرار پائے ہوں، جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اس بات پہ

Read more

بیٹی کی شادی پہ ناک اونچا رکھنا ضروری ہے کیوں!

ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ عام طور پہ جیسا سلوک رواء رکھا جاتا ہے، وہ تو صاف نظر آتا ہے۔ لیکن بیٹی کے لئے رشتہ تلاش کرنے سے لے کر اس کی شادی تک والدین جس اذیت سے گزرتے ہیں وہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ پارلر چلانے کے ساتھ ساتھ میں نے کچھ عرصہ قبل رشتے کروانے کا کام بھی شروع کیا۔ اس سارے عرصے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ بچیوں کے رشتے کے لئے ماں باپ پہ کیا گزرتی ہے۔ لیکن کئی جگہوں پہ لڑکی والے بھی ایسی ڈیمانڈز رکھتے تھے کہ حد نہیں۔

لڑکوں کے گھر والوں کی ڈیمانڈ کہ لڑکی خوبصورت ہو کے علاوہ وہ اچھے علاقے میں رہتی ہو، گھر کی گلیاں تنگ نہ ہوں اور فیملی چھوٹی ہو۔ غرض ایسی ایسی باتیں کہ الاماں الحفیظ۔ میں لڑکیوں کے رشتے نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن میں جانا شروع ہو گئی تھی۔ آخر میں نے اس پہ دو حرف بھیج کے یہ کام ہی چھوڑ دیا۔

Read more

مائیں اور بچے پیدا کر لیں کیونکہ پہلے والے شہید ہو گئے ہیں

”ماما“ اگر دہشت گرد ہمارے سکول آ گئے تو ہم کیا کریں گے ہمیں تو دیوار بھی ٹاپنی (پھلانگنی) نہیں آتی ” یہ سوال تھا میری چھوٹی بیٹی کا جس نے ٹی وی پہ اے پی ایس سکول حملے کے مناظر دیکھے۔ اس سوال کا جواب میرے پاس آج تک نہیں آیا۔ ایک ماں ایسے سوالوں کا جواب کیسے دے سکتی ہے۔ یہ صرف مائیں ہی سمجھ سکتی ہیں۔ کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بچے کا پہلا تعارف ماں

Read more

مائی ڈئیر ہینڈسم

حضور کا اقبال بلند ہو۔ آپ کی خیریت بھلا کیسے نیک نہ ہو گی۔ کیونکہ جن و انس آپ کو بخیر رکھنے کی ڈیوٹی پہ ہوتے ہیں۔ کاش کبھی کسی جوابی خط میں آپ بھی ہماری خیریت مطلوب کریں۔ گزارش ہے کہ کبھی اگر ایسا کرنے کا خیال آئے، تو خیریت ہی مطلوب کیجئیے گا۔ ہمیں مطلوب افراد کی لسٹ میں مت ڈال دیجئیے گا۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ جنہیں پالنے کی ذمہ داری ابھی کندھوں پہ دھری ہے۔ ذمہ

Read more

ہم عورتیں مال غنیمت ہیں، ہمارے حصے تو لازمی ہوں گے

میں نے لکھنا چھوڑ دیا، اس لیے نہیں کہ مجھے لکھنا نہیں آتا۔ (لکھنا آتا ہے کا دعویٰ بھی نہیں)۔ اس لیے بھی نہیں کہ میں لوگوں کی تنقید یا برے الفاظ سے خوفزدہ ہو گئی ہوں۔ یا پھر مجھے اپنے اوپر کوئی اچھا ہونے کا ٹیگ لگوانا ہے۔ اچھا ہونے کا ٹیگ لگنا بھی خوب رہا۔ آپ اپنے بیڈ روم میں جو ہیں وہ آپ اپنے ڈرائنگ روم میں نہیں ہو سکتے۔ لوگوں کو ایسا کرنا پسند ہے۔ میں

Read more

اگر لباس کا تعلق ریپ سے ہے تو پھر کانفیڈنس کا تعلق اعتماد سے کہنے پہ سیخ پا کیوں ہیں؟

دو تین دن سے سوشل میڈیا پہ ایک شور مچا ہے۔ بظاہر پڑھے لکھے لوگ بھی پروفیسر ہود بھائی کے ایک وڈیو کلپ کو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں کہ ہود بھائی نے جو سٹیٹمنٹ دی ہے۔ وہ تعصب پہ مبنی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان کے اس بیان پہ بات کریں۔ پہلے ہم شخصی آزادی اور اس کے احترام پہ بات کر لیتے ہیں۔ میرے نزدیک بطور انسان ہر وہ فرد جو بنا کسی

Read more

دو عورتیں، دو کہانیاں، دو دھوکے

یہ کہانی میری جاننے والی لڑکی کی ہے۔ فریحہ کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے۔ کام کے حوالے سے میری اس کے ساتھ مہینے میں دو بار لازمی ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دن اس نے بتایا کہ اس کا نکاح ہے۔ لڑکا رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا ہے۔ لڑکی کے گھر والے بڑی مشکل سے شادی کے لیے مانے ہیں۔ جب کہ لڑکے کی فیملی نہیں مان رہی۔ نکاح میں لڑکے کے دوست ہی شرکت کریں گے۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی لیکن میں نے سوچا کہ لڑکی پڑھی لکھی سمجھدار ہے۔ اس نے سوچ سمجھ کے فیصلہ کیا ہو گا۔

Read more

ہم فیمینیسٹ عورتیں

عورتوں کے ساتھ مسلسل ہونے والی زیادتیوں میں اتنی بے شمار چیزیں آ جاتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا پہلے کس پہ آواز اٹھائیں۔ ہراسمنٹ پہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو اچانک سے ریپ کیس سامنے آ جاتے ہیں۔ ریپ پہ بات کر رہے ہوں تو گینگ ریپ سننے میں آ جاتا ہے۔ اس کے بعد قتل چاہے وہ ریپ کے بعد قتل ہو یا پھر غیرت پہ ہو، پسند کی شادی جرم ٹھہرے یا پھر گول روٹی نہ

Read more

گم نام پتوں پہ بھیجے گئے خط جن کے جواب نہیں آتے

پیارے ابو جی

کیا خیر اور کیا خیریت معلوم کروں۔ آپ وہاں ہیں جہاں سے کچھ خبر نہیں آتی۔ میں جہاں ہوں مجھے اپنی ہی خبر نہیں ہے۔ کئی راتوں سے ٹھیک سے سو نہیں پا رہی۔ سونے لگتی ہوں تو وہ غلطیاں سامنے آ کے ناچنے لگتی ہیں جن کو کرنا میرا نصیب یوں ٹھہرا، کہ آس پاس کوئی اپنا نہیں تھا۔ جب بچہ ہوش کی دنیا میں آتا ہے تو ماں کی گود کے ساتھ ساتھ باپ کی شفقت بھی اس کے لیے اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔

پدرانہ شفقت جسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں چھوٹے چھوٹے قدموں سے اتنی دور تک نکل جایا کرتی تھی کہ حساب نہ رہتا تھا۔ حساب ویسے ہی کمزور ہے۔ شاید محبت اور شفقت کی کمی ایسے ہی بندے کا حساب کمزور کر دیتی ہے جیسے میرا ہے۔ پیروں میں چکر پڑنا ایک مثال سہی مگر میرے پیروں میں پڑے بھنور آپ کے دنیا سے جانے تک ختم نہ ہوئے۔

Read more

! مائی ڈیر پرائم منسٹر صاحب

امید واثق ہے کہ آپ ساتھ خیریت کے ہوں گے ۔ اللہ ہمیشہ خیر ہی رکھے مگر حضور میں نے آج آپ سے کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔ آپ ماشا اللہ سے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی دنیا میں ایک جانی مانی ہستی تھے۔ ایک مشہور کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے سکینڈلز اور آپ کی چھوٹی چھوٹی نیکر پہنے دنیا کے مشہور ساحلوں پہ مختصر لباس پہنے خواتین کے ساتھ تصاویر بھی بہت مشہور تھیں۔ تعلیم بھی آپ نے

Read more

ایک خط جو کبھی لکھنے والے کو مل نہیں سکے گا

پیارے نانا ابو اسلام و علیکم میں اتنی ٹھیک تو نہیں جتنا ٹھیک آپ مجھے دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتی ہوں۔ اس جملے پہ آپ کو اعتراض ہو جانا ہے۔ یاد ہے آپ کہتے تھے کہ یہ جملہ درست نہیں ہے۔ آپ کہتے تھے یا تو خیریت چاہتی ہوں لکھو یا پھر خیریت مطلوب ہے لکھو۔ اور میں کہتی تھی کہ آنے والے خطوں میں تو یہی لکھا ہوتا ہے۔ جواباً جیسی گالی اور گھوری

Read more

آپ کو اگر سکرین شاٹ پسند نہیں تو سکرین شاٹس بنانے کا سامان مت بھیجیں

آگے چلتے ہیں موبائل فون و انٹرنیٹ آ گیا۔ موبائل فون پہ اے ایس ایل کے میسجز ملنا تو معمول کی بات تھی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ایک تو مجھے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ کیا بلا ہے۔ دوسرا میسج رپلائی کرنے کے لیے بیلنس بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار میں نے جواباً پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو آگے سے جو جواب آیا تب مجھے سمجھ لگی کہ یہ بھی رانگ کال جیسی چیز ہے۔ یقیناً اب میں دنیا کی واحد لڑکی تو نہیں جو اس سے گزری۔

کمپیوٹر لیا تو انٹرنیٹ استعمال کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ کا سو روپے کا کارڈ لینا بھی مشکل ہوتا تھا۔ اب آپ انٹرنیٹ کھول رہے ہیں۔ آگے الگ ہی دنیا ہے۔ یاہو میل پہ دو چار میسیجز کی چیٹ کے بعد آپ کو میسج ملے کہ فگر تو بتاؤ۔ برا کا سائز کیا ہے۔ سیکس کتنے دن بعد کرتی ہو۔ (میں معذرت خواہ ہوں مگر مجھے یہ کھل کے لکھے بنا سمجھانا نہیں آتا) ۔ اب ایک ایسی لڑکی جسے کنویں سے نکل کے شہر دیکھنا ہے۔ اس کی کیا حالت ہوتی ہو گی۔ یقیناً یہاں بھی میں واحد لڑکی نہیں ہوں گی دنیا میں۔

Read more

فیمینزم مرد سے نفرت نہیں مرد سے خود کو انسان منوانا سکھاتا ہے

وہ بس بارہ سال کی ایک بچی تھی۔ بدقسمتی سے ایک مہینہ پہلے ہی اسے پیریڈز شروع ہوئے تھے۔ اگلے مہینے جب وہ گلی میں بچوں کے ساتھ بنٹے کھیل رہی تھی۔ اسے گھر لا کر نہلا دھلا کے تیار کر دیا گیا۔ پتہ چلا اس کا رشتہ طے ہو گیا۔ چند دنوں میں کچھ ضروری ساز و سامان تیار کیا گیا۔ زیور کا سیٹ ماموں نے دیا۔ مشہور زرگر جو تھے۔ کیسے نہ دیتے۔ مل ملا کر چیزیں بن گئیں اور چند دنوں میں ہی شادی کا دن آ گیا۔ پھپھی کی شادی بھی ساتھ ہی طے ہوئی۔

رشتے طے کرنے والے بہت سیانے تھے۔ بھتیجی کے لیے جو خاوند چنا وہ عمر میں اس سے دوگنا تھا۔ پھپھی کے لیے لیے جو خاوند چنا وہ اس سے عمر میں کئی سال چھوٹا تھا۔ شادی ہو گئی۔ اور شادی کی پہلی رات اس بچی نے اپنے خاوند کو پہلی بار دیکھا۔ اور فرمائش کی کہ وہ اپنا موجودہ کام چھوڑ کے کوئی اور کام کریں۔ اس کی سہیلیاں مذاق اڑاتی ہیں۔ خاوند نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سامان باندھا۔ خط لکھا۔ اور گھر سے چلا گیا۔ بچی چپ کر کے سو گئی۔ صبح دم جو ہنگامہ ہوا وہ الگ۔ بچی قصوروار کہ خاوند سے کیا کہا ہو گا جو وہ چلا گیا۔ قصہ مختصر دو سال بعد خاوند کو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لایا گیا۔ تا کہ وہ اپنی آنے والی نسل کی بربادی کا بیج بو سکے۔

Read more

رضامندی کے بغیر سیکس ریپ ہے: یہ بات آپ کو سمجھنی ہو گی

ہمارا موجودہ سماج ایک ایسے دوراہے پہ کھڑا ہے کہ جہاں یہ سوچنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے کہ سماج میں عورت کا کردار کیا ہے۔ اس کے حقوق کیا ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا عورت اپنے متعلق خود کوئی فیصلہ لے سکتی ہے یا نہیں۔ جہاں ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے کا مطلب صرف سیکس کی آزادی سمجھا جاتا ہو، وہاں آپ کیا یہ توقع کر سکتے ہیں کہ اس عورت سے سیکس

Read more

عورت مارچ سے آپ خوفزدہ کیوں ہیں؟

پہلی بار 1908 میں پندرہ سو عورتیں مختصر اوقات کار، اچھی اجرت اور ووٹنگ کے حق کے مطالبات منوانے کے لیے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کرنے نکلیں۔ ان کے خلاف گھڑ سوار دستوں نے کارروائی کی۔ گھوڑے کی ٹاپوں تلے انہیں کچلا گیا۔ گرفتار کیا گیا۔

1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا عالمی دن منانے کے حوالے سے ایک قراداد منظور کی اور اسی سال اٹھائیس فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا۔ انیس سو تیرہ تک یہ دن فروری کے آخری اتوار کو منایا جاتا رہا۔ اور پھر انیس سو تیرہ میں آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ طے کیا گیا۔ تب سے ہر سال یہ دن عورتوں کے نام منسوب ہے۔

Read more

ہزار سال جینے کی دعا دے کر ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے؟

زندگی بڑی عجیب سی شے ہے۔ کبھی یہ بے مقصد لگتی ہے، اور کبھی لگتا ہے کہ ہم ہی وہ بیل ہیں جس نے دنیا کو اپنے سینگوں پہ اٹھا رکھا ہے۔ ہم نہ ہوں تو جانے کیا ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم بہت سوں کے لیے بہت ضروری و اہم بھی ہوتے ہیں۔ مگر ایک وقت کے بعد کسی کو ہماری ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے کہ میں ہوں، اور میں نے تو جب سے سوچنا شروع کیا ہے

Read more

یہ خط آپ کو یاد رکھنا پڑے گا

حقیقت یہ ہے کہ میں نے جب محبت اور عشق کو محسوس کیا تو آپ کے ساتھ محسوس کیا۔ یہ سوچ کے ہی سانس بند ہوتا تھا کہ اگر شادی نہ ہوئی تو کیا ہو گا۔ پھر شادی اور شادی کے بعد کی زندگی۔ آپ کو میرا پروپوز کرنا اور پہلا بوسہ بھی یقیناً یاد ہو گا۔ ہوں تو میں شروع سے ہی لفنٹر۔ جو دل میں آئے کر لیتی ہوں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کے بہت سے سبق آپ نے مجھے سکھائے۔ ایک طرح سے میرے استاد بھی ہیں۔ مگر ہمارا واحد اتفاق صرف احمد بشیر پہ ہوتا ہے، وہ بیک وقت ہم دونوں کو پسند ہیں۔ اور شاید یہ واحد پسند ہے جو ہماری مشترک ہے، ورنہ میں مغرب اور آپ مشرق ہیں۔

Read more

بچہ آپ کا غلطی کرے اور ذمہ دار لبرلز ٹھہریں؟

وطن عزیز کی فضا ایسی بن چکی ہے کہ ابھی آپ سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ فلاں موضوع توجہ مانگتا ہے۔ اس پہ کچھ کہنا چاہیے۔ اتنی دیر میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ پچھلے واقعے کو چھوڑ کے اگلے واقعے پہ توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔ پورا ملک چھوڑ، پوری دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ٹویٹر کھولیں، اور ساری دنیا کی خبریں آپ کے سامنے۔ لو جی ہو گئے آپ باخبر۔ یونہی پچھلے دنوں ایک خبر

Read more

کالے جادو کا اثر یا نفسیاتی مسائل

درختوں پہ تعویز باندھنے ہوتے یا قبرستان میں جا کے کبھی بکرے کا دل ، کبھی سوئیاں لگی گڈے گڈیاں دفن کرنی ہوتیں۔ میں ہی یہ کام سر انجام دیتی۔ میں آج سوچتی ہوں کہ میں اس وقت بھی کس قدر نڈر تھی کہ جب میرے ساتھ میری دوست ساتھ دینے کے لیے جاتی تھی تو وہ قبرستان کے دروازے پہ کھڑی ہو کے سورتیں پڑھ پڑھ کے خود پہ پھونکتی رہتی اور میں جو چھری سے تازہ قبر کے دل والے مقام کو کھود کے اس میں دی گئی چیز دفن کرتی تو مجھے ذرا بھی ڈر نہ لگتا۔

Read more

ہمارے جسموں پہ ہمارا حق رہنے دیں

ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئے۔ ہمیں پیدا کرنے والے بھی ہماری پیدائش کے لیے ضروری عمل کے دوران نہیں جانتے کہ جس نطفے کو دنیا میں لانے کے لیے وہ محنت کر رہے ہیں۔ اسے آخر دنیا میں لانے کا مقصد کیا ہے۔ کیا صرف یہ رعب کہ ہاں دیکھو ہم والدین بن گئے ہیں۔ ہم میں کوئی کمی نہیں۔ ہم مکمل مرد و عورت ہیں۔ یا پھر اپنے بڑھاپے کا ایک سہارا۔ مرنے کے بعد

Read more

محبت کرنے والی ہر عورت تمثال ہے

آج کل یو اے ای یاترا پہ ہوں۔ سوچا تھا یہاں بڑی فرصت رہے گی۔ کتابیں پڑھنے کا بہترین ماحول ہو گا۔ مگر وہ کہتے ہیں ناں، ”دکھ ڈھاڈھے نیں تے جندڑی ملوک“ ۔ بس وہی صورت حال ہے۔ ”میں تمثال ہوں“ آنے سے پہلے ان کتابوں میں شامل تھی۔ جو میں ساتھ لائی۔ چار دن ہوئے ایک ہی نشست میں کتاب ختم ہوئے۔ اور چار دن سے میں اس کے اثر میں ہوں۔ کئی بار کتاب کھولی۔ پڑھی، ہائی لائٹ کیا۔ اور پھر اس پہ سوچتی رہی۔ مجھے کتاب اور فلم دونوں کا اثر دیر تک محسوس ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے، یا پڑھے۔ جنہوں نے اپنے متعلق خطرناک حد تک سچ لکھا ہو۔ تمثال ان میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ انہوں نے جس بے باکی سے اپنی محبتوں کو تسلیم کر کے سفاکی کی حد تک سچ بیان کیا ہے۔ وہ قابل داد ہے۔

Read more

دوسروں پر رعب جھاڑنے والے کتب بین

جب میں نے قرآن اور لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تب میں نے واپس کراچی جانا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور کہا۔ میں نے آپ کو بالکل ایسے ہی سمجھا جیسے میں اپنی بیٹی کو سمجھتا۔ میں نے آپ کو جو بھی پڑھایا، پورے دل سے پڑھایا۔ آپ نے پڑھنا اور سیکھنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہے آپ کو زمین پہ گرا کوئی کاغذ کا ٹکڑا لکھا نظر آئے، اسے پڑھیں ضرور۔ کبھی اس بات پہ غرور مت کریں کہ آپ کو کسی دوسرے انسان سے زیادہ پتہ ہے۔ میرے سکھائے اور بتائے ہوئے پہ کبھی مجھے شرمندہ مت کرنا۔ کبھی کوئی یہ مت کہے کہ توصیف نے ہی یہ پڑھایا یا سکھایا ہو گا۔

یہ سب کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور جسے یہ سب کہا جا رہا تھا وہ چھ سال کی ایک بچی تھی۔ میرے لیے یہ الفاظ میری عمر سے بہت زیادہ بڑے تھے۔ مگر مجھے یہ پتہ تھا کہ جو بندہ یہ الفاظ کہہ رہا ہے، وہ بہت اچھا ہے اور اس وقت تک وہ میرے فیورٹ انکل بھی بن چکے تھے۔

Read more

تہواروں کو تہوار ہی سمجھیے ایمان ناپنے کا پیمانہ نہیں

میری عمر کوئی آٹھ سال ہو گی جب میں پہلی بار گاؤں رہنے کے لیے گئی۔ مجھے مہینوں کے نام اور ان کی سمجھ بہت بعد میں لگی۔ مجھے بس تہواروں کے نام سے پتہ چلتا کہ اب میں نئے کپڑے پہنوں گی۔ ممانی کی ایک کرسچن سہیلی بنی ہوئی تھیں۔ مجھے تو تب یہ بھی سمجھ نہیں تھا، کہ کرسچن ہم سے الگ سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ مذہبی شدت پسندی کا رواج آج جیسا نہ تھا۔ وہ اکثر کاموں سے فارغ ہو کے ہمارے گھر آ جاتیں۔ کیونکہ ہمارا گھر ان کی بستی کی طرف جاتے رستے میں پڑتا تھا۔

Read more

میرے پاس کوئی ڈرائی کلیننگ مشین نہیں

بعض اوقات مجھے لگتا ہے کہ لکھنے کی عادت بھی ایک بیماری ہے۔ آپ لکھتے کیوں ہیں؟ کیونکہ آپ سوچتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کرتے ہیں۔ آپ چیزوں کو اپنے سامنے ارتقائی مراحل طے کرتے دیکھتے ہیں۔ پھر آپ وہ لکھتے ہیں جو بالکل کلیئر ہو۔ کلیئر سوچنے کے لیے آپ کا اپنے آپ کو بھی کلیئر کرنا ضروری ہے۔ سوچ کے نظریات کے حوالے سے ہم سنتے آئے ہیں۔ کہ جی ایک رائٹ ونگ ہوتا ہے۔ ایک لیفٹ ونگ ہوتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک وچ کارلا (درمیانہ، مجھے پنجابی لفظ زیادہ بہتر لگا) ونگ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو کبھی لیفٹ کی سائیڈ پہ ہو جاتا ہے۔ کبھی رائٹ کی سائیڈ پہ ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ جدھر بھی ہوتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں ان کے مفاد اسی ونگ سے جڑے ہوتے ہیں۔

Read more

اس سال قرضہ نہیں، صحت پہ توجہ دیں

کوویڈ 19 کی وبا نے جس طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ آنے والی نسلیں یقیناً اس وبا اور اس سے ہونے والی تباہی کے متعلق پڑھ کے سبق سیکھیں گی۔ کوویڈ 19 نے جہاں ایک طرف انسانی جانیں لیں۔ وہیں ملکوں کی معیشت بھی اس سے تباہ ہوئی۔ تھرڈ ورلڈ کنٹریز کی معاشی حالت تو پہلے ہی کوئی خاص بہتر نہیں تھی۔ مگر اس وبا نے تو برا حال کر دیا۔ مسلسل لاک ڈاؤن، کاروبار بند ملکی

Read more

چار سال کی بچی سے شادی بھی جائز ہے اور ریپ بھی

پہلی پریگنینسی ہوئی۔ تو ساڑھے تین ماہ بعد پتہ چلا کہ بچہ تو پیٹ میں ہی مر چکا ہے۔ زہر پھیل چکا ہے۔ ڈی این سی ہو گی۔ پہلے بچے کے مس کیرج کا غم وہ سمجھ سکتے ہیں۔ جنہوں نے اس صورتحال کو سہا ہو گا۔ دوسری پریگنینسی اس واقعے کے پونے دو سال بعد ہوئی۔ پہلے سے زیادہ احتیاط کرنے کو کہا جاتا۔ دل میں وہم پڑا رہتا۔ چھٹے مہینے کا الٹرا ساونڈ ہوا۔ تو نرس نے چپکے سے پوچھا۔ پہلا بچہ ہے۔ میں نے کہا جی۔ کہتی بیٹی ہے۔ مگر سسرال میں مت بتانا کہ بیٹی ہے۔

میری سمجھ دانی ایسی باتوں کو سمجھنے کے لیے بہت چھوٹی تھی۔ پہلے خاوند کو بتایا۔ انہوں نے تو کہا مجھے تو بیٹی ہی چاہیے تھی۔ سسرال میں چونکہ ہر چیز نیلی بنائی جا رہی تھی۔ تو جب بیٹی کا پتہ چلا تو واضح طور پہ ناپسندیدگی جتلائی گئی۔ بلکہ یہ تک کہا گیا۔ کہ فلاں سورت پڑھتی تو بیٹا ہوتا۔ موضوع یہ نہیں ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ بیٹا تھا یا بیٹی۔ موضوع یہ ہے کہ اگر مجھے علم ہوتا ہے کہ میں کس معاشرے میں بچہ اور وہ بھی بیٹی پیدا کر رہی ہوں۔ تو خدا کی قسم میں اسے خود ابارٹ کروا دیتی۔

Read more

میرے کتبے پہ میری حسرتوں کی فہرست لکھی جائے

موت سے کسے مفر ہے۔ ہر جاندار نے ایک نہ ایک دن مر جانا ہے۔ جو بھی اس دنیا میں آیا۔ اسے اس دنیا سے جانا ہی ہے۔ موت واقعی ہی زندگی کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے۔ بقول جون ایلیا کتنی دلکش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے موت کے نام سے مجھے بس یہی سمجھ آتا ہے کہ کسی دن چلتے پھرتے، سوئے ہوئے، سفر کرتے یا

Read more

ہندو عیسائی لڑکیوں کو مسلمان کرنے کا شوق و توہین کے پرچموں کے سائے

وطن عزیز میں جہاں آج کل پی ڈی ایم کے جلسوں اور خان صاحب کے منہ پر ہاتھ پھیر کے دھمکیاں دینے پہ بحثیں چل رہی ہیں۔ وہیں دوسری جانب ملک میں مذہبی شدت پسندی کی حالیہ و مستقل لہر منہ زور گھوڑے کی طرح آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ کہ اس مہینے ایک تو حضرت محمد ﷺ کی دنیا میں آمد کی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ دوسری جانب شادیاں بھی عروج پہ ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شادی کا واقعہ ایک دم سے عوام کی توجہ لینے میں کامیاب ہوا۔ تیرہ سالہ مسیحی لڑکی آرزو راجہ اور چوالیس سالہ اظہر کی شادی۔ شادی پہ ہم جیسوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن فورس کنورژن کے بعد غیر مسلم لڑکیوں کی عمر رسیدہ مسلمانوں سے شادی پہ اعتراض ضرور بنتا ہے۔

Read more

کیا نانی ہونا گالی ہے

میرا بچپن روایتی بچپن جیسے ہی گزرا ہے۔ بس فرق یہ تھا کہ میرے بچپن میں ہمارے ساتھ ددھیالی رشتے نہیں تھے۔ جن کی کمی ہمیں ہر اس وقت محسوس ہوتی۔ جب کسی سہیلی یا کلاس فیلو سے سننے کو ملتا۔ کہ آج ہماری دادی نے یہ گفٹ دیا۔ آج ہمارے گھر پھپھو آئیں۔ ہمارے چاچو نے آئس کریم کھلائی۔ اور دادا نے پاپا کی ڈانٹ سے بچایا۔ جب کبھی ایسی کہانی کوئی بھی سناتا۔ میرے اندر ایک عجیب سی

Read more

سچ بولنا فحش گفتگو میں شمار ہوتا ہے

آپ رات کو سوئے ہیں۔ اچانک آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی قمیض میں کچھ سرسرا رہا ہے۔ خوف اور ڈر سے آپ چیخ مارنے لگیں تو ایک ہاتھ آپ کا منہ زور سے دبا دے۔ اور کان میں سرگوشی ہو کہ یہ میں ہوں انکل طاہر۔ سوچئیے۔ بیوی جو اس مرد کا چوتھا بچہ پیٹ میں لیے آخری دنوں پہ ہے۔ اسی کمرے میں سو رہی ہے۔ ایک کونے میں جوان سالا سو رہا ہے۔ اور سالی کی بھانجی جو اس کی بیوی کی خدمت کے لیے آئی ہے کہ چھلا کٹوا دے۔ اس پہ گندی نیت رکھ لو۔

آنٹی کو بتانے لگی تو ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ سوچا کہ ٹھیک ہوں گی تو بتاتی ہوں۔ مگر پتہ چلا کہ انکل نے کہہ دیا کہ نوشی رات سب کے سونے کے بعد میرے پاس آ جاتی ہے۔ کہ مجھے آپ اچھے لگتے ہیں آپ کے ساتھ سونا ہے۔ اب میں تو اسے اپنی بیٹی سمجھتا ہوں۔ تم بتاؤ کیا کیا جائے۔ سوچئیے ایک پندرہ سالہ لڑکی نے اس سازش کا کیسے مقابلہ کیا ہو گا۔ مگر نہیں آپ کہہ دیں گے کہ میں گئی ہی کیوں۔ نہ میں جاتی نہ یہ ہوتا۔ کیونکہ میں گئی تو قصور میرا ہے معاشرہ تو بہت اچھا ہے۔ اس کی بڑی روایات ہیں۔ سنئیے مزید روایات سنئیے اور سر دھنیے۔

Read more

اپنی مرضی سے جینے کا مطلب صرف سیکس کی آزادی مانگنا نہیں

روزانہ کی بنیاد پہ بچوں اور خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات نے دل میں ایک خوف سا بٹھا دیا ہے۔ خوف ریپ ہو جانے یا مار دیے جانے کا تو ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ خوف بھی ہے کہ پھر معاشرہ کیا سلوک کرے گا۔ یہ خوف پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی خواتین میں محسوس کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک غیر ملکی سروے نظر سے گزرا۔ جس میں پوچھا گیا کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے لیے دنیا سے مرد غائب ہو جائیں۔ تو عورتیں کیا کرنا چاہیں گی۔ کوئی کمنٹ ایسا نظر سے نہیں گزرا۔ جس میں یہ کہا جاتا کہ ہمیں سیکس کی آزادی چاہیے۔ اپنی مرضی کے کپڑے پہننے، رات میں باہر پھرنے، اکیلی سڑک پہ واک اور بنا خوف کے گھومنے جیسی خواہشات تھیں۔ میں خود یہ کہتی ہوں۔ کہ میں پاکستان سے باہر اس لیے جانا چاہتی ہوں۔ کہ اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکوں۔ اور بنا خوف سڑکوں پہ واک کروں یا ڈانس کروں۔ کوئی رک کے گھورنے یا فحاشی کا الزام لگانے والا دور دور تک نہ ہو۔

Read more

عورت کی انگیا میں جھانکنا ضروری کیوں؟

چند سال پہلے جب پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ دوسرے چینلز بھی ٹی وی کی سکرین پہ نظر آنا شروع ہوئے۔ تو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ خبروں کے لیے اب اگلے دن کے اخبار یا پھر رات نو بجے کے خبرنامے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جیو کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے دنوں میں مختاراں مائی کے کیس کی کوریج اور تجزیوں کو سننے کا جو مزہ میں نے محسوس کیا تھا۔ وہ ناقابل

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

اگلے جنم مجھے موہے کھسرا نہ کیجیو

ماموں کی شادی تھی۔ ہم لوگ کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آئے۔ یہ میری چار پانچ سالہ زندگی کی پہلی شادی تھی۔ اس سے پہلے میں نے شادیاں بس فلموں میں دیکھی تھیں۔ وہ بھی ہندوستانی فلموں میں کہ جس میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو مالا پہنا کے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے۔ پنجاب کی شادیاں جیسے ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر بھی وہی ماحول تھا۔ نانی اماں بہت خوش تھیں۔ کہ بیٹوں میں سے ان کے

Read more

ہیلو ریپسٹ! سنو اے گھٹیا انسان!

خط لکھنے کے آداب میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خط شروع کرنے سے پہلے میری پیارے /پیاری یا کوئی بھی محبت کا اظہار کرتا لفظ لکھنا چاہیے۔ تا کہ خط پڑھنے والے کو ایک خوشی کا احساس ملے۔ مگر ایک ریپسٹ کو پیارے ریپسٹ لکھنا بہت عجیب سی بات ہو گی۔ ویسے بھی میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں تمہارے لیے کوئی ایسا لفظ کہوں۔ جسے سن کے تم خوشی محسوس کرو۔ میں تمہارے لیے وہ لکھنا چاہوں گی۔ جسے پڑھ کے کم سے کم تم شرمندگی تو محسوس کرو۔ یہ بھی نہیں تو تمہیں یہ اندازہ تو ہو کہ لوگ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ نفرت کا احساس تمہیں محسوس ہونا چاہیے۔

ریپ سے متعلق میری پہلی واقفیت ہندوستانی و پاکستانی فلمز سے شروع ہوئی۔ ریپ کے سینز میں ہیروئن کی ساڑھی کھلتے ہی ہمیں کمرے سے نکال دیا جاتا۔ یا پھر فلم فارورڈ کر دی جاتی۔ پاکستانی فلموں میں ولن ہیروئن کی بہن کو اٹھا لے جاتا۔ اور ہوا میں ایک دوپٹہ سا لہرا کے دکھایا جاتا۔ اور پھر پھٹے کپڑے اور زخمی چہرے کے ساتھ ایک لڑکی سکرین پہ نظر آتی۔ تب سے دماغ میں یہ بیٹھ گیا۔ کہ لڑکی کو ہمیشہ مرد سے بچ کے رہنا چاہیے۔ عمر بڑھی تو بہت سی چیزوں کے شعور کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ ریپ کیا ہوتا ہے۔ اور ریپسٹ کون ہوتا ہے۔

Read more

خط ان مردوں کے نام جن کے لیے عورت بس گوشت کی دکان ہے

آداب عرض ہے!

ایسے تمام مردوں کو میرا آداب جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں اور اسے جسم سے نکل کے اسے ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں۔ اور ایسے تمام مردوں کو جو عورت کو سوائے گوشت کی دکان کے کچھ نہیں سمجھتے، میری طرف سے جواب ہے۔ اچھا گوشت کی دکان تو سمجھتے ہیں۔ مگر اس کے لیے بھی استعارے رکھے ہوئے ہیں۔ کم عمر ہے تو چکن۔ درمیانی عمر اور چھریرے بدن کی ہے تو چھوٹا گوشت۔ اگر زیادہ عمر اور جسامت میں بھاری ہے تو بڑا گوشت کہلائی جاتی ہے۔

آپ نے کبھی سنا کہ کسی عورت نے کبھی مردوں کے متعلق ایسے الفاظ کہے ہوں۔ کبھی کسی عورت نے مرد کو دیکھ کے فحش اشارے کیے ہوں۔ یا پھر بنا اجازت چھونے کی کوشش کی ہو۔ کبھی عورت نے کسی مرد کو گزرتے دیکھ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ کھجانا شروع نہیں کیا۔ یہ خارش بس مردوں کو پڑی ہے۔ اور زئی بان (خارش کا ایک مرہم) سے بھی ٹھیک ہونے والی نہیں۔

Read more

ہمارے بچپن کا محرم صرف شیعوں کا نہ تھا

یوں تو مجھے اسلامی مہینے اب جا کر کہیں یاد ہوئے ہیں۔ مگر بچپن میں بس دو ہی مہینوں کا پتہ ہوتا تھا۔ رمضان اور محرم۔ رمضان میں روزوں کے لیے اہتمام کرتے ہوئے بڑوں کو دیکھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی خاص مہینہ ہے۔ اور خوشی یہ ہوتی تھی کہ عید آئے گی تو نئے کپڑے جوتے اور عیدیاں ملیں گی۔ محرم میں یکم محرم سے دس محرم تک امی اور خالائیں ہر چیز پہ پابندی لگا دیتیں۔ وی سی آر پہ فلمیں دیکھنا بند ہو جاتا۔ ڈیک پہ گانے نہ چلتے۔ اور ٹی وی پہ سوائے کارٹون کے ہمیں دیکھنے کو ویسے ہی کچھ نہ ملتا تھا۔

میں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کراچی گزارا ہے۔ کچھ گاؤں اور زیادہ تر لاہور۔ میں آج اپنے بچپن کا دور یاد کرتی ہوں۔ تو یاد آتا ہے کہ اس وقت لوگوں کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام تھا۔ لاہور ہمارے محلے میں ایک گھر شیعوں کا تھا۔ تو محرم کے دنوں میں خاص خیال رکھا جاتا کہ ان کی دل آزاری نہ کی جائے۔

Read more

ایک باپ کو کیسا ہونا چاہیے

ہمارے معاشرے میں والدین اولاد کی شادی تو کر دیتے ہیں۔ مگر وہ اولاد کی اس نہج پہ تربیت نہیں کرتے۔ کہ بطور زوجین اور بطور والدین ان کو کیسا ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے۔ اس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ لکھا جاتا ہے۔ اور ہم سب کہیں نہ کہیں لکھتے رہتے ہیں۔ مگر بطور والدین ہمیں کیسا ہونا چاہیے۔ بچہ پیدا کرنے سے لے کر اسے بڑا کرنے تک ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ ہمیں معاشرے کو ایک صحت مند اور باشعور شہری دینا ہے۔ تو اس کے لیے ہمیں کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہمیں کن باتوں پہ عمل کی ضرورت ہے۔

میں ہمیشہ سے جب بھی کسی باپ کو اپنی اولاد سے محبت برتتے دیکھتی تھی۔ تو میرے ذہن میں ایک سوال ہوتا تھا۔ میرا باپ کہاں ہے۔ بچپن میں گلی میں کھیلتے جب اچانک سے بچوں نے پوچھ لینا کہ تمہارے ابو کہاں ہیں۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میرا باپ زندہ ہے۔ مگر وہ کہاں ہے۔ یہ سمجھ نہ آتی تھی۔ کراچی گلشن اقبال کی روڈز پہ کتنی کتنی دور تک میں اپنے باپ کو ڈھونڈھنے کی کوشش میں پھرتی رہتی تھی۔ گھر پہنچتی تو ماں سے مار الگ پڑتی۔ مگر میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیتا۔ (بروکن فیملی چائلڈ کو جواب کم ہی ملتے ہیں ) ۔

Read more

ہمارے بچوں کو جینے دیا جائے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ لازم ہو چکا ہے۔ کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھیں۔ کچھ بھی ہو جائے۔ کسی سانحے کسی واقعے پہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ ورنہ آپ کو کون کب کہاں لے جائے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ بطور پاکستان کی شہری میں بالکل چپ رہ سکتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ ماں ہوں تو اولاد کے لیے فکر مندی شاید میری رگوں میں دوڑتی ہے۔ اولاد

Read more

تمہارے نام آخری خط

میرے دوست!

مجھے یقین ہے کہ تم بالکل خیریت سے ہو۔ تمہاری خیریت پتہ چلنا کون سا مشکل کام ہے۔ دنیا گول ہے۔ اور اسی گول دنیا کے چھوٹے سے سرکل میں ہم چند لوگ ایک دوسرے جڑے ہیں۔ ایک دوسرے کی خیر خبر سے کون ناواقف رہ سکتا ہے۔ جب میں نے پہلے تمہارے نام خط لکھا۔ میں بہت سی باتوں سے انجان تھی۔ سچ کہتے ہیں۔ کبھی بھی انسان کو مکمل پرکھے بنا اس کے متعلق کوئی رائے نہیں رکھنی چاہیے۔ بس یہاں آ کے میں مار کھا جاتی ہوں۔ مجھے سب اپنے جیسے دکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جو چند لوگ ہیں۔ ہم شاید عام لوگوں سے مختلف ہیں۔ ہم صاف دل و مخلص لوگ ہیں۔

Read more

اچھی یا بری عورت کا معیار کون طے کرے گا؟

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ پڑھی۔ جس میں کچھ ترقی پسندوں کی جانب سے ایک خاتون لکھاری کو مدعو نہ کیے جانے پہ ایک دوست کے استفسار پہ ان کو بتایا گیا کہ وہ کردار کی اچھی عورت نہیں ہیں۔ ان کے مردوں سے تعلقات ہیں۔ اور یہ کہ ان کے اچھا لکھنے کے باوجود محفل میں ان کو بلانے سے ماحول ٹھیک نہ رہتا۔ جس وقت یہ باتیں کی گئیں۔ اس وقت محفل ناؤ نوش جاری تھی۔

Read more

صبا قمر کی مسجد میں شوٹنگ اور ہیر کے مزار پہ قوالی سننے کا قصہ

عید کے بعد والا ہفتہ اتنا مصروف گزرا کہ سوشل میڈیا پہ چلنے والے بہت سے قصے نظروں سے تو گزرتے رہے۔ لیکن ان پہ کوئی بھی رائے دینا ممکن نہ تھا۔ اب جبکہ فراغت کا دن نصیب ہوا تو سوچا اپنی رائے دے دی جائے۔ سوشل میڈیا پر یہ سننے میں آیا کہ صبا قمر و بلال سعید نے مسجد وزیر خان میں ایک گانے کی شوٹنگ کے لیے کچھ کلپ فلمائے۔ اب مسجد میں نکاح کے سین فلمانے پہ ان پہ سخت تنقید کی گئی۔ پکے سچے مسلمانوں کا موقف یہ تھا کہ مسجد کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اور مسجد کے تقدس کو نقصان پہنچا۔ اور حسب معمول اسلام کو لاحق خطرات گنوائے گئے۔

Read more

مردہ بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہے

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم پدرسری معاشرے کے باسی ہیں۔ یہاں پہ مردوں کی جانب سے عورتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان کے غیرت کے نام پہ قتل، کاری اور ونی جیسی رسمیں اور صرف روٹی گول نہ پکا سکنے پہ قتل جیسی حرکتیں عام ہیں۔ عورتوں کی جانب سے مردوں کے ساتھ ان سب واقعات میں سے سوائے قتل کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بھی بہت کم سنا ہو گا۔ آج تک نہ سنا نہ پڑھا کہ کسی مرد کا قتل غیرت کے نام پہ ہوا ہو۔ جائیداد بچانے کے لیے کسی مرد کی شادی خاندان کی کسی بچی، کسی بزرگ عورت حتی کہ قرآن تک سے کی گئی ہو۔

Read more

وزیراعظم کے نام ایک عام عورت کا خط

اسلام و علیکم

مجھے یقین ہے کہ آپ بالکل بخیر ہوں گے۔ کیونکہ آپ کے چہرے کی تازگی آپ کی خیریت ہشاش بشاش بتاتی ہے۔ میں بالکل بخیر نہیں ہوں۔ نہ ہی میرے جیسے چھوٹے کاروبار کرنے والے میرے دوست اور عوام۔ ہم بخیر کیسے ہو سکتے ہیں کہ جب ہمارے گھروں میں کاروبار کی تباہی کے بعد بھوک اس لیے پورا نہیں ناچی کہ جب تک کچھ نہ کچھ بیچنے کے لیے موجود رہا۔ اس سے گزارا کر لیا۔ یا پھر کسی دوست رشتے دار نے وقت پاس کروا دیا۔ مجھ سمیت میرے تقریباً نو دوست ایسے ہیں جن کی یا تو نوکری چلی گئی یا انہوں نے اپنے کاروبار بند کر دیے۔ اور یہ تعداد ان کی ہے جنہوں نے آپس میں اپنا دکھ شیئر کر لیا۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے یہ بھی نہیں کیا۔

Read more

پنجابی ہونا جرم کیوں؟

میں عام طور پہ کوشش کرتی ہوں کہ ہمیشہ وہ لکھ سکوں۔ جو لکھنے کے لیے مجھے لفظ اور واقعات بنانے نہ پڑیں۔ میں اپنے مشاہدات و زندگی سے حاصل کیے تجربات کی روشنی میں کسی بھی چیز کو جانچتی ہوں۔ میں نے اپنے گھر میں زیادہ وقت اپنے نانا کے ساتھ گزارا۔ اور مجھے فخر ہے کہ ان کی شخصیت کا عکس مجھ میں نظر آتا ہے۔ بچے کی نفسیات اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت متاثر ہوتی ہے۔

Read more

شادی ہر مسئلے کا حل یا مزید مسائل کی وجہ ؟

ہمارے معاشرے میں ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے، شادی۔ اگر آپ کا بیٹا بری صحبت کا شکار ہو گیا ہے۔ کام نہیں کرتا۔ نشے کا عادی ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ والدین کی بات نہیں مانتا۔ تو ان سب مسائل کا ایک حل ہے کہ اس کی شادی کر دی جائے۔ جب بیوی آئے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک آدھ بچہ ہو گیا تو مکمل ٹھیک ہو جائے گا۔ بچی نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔

Read more

مولانا طارق جمیل کے نام ایک بے حیا عورت کا خط

مولانا صاحب اسلام علیکم امید ہے کہ آپ اپنی دعا میں مجھ سمیت پاکستان کی تمام عورتوں کو بے حیا قرار دینے کے بعد بہت زیادہ خیریت سے ہوں گے ۔ میری خیریت آپ کو کیا نیک مطلوب ہو گی کہ میں تو وہ باحیا عورت نہیں جس کے نمبر کے لیے آپ کی ٹیم نے دن رات ایک کیا۔ جس کے رونے نے آپ کو بے چین کر دیا۔ سو کہنا یہ ہے کہ میری طبیعت تو اس دن

Read more

کیا وبا کے دنوں میں محبت سے اچھا کچھ ہو سکتا ہے؟

عام دنوں سے دن تھے۔ عام دنوں سے بھی برے دن تھے۔ کیونکہ ساری دنیا کی بے زاری میرے رویے میں تھی۔ عام دنوں میں پھر بھی مصروفیت رہتی ہے۔ کسی نہ کسی سے ملنا۔ کام کی بھاگ دوڑ رہتی۔ مگر ان دنوں وحشت چھائی تھی۔ تم انہی دنوں نظر آئے۔ نظر تو پہلے بھی آتے تھے۔ مگر اس دن ذرا مختلف نظر آئے۔ بات سے بات جملے سے جملہ گھنٹوں تک وقت کا پتہ نہ چلا۔ ایسا نہیں ہوتا

Read more

کرونا سے پہلے اور بعد کی محبت

اک برہمن نے کہا تھا یہ سال اچھا ہے۔ پر یہ کیسا نئے سال کا سورج طلوع ہوا کہ پوری دنیا کی تاریخ کو بدل کے رکھ دے گا۔ یہ کیسا سال ہے کہ جس میں کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں موت کی دہشت اور کرونا وائرس کا خوف نہیں۔ چین سے ہوتے ہوئے ایران، اٹلی، سپین اور امریکہ سے ہوتا ہوا یہ پاکستان تک بھی پہنچ گیا۔ جہاں پہلے پہل تو اس کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ ہم ہی

Read more

بریسٹ کینسر اور ادھوری عورت

بہت سال پہلے کی بات ہے۔جیو پہ ایک ڈرامہ آیا۔ادھوری عورت کے نام سے۔عائزہ خان فیصل قریشی کی بیوی ہوتی ہے۔اور اسے بریسٹ کینسر ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں اس کی بریسٹ ریموو کر دی جاتی ہے۔ جس دن اس کو سرجری کے بعد ہوش آتا ہے۔ ہاسپٹل میں ہی ہی فیصل قریشی کا رویہ بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے رویے میں سرد مہری رہتی ہے۔ ایک دن عائزہ اسے نوکرانی کے ساتھ دیکھ لیتی ہے۔ اور جب اپنے شوہر سے سوال کرتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے پاس مجھے دینے کے لیے ہے ہی کیا۔ تم اب ایک ادھوری عورت ہو۔ آخر ان کی طلاق ہو جاتی ہے۔ اس ڈرامے نے مجھ پہ اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ مجھے وہم سا لگ گیا۔

Read more

میں ناکام ہوں؛وجہ تم ہو

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو زندگی میں کسی بھی مقام پہ کسی بھی وجہ سے ناکام ہوتے ہیں اور اپنی اس ناکامی کو دوسرے کے کھاتے میں نہیں ڈالتے۔ ہم ناکام ہیں تو وجہ کوئی اور ہے۔ کبھی ہم اس کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ کبھی معاشرے کو۔ کبھی بہن بھائیوں کو اور کبھی ازدواجی رشتے ایک دوسرے کو الزام دیتے رہ جاتے ہیں۔ ہم بہ حیثیت انسان اپنی غلطیاں تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ایک

Read more

عورت کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی ضرورت کیوں؟

اب جبکہ مارچ کا مہینہ قریب ہے۔ تو ملک میں ایک طوفان مچا نظر آ رہا ہے۔ یوں تو مارچ کا مہینہ ہمیشہ سے ہی اپنی باری پہ آ کے چلا جاتا تھا۔ مگر گزشتہ دو سال سے مارچ کی آٹھ تاریخ ملک میں ایک دم سے افراتفری مچا دیتی ہے۔ ویسے تو آٹھ کے ہندسے میں ایسا کچھ نہیں۔ مگر مارچ کی آٹھ تاریخ ہمارے پدرسری سماج کے تن بدن میں آگ بھر دیتی ہے۔ آگ بھی ایسی کہ

Read more

محبتوں سے ڈرتے ہم لوگ

ہم محبتوں سے خوفزدہ لوگ ہیں۔ ہمیں محبت لفظ سے ہی خوف محسوس ہوتا ہے۔ جیسے یہ کوئی اچھوت لفظ ہے۔ جسے بولنے سے ہی ہماری زبانیں ناپاک ہو جاتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بنیادی طور پہ ہمارے ڈی این اے میں ہی کوئی خرابی چلی آ رہی ہے۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اردگرد محبت کا اظہار کرنے والے لوگ نظر آئیں۔ اچھا، نظر نہ آئیں اس کے پیچھے بھی بے شمار توجیحات پیش کر دی جاتی

Read more

عورت ہونا آسان نہیں

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پہ پدرسری معاشرہ ہے۔ جس میں مرد کی مرضی اور حاکمیت پہ چلنا اور اس پہ سر تسلیم خم کرنا عورتوں کے لیے واجب بھی ہے اور ضروری بھی۔ جہاں پہ سر اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے فورا کچلنے کی جلدی کی جاتی ہے۔ جیسے سانپ کو سر اٹھانے سے پہلے اس کا سر کچل کے مارنے کی جلدی ہوتی ہے۔ کہ ہمیں ڈس نہ لے۔ حتی کہ عورت کا سر

Read more

میں بری عورت ہوں کیونکہ میں روایت شکن عورت ہوں

عورت کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد سے سے عبارت ہوتی ہے۔ چاہے وہ کسی بھی رشتے میں ہو، لیکن ایک جہد مسلسل اس کی ذات کا حصہ لازم ہوتا ہے۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے کچھ حصے وہ دکھا دیتی یا بتا دیتی ہے اور کچھ کبھی نہیں بتاتی۔ عورت کو ججمنٹل ہوئے جانے سے خوف آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ معاشرے کا پریشر اور والدین سے گھروں میں ملنے والی تربیت ہے۔ چونکہ بیٹی

Read more

وقت کے ساتھ بدلنے میں ہماری ناک کیوں کٹتی ہے؟

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ بدلاؤ آیا ہے؟ کیا ہمارے بزرگوں نے یہ بدلاؤ تسلیم کیا ہے؟ کیا ان میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئی ہیں؟ یقینا اس کے ردعمل میں آنے والے جوابات ملے جلے ہوں گے۔ کچھ کہیں گے کہ ہاں ہم بدلے ہیں لیکن ہمارے بزرگ نہیں۔ کچھ کے بزرگوں نے اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے خود میں بھی تبدیلیاں کی ہوں گی اور ہو سکتا کہیں پہ

Read more

عورت کے آزادی کے نعروں سے آپ ڈرتے کیوں ہیں ؟

بہت سارے واقعات اس تسلسل سے وقوع پزیر ہوتے ہیں کہ ابھی ایک پہ لکھنے کا سوچتے ہی ہیں کہ دوسرا آ جاتا ہے۔ شروع کرتی ہوں فیض میلے میں لگنے والے سٹوڈنٹس کے نعروں سے۔ نعرے انقلابی تھے۔ جوش سے بھرپور تھے۔ پچھلے سال بھی ایسے ہی لگے لیکن اس وقت ان کو اتنی پزیرائی نہیں مل سکی۔ بلاشبہ اس بار حبہ اور عروج اورنگزیب کے جوشیلے انداز نے ان نعروں اور سٹوڈنٹس کے مطالبات میں ایک نئی روح

Read more

فیض کا فیض اور چند نعرے

فیض فیسٹیول اور سٹوڈنٹس چاہے وہ آپ کے بقول سرخے ہی ہیں۔ ان پہ تنقید کرنے سے پہلے ذرا زمینی حقائق بھی جان لیں۔ آپ کو فیض فیسٹیول ایلیٹ کلاس کے لیے یا فیشن شو لگتا ہے۔ تو پھر آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فیض فیسٹیول پہ ہنستے مسکراتے خوبصورت چہرے، خوبصورت اور اپنی مرضی کے کپڑوں میں ملبوس۔ ہر طرف قہقہے بکھیرتے نظر آئے۔ کوئی ججمنٹل نہیں تھا۔ کسی نے کسی پہ کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔

Read more

سیکس کی خواہش کرنا عورت کے لیے ہی ممنوع کیوں ہے؟

سوال یہ ہے کہ جہاں مرد کو زندگی کے کئی معاملات میں چھوٹ حاصل ہے، جیسے سیکس کی آزادی، شادیوں کی آزادی۔ حتی کہ مرد کے ایکسٹرا میریٹل افئیرز پہ بھی لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرد جو ہوا۔ ایسے مرد کی بیوی کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ کہ کوئی بات نہیں واپس تو گھر ہی آتا ہے ناں۔

بھئی ایسی بات کبھی عورت کے لیے کیوں نہیں سوچی جا سکتی کہ واپس تو گھر ہی آتی ہے ناں۔ خیر سوال یہ ہے کہ مرد تو جب چاہے بیوی کے ساتھ یا جس کے ساتھ بھی چاہے سیکس کرنے کا کہہ کے سیکس کر لیتا ہے۔ لیکن عورت اپنے منہ سے سیکس کرنے کا کہے تو اسے فاحشہ، آوارہ اور بے شرم کیوں کہا جاتا ہے۔ عورت کے سیکس کی ڈیمانڈ کرنے پہ اسے دیدے پھاڑ کے کیوں دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ جب سیکس کی ڈیمانڈ کرنے پہ مرد کو آوارہ اور بے شرم نہیں کہا جاتا تو عورت کو کیوں؟

Read more

بچوں کے رجحانات نظرانداز کر کے ان کی زندگی تباہ مت کریں

آداب۔ امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گی۔ میں آپ کی تحاریر کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہتاہے۔ آپ نہایت عمدگی سے مختلف موضوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ آج آپ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانا چاہتاہوں۔ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گی کہ پاکستان میں ایجوکیشن سسٹم کافی مسائل کا شکار ہے۔ جن پر وقتا فوقتا بحث مباحثہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ایک پوائنٹ جس پر میں

Read more

مردانہ کمزوری اور نفسیاتی رویے!

آداب! امید کرتی ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ خط و کتابت ویسے تو تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ لیکن سوال و جواب کے ان خطوط کا سلسلہ دوستوں کو بہت پسند آیا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ سے خط لکھنے کی فرمائش کر کے مجھے دوبارہ سے ان دنوں کی یاد کروائی ہے۔ جب ہم خط لکھتے تھے اور لیٹر بکس میں ڈال کر خط کا انتظار کرتے تھے۔

Read more

مرد اور عورت ایک دوسرے کے بارے میں پوزیسو کیوں ہوتے ہیں

آداب! امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ پہلے خط میں پوچھے گئے سوال کا آپ نے بہت اچھا جواب دیا۔ امید ہے پڑھنے والوں کو بھی پسند آیا ہو گا۔ معاشرے میں ایسے سوالات اٹھاتے رہنا چاہیے یہ میرا اپنا خیال ہے۔ سوال اٹھانے سے ان کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش ہوتی ہے۔ جب جستجو ہو گی تو شعور بھی بڑھے گا۔ آپ تو ویسے ہی شعور پھیلانے میں جتے رہتے ہیں۔ میں اپنے ارد گرد بہت سی چیزیں ہوتے

Read more

بچوں کے دوست بنیے باڈی گارڈ نہیں

سوال یہ ہے کہ بطور والدین ہمیں موجودہ دور میں اپنے بچوں کے ساتھ کس طرح رہنا چاہیے۔ ہم میں سے بہت سے والدین ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنے بچپن میں بہت سختیاں و پریشانیاں دیکھی ہوں گی۔ یقینا وہ اپنی اولاد کے ساتھ ویسا رویہ نہیں رکھتے جیسا ان کے ساتھ بیت چکا ہوتا ہے۔ لیکن والدین کی نرمی اگر اولاد کو منہ زور اور خودسر بنا دے تو ایسی صورت میں کس طرح کا رویہ اپنایا جائے؟

Read more

درویشوں کے ڈیرہ پہ تاثرات

سب دوست جانتے ہیں کہ بون انجری کی وجہ سے میں آج کل بیڈ ریسٹ پہ ہوں۔ پہلے کچھ ہفتے تو ٹراما میں نکل گئے۔ دوستوں کی مہربانی اور توجہ سے میں دوبارہ نارمل ہونا شروع ہوئی۔ کچھ دن پہلے روشی نے مجھے ایک کتاب دیتے ہوئے کہا کہ یہ پڑھو۔ بدقسمتی سے میں گھر آتے ہوئے کتاب وہیں بھول گئی۔ دوبارہ جانا ہوا تو اس نے کہا کہ کتاب لے کر نہیں گئی تو میں نے کہا دے دو۔

Read more

خوبصورت بننے کا جنون

ہمارے معاشرے میں باڈی شیمنگ کے بعد اسی سے ملتا جلتا ایک اور ایشو عام ہے۔ مجھے اپنے حلقہ دوستاں سے سننے کو ملا کہ لاہور کی لڑکیوں کے چہرے تو خوبصورت ہوتے ہیں لیکن پاوں کالے ہوتے ہیں۔ ایک اور چیز جس کا براہ راست مجھے بھی نشانہ بننا پڑتا ہے کہ لاہور کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں لیکن جب اردو بولتی ہیں تو سارا حسن گم جاتا ہے۔ لہجہ پنجابی ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کا یہ مسئلہ تو ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر نارمل انداز میں ہی بات کرتے ہیں۔ میرے حساب سے اس میں کوئی برائی نہیں کیونکہ اپنے اصل سے پیار اور محبت تو مٹی کا بھی آپ پہ حق ہوتا ہے۔ ایسے ہی کراچی کی لڑکیوں کے رنگ پہ تنقید کی جاتی ہے۔ آخر گورا رنگ ہی کیوں اور کیسے خوب صورتی کی علامت بن گئی۔

Read more

باڈی شیمنگ ہم اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں

میں سمجھتی ہوں یہ رویہ ہماری گھٹی میں اس لیے آتا ہے کہ ہم بچپن میں ہی اپنے ساتھ یا اپنے بڑوں کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ ایسا کرتے دیکھتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ بات لکھوں یا کروں جس کا براہ راست تجربہ میں نے خود پہ سہا ہو یا بالواسطہ یا بلا واسطہ ایسے تجربات کی چشم دید گواہ رہی ہوں۔ دور کیا جانا میں اپنے واقعات ہی بتاتی ہوں اور ان واقعات کے سہنے سے جو میری حالت رہی وہ تو چلو ایک طرف۔ لیکن بتا دینا شاید کسی کے سدھار کا سبب بن جائے۔

Read more

اسما نے سات ہزار کے لیے ذلت کیوں سہی؟

کل ملتان میں سکول ٹیچر کے ساتھ ہونے والے واقعے پہ سارا دن پوسٹس لگتی رہیں۔ زیادہ تر نے سکول انتظامیہ کی بے حسی پہ تنقید کی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ چند احباب کی پوسٹس نظر سے گزریں کہ سات ہزار مہینہ پہ نوکری کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ابھی تو صرف اٹھارہ کی تھی۔ اس کا اپنا نالج کیا ہو گا۔ وہ بچوں کو کیا سکھاتی ہو گی۔ کوئی اور کام کر لیتی۔ اور بہت کچھ۔

میں یہ سب پڑھ کے حیران بھی ہوئی اور مجھے دکھ بھی ہوا ایسے لوگوں کی بے حسی پہ۔ کیا ان کی بے حسی بھی سکول انتظامیہ جیسی نہیں، جنہوں نے بچی کو تڑپتے دیکھا لیکن اپنی گاڑی نہیں دی۔ لیکن بعد مرنے کے اسی گاڑی پہ لد کے اس بچی کے قصبے میں افسوس کے لیے پہنچ گئے۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے لیکن یہی حقیقت ہے کہ ہم لوگوں کو بھی آواز اٹھانے، بولنے کے لیے لاشوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم اپنے ارد گرد ہوتی نا انصافیوں کو دیکھتے رہتے ہیں لیکن بولتے تب ہیں جب تک کوئی مر نہ جائے۔

Read more

میرے آٹھ مارچ کے بینر پر کیا لکھا ہو گا؟

مارچ کی آٹھ تاریخ ایسی آئی اور بیشتر مرد و زن کے حواسوں پہ ایسی چھائی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ پورا مارچ ہم آٹھ مارچ ہی سمجھ کے گزاریں گے۔ ویسے ہوا تو کچھ ایسا نہیں کہ لوگوں کی راتوں کی نیندیں اور دن کے چین کھو جائیں۔ لیکن دل کا کیا کریں کہ دل تو بچہ ہے جی۔ عورت مارچ نے معاشرے کے فرسودہ اور عورتوں بارے دقیانوسی اور گھٹی ہوئی سوچ پہ ایسی کاری ضرب لگائی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ان کے کان اب تک شائیں شائیں کر رہے ہیں۔ اور ان کو اپنی آنکھوں پہ یقین بھی نہیں آ رہا کہ وہ ایسا بھی کچھ پڑھ سکتی ہیں۔ کیسا، بھئی یہی کہ اپنی ڈک پک اپنے پاس رکھو۔ ڈک۔ ٹیٹر شپ نہیں چلے گی۔

مجھے تو یہ بینر پڑھ کے اپنے آپ کو کوسنے دینے کا دل کیا کہ ایسا کریں ایکٹو جملہ میرے دماغ میں کیوں نہ آیا۔ مجھے یاد ہے کہ 2005 میں میری ایک قریبی عزیزہ نے بہت ذوق و شوق سے کمپیوٹر لیا۔ اسے سیکھنے کے لئے باقاعدہ ٹیچر رکھی گئی۔ نیٹ کنکشن اس وقت بہت پیچیدہ ہوتا تھا۔ ڈائل اپ وغیرہ کے بعد رو رو کے سپیڈ پکڑتا تھا۔ خیر ایسے ہی سیکھتے سکھاتے انہوں نے یاہو کی آئی ڈی بنائی۔ اور یاہو چیٹ روم میں جانا شروع کیا۔

وہاں ان کی کسی مرد سے مختلف موضوعات پہ بات چیت شروع ہوئی۔ دو چار بار کی بات کے بعد ان صاحب نے کہا کہ ویب کیم پہ بات کرتے ہیں۔

Read more

میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی

پانچ سال پہلے میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی۔ اس کی وجوہات میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ محدود سرکل، محدود وسائل اور محدود سوچ (مجھے لگتا ہے کہ سوچ میں وسعت لانے کے لئے حلقہ احباب کا وسیع اور باشعور ہونا ضروری ہے ) نے مجھے زندگی سے اس قدر باغی کر دیا کہ مجھے زندگی میں کوئی کشش محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔ میں ہمیشہ سے زندگی سے باغی نہ تھی لیکن وقت اور حالات نے مجھے ایسا کر دیا۔

خیر پانچ سال پہلے جب میں نے لاسٹ اٹیمپٹ کی تو مجھے یاد تو نہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ میں نے اپنے آپ کو بہت اذیت دی۔ اور اس کے آفٹر ایفیکٹس بھی مجھے ہی بھگتنے پڑے۔ اس کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ میرے مر جانے سے کیا فائدے ہوں گے یا کس کس کو نقصان ہو گا۔

Read more

مرد بوڑھا نہیں ہوتا، اور عورت بھی آنٹی نہیں بنتی

عمر کو لے کر عورت کے ساتھ دہرا رویہ ہمارے یہاں عام پایا جاتا ہے۔ لڑکی کم عمر اور جوان ہے تو اسے بچی کہہ کے پکارا جائے گا۔ پچیس سے اوپر ہوتے ہی اگر اس کی شادی نہیں ہوتی تو اس کی عمر نکلی جا رہی ہے کہہ کہہ کے اسے نفسیاتی مریض بننے پہ مجبور کر دیا جاتا ہے۔ تیس کراس کرتے ہی وہ عورت سے آنٹی بن جائے گی۔ آنٹی کی اصطلاح کا بھی مت پوچھیں۔ ہمارے یہاں تھرٹی پلس خواتین کو آنٹی کہہ کے پکارا جائے گا، زور لفظ آنٹی پہ ہو گا۔

اس لفظ سے ہمارے یہاں بہت سے نوجوان جنسی حظ اٹھاتے ہیں۔ اس بات کو لکھنے میں کوئی خیالی تصور نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مرد اگر تیس سال کراس کر لیتا ہے۔ تو اس کے لئے لفظ انکل کیوں عام نہیں ہوتا۔ تھرٹی پلس شادی شدہ مرد کو بھی بیس بائیس سالہ لڑکی کبھی انکل نہیں کہتی۔ لیکن دوسری طرف لڑکے ایسا کرتے ہیں۔

Read more

بچوں کی جنسی تربیت کیوں ضروری ہے؟

بچوں کا جنسی استحصال اور ہمارا اس پہ عمومی رویہ بہت عجیب و غریب ہوتا ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ بچے کو اس بات کا اعتماد دیں کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہمیں اس پہ یقین ہے، ہم بچے کو ڈراتے ہیں، بلکہ اسے چپ رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ بچہ جب جنسی طور پہ ہراساں ہوتا ہے تو وہ اندر سے بہت ڈر جاتا ہے۔ اسے یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے، لیکن وہ یہ بات اپنے والدین کو بھی بتانے سے ڈر رہا ہوتا ہے۔

Read more

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے سنیں

دو دن ہو چکے ہیں لکھنے کے لئے نوٹ پیڈ کھولتی ہوں، مگر الفاظ ہی گم ہو جاتے ہیں۔ ذہن جیسے خالی سلیٹ۔ فیس بک کھولتی ہوں تو ان بچوں کی تصویریں سامنے آتی جاتی ہیں۔ دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ بہت ہمت کی کہ چونگی امر سدھو تک تو جا ہی سکتی ہوں۔ چلی جاتی ہوں، مگر بنا ماں باپ کے بچوں کو ملنے یا دیکھنے کی ہمت نہیں جٹا پائی۔ اس کے لئے شاید ہمیشہ گلٹی رہوں گی مگر یہ اس درد سے کم ہی ہو گا جو ان بچوں کو ملنے سے ملتا۔ میں کیوں اتنی حساس ہوں کہ دن میں کئی بار پھوٹ پھوٹ کے روئی۔ رونے میں اس بات کا خیال بھی رکھا کہ بچے روتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ کیونکہ بچوں کے نزدیک میں بہادر ہوں، تو بہادری بھی تو دکھانی ہی تھی۔

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے بہتر کون جان پائے گا۔ میں جسے بہت سے القابات ملتے رہتے ہیں، کبھی بہادر، کبھی مغرور اور کبھی منہ پھٹ۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں بروکن فیملی چائلڈ ہوں۔ اب جب ماں باپ سر پہ نہ ہوں تو رشتے دار کیا سلوک کرتے ہیں مجھے تو آج تک نہیں بھول سکا۔

Read more

فروری میرا پسندیدہ کیوں

بچپن سے مجھے سال کے دو مہینے بہت پسند ہیں، ایک دسمبر اور ایک فروری۔ بچپن میں دسمبری شاعری والا تو کوئی کیڑا نہیں تھا۔ مگر دسمبر کی سردی مجھے بہت پسند تھی۔ اور اب تک ہے۔ فروری کو پسند کرنے کی ایک بنیادی وجہ تو میری سالگرہ کا اس مہینے میں آنا ہے۔ اور دوسرا بسنت کا تہوار اسی مہینے میں منایا جاتا تھا۔ فروری میں جہاں باغوں میں رنگ برنگ کے پھول نظر آتے تھے وہیں آسمان پہ رنگ برنگی پتنگوں اور گڈوں کی تعداد آسمان پہ بھی بہار کا سماں ہی دکھاتی تھی۔

Read more

اگر پارلر چلانا معیوب ہے تو پھر یہ چلتے کیوں ہیں؟

بچپن میں سنتے تھے ہاتھ سے محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ بچپن کی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ آپ چاہ کے بھی ان کو بھلا نہیں سکتے۔ تو یہ بھی میرے نزدیک ایسی ہی باتوں میں سے ایک بات تھی۔ میں نے ہمیشہ محنت سے کام کرنے کو ترجیح دی۔ کیونکہ مجھے کام کرنا پسند ہے اور زندگی میں کسی مقام پہ پہنچنے کی جستجو۔ 2004 میں صنعت زار میں بیوٹیشن کورس میں ایڈمیشن اسی جستجو کی

Read more

کیا می ٹو کہہ دینا کافی ہے؟

ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے کہ ہر چیز میں ہم نقل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ اسے خود تخلیق کرنے کی کوشش کریں۔ یا پھر کسی بھی کام میں پہل کرنے کی ہمت دکھا پائیں۔ پچھلے دنوں سے سوشل میڈیا پہ ایک مہم زوروشور سے جاری ہے۔ جو کہ ہالی ووڈ سے بالی ووڈ پہنچی۔ اور وہاں سے ہوتے ہوئے ہمارے یہاں بھی مقبول ہو گئی۔ می ٹو، بظاہر تو یہ ایک عام بولنے

Read more

کیا ڈالر اور درہم درختوں پہ لگتے ہیں؟

ہمارے ملک میں بےروزگاری اور حالات سے تنگ آئے ہوئے اکثر نوجوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ملک سے باہر چلے جائیں۔ اس کے لئے بعض اوقات وہ کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ چاہے بند کنٹینرز ہوں یا غیر قانونی طور پہ بارڈر پار کرنا۔ بھوک واقعی انسان سے سب کچھ کروا لیتی ہے۔ لیگل اور ال لیگل طریقوں سے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مجھے

Read more

جنسی ہراسانی: کیا فیس بک بھی گلی کا نکڑ یا تھڑا بن گئی ہے!

روزمرہ زندگی میں عورت کو گھر سے باہر کام کرتے ہوئے بہت سی مشکلات کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسمنٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورکنگ وومن کے لئے زندگی گھر کے ساتھ ساتھ باہر بھی بہت مشکل ہوتی ہے، کیونکہ ان کو جاب کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی نبٹانے پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا اب ہماری زندگیوں میں روٹی کپڑے اور مکان کی طرح لازمی جز بن چکا ہے۔ ایسے میں جبکہ آپ ہر پل پلٹے کھاتی سیاسی

Read more

ٹیوشن اکیڈمی میں بچے نے نہیں خود میں نے پڑھنا تھا

یہ دسمبر 2011 کی بات ہے۔ میں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میرے شوہر گھر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔ انہوں نے وہ میرے سامنے رکھا۔ اور کہا کہ یہ لو کتابیں اور اب تم جانو اور تمہارا کام۔ میں نے کتابیں تمہیں لا دی ہیں پڑھنا اور پیپر دینا تمہارے اوپر ہے۔ میں شاپنگ بیگ کھولا تو اس میں نویں اور دسویں جماعت کی کورس کی کتابیں

Read more

قندیل بلوچ، ملا اور غیرت۔۔۔

کل سے کئی بار لکھنے کی کوشش کی چند لفظ لکھے مٹا دیے ایسا کئی بار ہوا۔ کیوں! اس لئے کہ ہمت ہی نہیں ہو پارہی تھی کہ کچھ لکھوں اور لکھوں بھی تو کیا لکھوں۔ کیسے لفظ استعمال کروں اس لڑکی کے قابل کوئی لفظ لگا ہی نہیں۔ قندیل کا قتل اور قندیل کے ساتھ ہونے والا سلوک ہمارے سماج کا عورت کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ہے۔ ہر عورت آئینے میں خود کو قندیل کے چہرے کے

Read more