آرٹیکل 149 کے ذریعے سندھ پر حملہ، آئین پاکستان سے فراڈ کے برابر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنف: بیرسٹر ضمیر گھمرو
ترجمہ: رب نواز بلوچ

وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد تحریک انصاف /وفاق، سندھ حکومت پر مختلف اطراف سے زبردست دباؤ بڑھانے کی کوششیں ہورہی ہیں، ماضی میں جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، تو صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں دوسری جماعتوں کی حکومتیں تھیں، اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے حکومت کی، ماضی قریب میں نون لیگ کے پاس وفاق میں حکومت کے باوجود سندھ اور خیبرپختونخواہ میں دیگر جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتیں تھیں، نہ صرف صوبائی حکومتوں نے اپنا عرصہ مکمل کیا بلکہ کوئی بڑا آئینی بحران پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام اٹھایا گیا۔

اب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس کے علاوہ تحریک انصاف کی دو صوبوں میں ایک صوبے میں اتحادی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، صرف صوبہ سندھ میں دوسری جماعت کی حکومت ہے جو تاریخ میں پہلی بار بھاری عوامی مینڈیٹ حاصل کرکے آئی ہے، اس سے پہلے مختلف وجوہات کے سبب ( ایک وجہ دھاندلی بھی ہے ) پیپلزپارٹی اتنی بھاری اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی، اب پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو مرکز میں موجود تحریک انصاف لسانی بنیادوں پر کسی بھی طرح برداشت کرنے کو تیار نہیں، پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سابق صدر پاکستان و ممبر قومی اسمبلی آصف علی زرداری، اُن کی بہن، ممبر صوبائی اسمبلی فریال تالپور راولپنڈی میں پابند سلاسل ہیں، پوری دنیا میں کرمنل کیسز کا ایک اصول ہے کہ کسی بھی مجرم کو سزا دینے کے لئے جو جیوری بیٹھتی ہے وہ اس علاقے اور شہر سے تعلق رکھتی ہے، اس جیوری میں 12 افراد بیٹھتے ہیں جو ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر سزا کا فیصلہ دیتے ہیں، لیکن اس کیس میں علاقہ یا شہر تو دور کی بات یہ کیس دوسرے صوبے میں چلایا جارہا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔

تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت آنے کے کچھ ہی دنوں کے بعد سندھ حکومت کو غیر آئینی طریقوں جیسے ہارس ٹریڈنگ یا گورنر راج کے ذریعے گرانے کی کوششیں کی گئی، وفاق کے جانب سے سرعام ہارس ٹریڈنگ کے تذکرے ہوتے رہے، جو آئین پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی ہے، تمام کوششوں کی ناکامی پر ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا گیا، کہ آئین کے آرٹیکل 149 کو استعمال کرکے وہی نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں جو حکومت چاہتی ہے، جس طرح آرٹیکل 149 کی تشریح کی جارہی ہے، وہ نہ صرف انتہائی مضحکہ خیز بلکہ آئین پاکستان کے ساتھ فراڈ کیا ہے، اس آرٹیکل کے بارے جو بتایا جارہا وہ اس کا قطعاً یہ مطلب ہے نہ ہی معنیٰ۔

پہلے تو صوبہ سندھ کے دارالحکومت کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی جوکہ خود ایک غیر آئینی قدم تھا، کیونکہ وفاق کسی بھی صورت میں صوبائی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، اور اس کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، کمیٹی نے یہ حکم صادر کیا گیا ہے کہ سندھ میں آرٹیکل 149 نافذ کردیا جائے، نافذ کرنے والی بات جانو جرمن کے قصے جیسی ہے، کیونکہ اس آرٹیکل میں لاگو Impose کرنے والے الفاظ شامل نہیں اور نہ ہی اس کی گنجائش موجود ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ آرٹیکل 149 کا مقصد کیا ہے؟

Article 149 (1) The executive authority of every Province shall be so exercised as not to impede or prejudice the exercise of the executive authority of the Federation, and the executive authority of the Federation shall extend to the giving of such directions to a Province as may appear to the Federal Government to be necessary for that purpose.
(3) The executive authority of the Federation shall also extend to the giving of directions to a Province as to the construction and maintenance of means of communication declared in the direction to be of national or strategic importance.
(4) The executive authority of the Federation shall also extend to the giving of directions to a Province as to the manner in which the executive authority thereof is to be exercised for the purpose of preventing any grave menace to the peace or tranquility or economic life of Pakistan or any part thereof.

مطلب: تمام صوبے اپنے انتظامی اختیارات اس طرح اختیار کریں گے، کہ وفاقی انتظامی اختیارات کو نقصان نہ پہنچے، وفاق کا انتظامی اختیار اس صوبے کو ایسی ہدایات جاری کرنا بھی ہے، جو کہ اس مقصد کے لئے ضروری ہیں، وفاق صوبے کو آمد و رفت کے ذرائع اور ان کی بحالی کی ہدایات بھی جاری کرسکتا ہے، وفاق کا انتظامی اختیار یہ بھی ہے کہ اگر وفاق کے اگر وفاق کے انتظامی اختیار کے سلسلے میں پاکستان کی معاشی زندگی، امن و سکون کو ضرب پہنچے تو صوبوں کو مناسب اقدامات کے لئے ہدایات دے۔ وفاقی انتظامی اختیارات صوبے کو معیشت کے لئے آمدرفت، سڑکیں شاہراہیں تعمیر کرنا اور ان کی مرمت کرنے جیسی ہدایات دے سکتا ہے، اس کے علاوہ وفاق کو یہ بھی اختیار ہے کہ اگر صوبے میں معاشی معاملات یا امن امان کی وجہ سے وفاق یا صوبہ کی مالی معاملات پر اثر پڑ رہا ہو تو وفاق ہدایات دے سکتا ہے۔

اب وفاق کی executive authority مطلب انتظامی اختیارات آئین کے آرٹیکل 97 میں واضح کردیئے گئے ہیں، کہ آرٹیکل 97 میں دیے گئے انتظامی اختیارات نہ صرف آئین کے تابع ہوں گے بلکہ وہ صرف ان معاملات پر عائد بھی ہوں گے جہاں پارلیمنٹ قانونسازی کرسکتی ہو، اور پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت صرف وفاقی لسٹ میں سبجیکٹ پر قانونسازی کر سکتی ہے۔ وفاقی لسٹ مثال طور پر بندرگاہ، ایوی ایشن، آمد رفت، کامرس، دفاع، خارجہ پالیسی اور ایک آدھ دیگر اسموں تک محدود ہے، یہاں وفاق صوبوں میں اپنے معاملات جو وفاق کے زیر انتظام ہوتے ہیں، اگر ان معاملات جو کہ وفاقی لسٹ میں موجود ہیں میں اگر انتظامی معاملات متاثر ہورہے ہوں تو وفاق ہدایات دے سکتا ہے، مثال کے طور پر اگر بندرگاہ پر آمدودرفت متاثر ہو، جہازوں کی آمد و رفت یا مواصلاتی نظام متاثر ہو یا بینکنگ سیکٹر میں رکاوٹیں ڈالی جائیں جس سے پاکستان کے معاشی معاملات متاثر ہوں یا امن و سکون میں خلل پڑے تو وفاق صوبے سے نہ صرف مدد طلب کرسکتا ہے بلکہ صوبے کو ہدایات بھی جاری کرسکتا ہے، ہدایات یہ ہوسکتی ہیں کہ یہ اقدامات اُٹھائے جائیں، اس کے علاوہ اس آرٹیکل کا کوئی اسکوپ ہی نہیں، اب اگر اسے کسی شہر کراچی جو ایک صوبے کا دارالحکومت ہے اور صوبے کے زیر انتظام ہے پر اس آرٹیکل کا عائد کرنا مضکہ خیزعمل ہوگا جسے مذاق اور آئین سے فراڈ سمجھا جائے گا۔

وفاقی حکومت اس آرٹیکل کے تحت نہ تو صوبے کے انتظامی اختیار Executive Authority میں مداخلت کرسکتی ہے اور نہ ہی اس بارے میں ہدایات جاری کرسکتی ہے، وفاق صرف اپنے انتظامی اختیارات کو Smooth بنانے کے لئے ہدایات جاری کرسکتا ہے۔

ایسا بندوبست آئین میں رکھا گیا ہے، اس لئے کہ وفاق اور صوبوں میں بے شک مختلف پارٹیوں کی حکومتیں ہوں، پر قانون اور آئین پر عملدرآمد رک نہ پائے، مثال کے طور پر آئین کے آرٹیکل 148 ( 2 ) میں یہ کہا گیا ہے کہ

Without prejudice to any other provision or this chapter in the exercise of executive authority of federation in any province regard shall be had to the interests of the province.

اس باب میں دوسرے نکات سے قطع نظر یہ وفاق پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیارات صوبے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرے گا، اب نہ صرف صوبہ بلکہ وفاق پر بھی لازم ہے کہ صوبوں کے مفاد میں اپنے انتظامی اختیارات کا استعمال کرے، صوبے بھی وفاق کو اسی آرٹیکل ( 2 ) 148 کے تحت لکھ سکتے ہیں، کہ وہ صوبہ میں اپنی انتظامی امور صوبے کے مفاد میں استعمال نہیں کررہا، قانون میں یہ گنجائش اس لئے دی گئی ہے کہ مرکز اور صوبوں میں بے شک الگ الگ جماعتوں کی حکومتیں ہوں، پر قانون پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

دیکھتے ہیں کہ اس آرٹیکل کا مقصد کیا ہے اور اسے کیا سے کیا بنادیا گیا ہے، وفاقی وزیر قانون کہتے ہیں کہ سندھ پر آرٹیکل 149 نافذ کیا جائے گا، کیا ”نافذ“ کرنے والے الفاظ کا کیا مقصد ہے؟ کیا نافذ کیا جائے گا؟ اس آرٹیکل میں ایسی چیزیں موجود ہیں؟ یا مقصد صوبے کے انتظامی معاملات میں مداخلت کی جائے گی؟ مثال کے طور پرڈپٹی کمشنر ڈومیسائل وفاقی قانون کے تحت جاری کرتا ہے، جبکہ وہ پی آر سی صوبائی قانون کے تحت جاری کرتا ہے، اس طرح ایسے کئی قوانین ہیں جو وفاق کے ہیں لیکن ان پر عمل صوبہ کرواتا ہے، تاکہ وفاقی اور صوبائی قوانین پر عملدرآمد میں رکاوٹ نہ آئے اور وہ اپنے اپنے حدود میں رہیں جس کا آئین میں بندوبست کردیا گیا ہے۔

کراچی میں ویسے بھی وفاق لسانیت والی سوچ کو پروان چڑھا رہا ہے، وفاق نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 28 اپریل 1948 میں ایوب کھوڑو کی سندھ حکومت کو برطرف کرکے جولائی 1948 میں کراچی کو مرکز کے حوالے کیا تھا، اس وقت ایوب کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سے یہ معاہدہ تھا کہ کراچی نہ صرف وفاق بلکہ صوبے کا دارالحکومت بھی رہے گا، اور کراچی میں مزید آبادی کو آباد نہیں کیا جائے گا، اس نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ کلکتہ برٹش انڈیا کا تقریباَ 200 سال 1913 تک دارالحکومت تھا اور اسی وقت وہ صوبہ بنگال کا دارالحکومت بھی تھا، اسی طرح کینبرا نہ صرف آسٹریلیا بلکہ ریاست کینبرا کا دارالحکومت بھی ہے، اس کے علاوہ دنیا بھر میں کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں، پھر کیوں سندھ کے دارالحکومت کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کیا جائے، تاکہ وفاق کراچی کے وسائل پر قابض ہوسکے، کیا ہم نے آئین ساز اسمبلی میں اسیلئے شامل ہوئے تھے، اس حساب سے بنگال اور پنجاب بڑے صوبے ہیں پھر کیوں نہیں لاہور یا ڈھاکا کو دارالحکومت بنادیا جائے، ایوب کھوڑو کے اس موقف کے بعد اس کی حکومت کو 28 اپریل 1948 میں غیرقانونی طور پر برطرف کیا گیا، اور غیر آئینی طور پر جولائی 1948 میں کراچی کو وفاق کا دارالحکومت بنایا گیا، ایوب کھوڑو کی مخالفت کی وجہ سے سرکار ایک سال یعنی جولائی 1948 تک قانونی طور پر کراچی کو وفاق کا دارالحکومت نہیں بناسکی تھی۔

آج بھی وہی سازش کی جارہی ہے کہ پہلے سندھ حکومت کو گھر بھیجا جائے، بعد میں کراچی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے، ہم نے الیکشن سے پہلے بھی کہا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ کی وحدانیت کے لئے خطرناک ثابت ہوگی، جس کا ثبوت آپ کے سامنے ہے، وفاق اپنے اس طرز عمل سے سندھ میں لسانیت کو ہوا دے رہا ہے جو خود وفاق کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔
( یہ مضمون سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو صاحب کے مضمون کا ترجمہ ہے یہ مضمون سندھی روزنامہ کاوش میں چھپ چکا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •