سماجی شعور اور اخلاقی گراوٹ

چودہ اگست کے دن اقبال پارک میں ہونے والے سانحہ نے پاکستان میں خواتین کے حالات اور ان کو تحفظ کی فراہمی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ یہ واقعہ جس میں چار سو کے قریب افراد نے ایک یوٹیوبر خاتون پر حملہ کر کے اس کو ہراساں کرنے کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی تفصیلات پر بات کرنا یہاں پر نامناسب ہوگا۔ لیکن، اس واقعے نے معاشرے کے مجموعی پاگل پن کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے اور ہم چاہے مانیں یا نہ مانیں، پاکستان میں اس وقت ایک شدید فیمیسائڈ (femicide) کی لہر اپنے زور پر ہے۔

یہ لہر کیوں اٹھی اور اس کے خد و خال کیا ہیں یہ ایک بہت بڑی بحث ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ جہاں اس واقعے کی مذمت کی گئی وہیں ہمیشہ کی طرح لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ہمیشہ کی طرح ہینگ مین فیلیسی کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف خاتون کی کردار کشی شروع کردی بلکہ اس کے کردار کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا۔ یہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ یہ وہی عوام ہیں جن کی سوچ قدامت پسندانہ ہے اور اس کو بنانے میں ان انفلیوئنسرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو خواتین دشمن سوچ کو پھیلا کر معاشرے میں قدامت پرستی کو فروغ دے رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ ہمارے ملک کے بیشتر افراد میں وہ ذہنی صلاحیت موجود ہی نہیں جو اس طرح کی معلومات کو منطق کی کسوٹی پر جانچ سکے۔

اس مسئلے کی جڑ ہمارے پاکستانی مردوں کے مجموعی شعور سے تعلق رکھتی ہے۔ اجتماعی شعور کی اصطلاح کا استعمال ایمائل ڈرخائم نے اپنی کتاب محنت کی تقسیم میں کیا تھا۔ اس اصطلاح کا استعمال ایسی سماجی روایات، رجحانات، حرکات اور اقدار کو سمجھنے کے لئے کیا جاتا ہے جو ایک ہی مکتبہ فکر کے لوگ رکھتے ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے شعور کو ایک پروگرامنگ کے تحت اور گروہی طور پر یہ سیکھیا گیا ہے کہ قانون کا اطلاق رجعت پسند افراد پر نہیں ہوتا لہذا قانون کا احترام کرنا تو دور کی بات ان کی نظر میں قانون کی کوئی وقعت ہی نہیں۔ اس معاشرتی رجحان کا اندازہ ہم روز مرہ کے حالات و واقعات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ کیسے وہ کاروباری معاملات طے کرتے ہیں؟ ریاست کو کیسے کیسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور خاص کر خواتین کو لے کر ان کا نقطہ نظر جس سماجی کانٹریکٹ کے تحت ہے وہ اس اقلیت کے مترادف ہے جو خواتین کے وجود کو لے کر انسانی حقوق کے سماجی کنٹریکٹ کو حتمی مانتی ہے نہ کہ کسی پدرسری قدیم سوچ کے، اور ریاست کے قوانین کے تابع رہتی ہے۔

لیکن مسئلہ صرف یہیں نہیں ختم ہوتا۔ سماجی شعور کی بناوٹ اس طرح کی گئی ہے کہ وہ ہر جدید چیز کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ اس کو خوف اور شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور اس کے ساتھ یہ ایک تصوراتی احساس دشمنی اور احساس استحصال کا شکار ہے۔ یہ خود پسندانہ متضاد کیفیات ہر اس سوچ پر لاگو ہوتی ہیں جو رجعت پسندانہ عقائد کو چیلنج کرتی ہے۔

ان حرکات کو طاقت ان حلقوں کی جانب سے مہیا ہوتی ہے جو طاقت میں ہیں اور اس سوچ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ حلقے طاقت کے حصول اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی گھناؤنے اور زور آوری کے انداز سے اس سوچ کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ ہمارے انتہائی سینئر اہلکاروں کی پریس بریفنگز، پروگرام، ٹویٹس انہیں خیالات کی گونجتی آوازیں ہیں۔ ایک عام آدمی کے خیالات کی طرح ان میں بھی نفرت، نظریاتی ابہام اور مغرب سے نفرت کے جذبات امڈتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ انہی قدیم تصورات کو ابھارتے ہیں جس پر ایک عام آدمی کا شعور کھڑا ہے، یہ وہ خیالات ہیں جن کی ایک باشعور سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ اس سماجی شعور کو جمود کی کیفیت میں رکھنے کے لئے لبرل ازم کو ویسے ہی دکھایا جاتا ہے جیسا کہ قدامت پرست حلقے اس کے بارے میں تصور کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے ٹی وی پروگرام اور عمومی میڈیا، سیاسی و سماجی بحث و مباحث بھی اسی مجموعی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ ہونا ریاست کو اس مجموعی شعور کے آگے پست ثابت کرتی ہے۔ ذرا سوچئے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات چاہے وہ کسی صورت میں بھی ہوں، میں کتنے لوگوں کو آپ نے قانون کی گرفت میں آتے دیکھا ہے، جبکہ اس کے برعکس کتنے ایسے افراد کو عوامی ہمدردیوں کا محور بنتے دیکھا ہے، کتنی دفعہ خواتین دشمن سوچ کو بچانے کے لئے ہر نقطہ نظر سے آواز بلند ہوتی ہے؟ اس سب سے وہ مجموعی شعور پیدا ہوتا ہے جو اقبال پارک جیسے گھناؤنے واقعہ کو صحیح سمجھتا ہے۔

صرف عورت سے نفرت کی ایک بھرپور مذمت کے کلچر کا تمسخر اڑا کر اور اس سوچ کو عوام کے آگے منطق کے ترازو میں رکھ کر ہی اس مجموعی شعور کو مثبت بنایا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words