نفسیاتی مضبوطی کے ذریعے معیاری زندگی کا حصول (حصہ دوم)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہر نفسیات ڈاکٹر ایلبرٹ ایلس کے مطابق معقول جذباتی طرزِعمل ( rational emotive behavior) خودنظمی اورخودتربیتی کے مخصوص طریقوں پرعملدرآمدکے ذریعے سے غیرمعمولی حالات کے دوران شعوری طورپرمناسب ردِعمل استوار کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ان مخصوص طریقوں سے آگاہی اورانکا استعمال آپ کو بہترین لائحہ عمل فراہم کرتاہے۔ ذہنی تربیت کے ذریعے آپ اپنے متعلقہ مسائل سے بخوبی حقیقت پسندی کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں۔ معقول جذباتی طرز عمل کے بنیادی مدارج میں ”A“ سے مراد بیرونی عنصر یا متحرک ہے، ”B“ سے مراد وہ سوچ یا خود کلامی کا عمل ہے جو اس واقعے یا متحرک کے نتیجے میں آپ کے اندر جاری ہوا جبکہ ”C“ سے مراد وہ رویہ یا رد عمل ہے جسے آپ نے عملی طور پر اپنایا۔

ماہر نفسیات ایلبرٹ ایلس کے اس نظریے کے مطابق عام طور پر جو لوگ نفسیاتی پسماندگی کا شکار ہوتے ہیں اور کسی بھی بیرونی متحرک پر غیر صحت مندانہ جذبات اور منفی ردعمل کے باعث مسائل کا مؤثر حل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے رد عمل C ”“ کی پیداوار ”A“ یعنی واقعے یا حالات پر منتج ہے جبکہ درحقیقت مشاہدہ کریں تو A اور C کے درمیان B یعنی سوچ کا عمل واقع ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں رد عمل پیدا ہوتا ہے۔

معقول جذباتی طرز عمل کے مطابق کسی بھی قسم کے نا مطلوبہ اور غیر متوقع صورت حال کے نتیجے میں تاسف اور عمومی پریشانی کی کیفیت شامل ہے جو کہ فطری طور پر ہر انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ صحت مندانہ جذبات ہوتے ہیں جو آپ کو مسائل پر قابو پانے اور پریشانی کے حل کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جبکہ ڈیپریشن، خود ترحمی، برہمی، بد حواسی، عدم برداشت یہ سب غیر صحت مندانہ جذبات ہیں۔ کسی بھی واقعے پر صحت مندانہ منفی جذبات کے ابھرنے پر اگر طرز فکر، غیر معقول سوچوں پر مبنی ہو تو یہ جذبات غیر صحت مندانہ منفی جذبات کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

چنانچہ انسان کے اندر فطری جذباتی تحریک کے نتیجے میں واقعے یا حالات پر سوچ کا جوعمل متحرک ہوتا ہے اس کا تجزیہ کیا جانا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ سوچ کا یہ عمل اگر غیر معقول ایقان (believes ) یا سوچوں پر مبنی ہو تو غیر صحت مندانہ منفی جذبات کے ساتھ ساتھ منفی رد عمل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ سوچیں (جیسا کہ تذکرہ گزر چکا ہے ) ہماری مختلف تعلیمات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نظام ایقان کے ذریعے سے وجود میں آتی ہیں جو کہ غیر متبدل نہیں ہوتا چنانچہ ہم اس کا تجزیہ کرتے ہوے اس میں تبدیلی پیدا کر کے ہی اپنے مسائل کا مؤثر حل کر سکتے ہیں۔

کسی بھی اے (واقعہ) کے رونما ہونے کے بعد سب سے پہلے بی (سوچ یا طرزِ فکر ) کا مشاہدہ کیجیے کہ کیا یہ معقول سوچوں پر مبنی ہے یا غیر معقول۔ مثال کے طور پر آپ کے دوست آپ سے کیے گئے اپنے کسی معاہدہ سے منحرف ہو گئے (اے ) تو آپ کو ان پہ سخت غصہ آیا (سی) ۔ آپ نے خود سے اگر کچھ اس طرح بات کی (بی) ، ”یہ کس قدر دھوکے باز، برے اور بدترین انسان نکلے کہ انہوں نے میرے ساتھ کس قدر غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔

” تو غیر صحت مندانہ منفی جذبات یعنی برہمی، نفرت، اور قطع تعلقی جیسا عمل وقوع پذیر ہو گا۔ اگر جائزہ لیجیے تو بظاہر یہ سوچ آپ کو ایک ہی بات لگتی ہے لیکن درحقیقت یہ دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ انہوں نے میرے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ دونوں مجموعی طور پرہی برے انسان ہیں۔ سوچ کا پہلا حصہ کہ انہوں نے غیر منصفانہ سلوک کیا، درست بھی ہے اور حقیقی بھی چنانچہ یہ تو ایک معقول سوچ ہوئی، لیکن دوسرے حصے میں آپ نے اپنے دوستوں کی ایک غلطی یا برے عمل کی وجہ سے انہیں مجموعی طور پر ہی برے انسان گردان لیا جبکہ ہو سکتا ہے واقعتاً ایسا نہ ہو۔

جب بھی آپ کی توقعات کے بر خلاف کچھ ہو تو اسے نا قابلِ برداشت سمجھتے ہوئے دوسروں کو ظالم اوربے رحم قرار دینا غیر معقول اور غیر متوازن رویہ ہے، اس سے چھٹکارا پا کر ہی آپ اپنے منفی رد عمل اور غیر صحت مندانہ جذبات پر قابو پا سکتے ہیں۔ معقول اور متوازن سوچ ایسے جذبات کی نفی کرتی ہے اور جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا اس کے حل یا درست ردِ عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ کسی بھی واقعہ پر غیر معقول طرز فکر کاتدارک کیسے ممکن ہے۔

کسی بھی قسم کے بیرونی حالات پر آپ اپنی سوچ یا طرزِ فکر (سی) کا مشاہدہ کرنے اور جانچنے کے بعد اپنی غیر معقول سوچوں اور طرز فکر کو پہچان کر الگ کیجیے اور ان سے چھٹکارہ پانے کے لیے انہیں چیلنج کرنے کا عمل (ڈی) اپنائیے۔ چیلنج کرنے سے مراد ان (غیر معقول) سوچوں میں سے ہر ایک کے بارے میں خود سے ایسے سوالات کرنا ہے جو حقیقت پسندی کے ساتھ غیر جانبدار رہتے ہوے اس سوچ کو چیلنج کرتے اور غلط ثابت کرتے ہیں۔ چیلنج کرنے والے سوالات کیوں، کیسے اور کس طرح پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی مشق پر بات کریں، چند باتوں کی بصیرت حاصل کرنا لازم ہے

پہلی بات اپنے پریشان کن خیالات، رویوں اور (غیر معقول ) سوچوں کو تبدیل کرنے کے لیے آپ کو بھرپور مشق اور محنت کی ضرورت ہے آپ تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب اپنی غیر معقول سوچوں اور ایقان سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد آپ غیر جانبدار رہ کر انہیں چیلنج کریں اور ان کے خلاف قدم اٹھائیں۔ دوسری اہم بصیرت یہ یقین رکھنا ہے کہ آپ کا طرز فکر غیر متبدل اور جامد نہیں ہے اور آپ اس میں مشق کے ذریعے تبدیلی لانے پر قدرت رکھتے ہیں۔

جبکہ تیسری اہم بصیرت یہ ہے کہ ضرررساں واقعہ کے نتیجے میں آپ کے ابتدائی فطری منفی جذبات یا سوچ کا کردار آپ کے غصہ کو طویل عرصہ تک برقرار رکھنے میں بہت کم ہوتا ہے۔ بلکہ آپ ان جذبات کو پہلی غم و غصہ پیدا کرنے والی سوچ کو مسلسل دہرا کر برقرار رکھے ہوے ہوتے ہیں۔ بظاہر آپ ایسا غیر شعوری طور پر کرتے ہیں لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ واقعے یا ابتدائی منفی جذبات کو بار بار یاد کرنے اور دہرانے سے فعال طور پر زندہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان جذبات کو مثبت طریقے سے خارج کرنے اور توجہ منعطف کرنے کی مشقوں کے ذریعے سے فوری اضطراری رد عمل پر قابو پا لیں تو ہی مؤثر طریقے سے طرز فکر میں تبدیلی کی ان مشقوں کے ذریعے معقول اور مثبت رد عمل پیدا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

ڈی (the process of dispute ) کی مشق میں سب سے پہلے مرحلے پر غیر صحت مندانہ منفی جذبات اور منفی رد عمل پیدا کرنے والی بنیادی غیر معقول سوچوں کا سراغ لگایا جاتا ہے اور دوسرے مرحلے پر انہیں واضح طور پر معقول خیالات سے الگ کیا جاتا ہے جبکہ تیسرے مرحلے پر آپ غیر معقول سوچوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے بحث کے ذریعے انہیں چیلنج کرتے ہیں۔ اگر آپ ڈی کے مراحل کو پوری استقامت سے اپنا لیں تو آپ منفی رد عمل کی کیفیات اور اثرات سے پوری طرح خود کو بچا سکتے ہیں۔

مثلا اوپر بیان کی گئی مثال کے تناظر میں دیکھیں تو واقعہ (A) یہ تھا کہ دوستوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس پر غصے کے فطری صحت مندانہ جذبات پیدا ہوے۔ واقعہ پر ابتدائی سوچ (C) یہ پیدا ہوئی، میرے دوستوں نے وعدہ خلافی کی پس میں انہیں ہر گز معاف نہیں کر سکتا، یہ معافی کے قابل نہیں، اب آپ اس پر بغیر تجزیہ سوچتے اور دہراتے چلے گئے جس کے نتیجے میں غصہ برہمی اور رد عمل قطع تعلقی کی صورت میں ظاہر ہوا۔

معقول جذباتی طرز عمل کے لیے پہلے سٹیپ پر فطری جذبات اور پریشانی کو ہلکا کرنے کے لیے فوری اضطراری رد عمل یعنی قطع تعلقی کو نظر انداز کر دیجیے اس کو ظاہر کرنے سے رک کر خود کو پر سکون حالت تک لے جائیے تا کہ سوچوں کے مشاہدے کے لیے معقول جذباتی طرز عمل کی مشق کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اوپر بیان کیے گئے مدارج میں مثال کو رکھتے ہوے یہ مشق کچھ یوں ہو گی۔

سوچ : میرے دوستوں نے وعدہ خلافی کی پس میں انہیں ہر گز معاف نہیں کر سکتا، یہ معافی کے قابل نہیں

معقول سوچ : میرے دوستوں نے وعدہ خلافی کی

غیر معقول سوچ : میں انہیں ہر گز معاف نہیں کر سکتا، یہ معافی کے قابل نہیں

چیلنج D : کیا یہ ایسی بات ہے کہ جس کا ازالہ ممکن نہیں؟ اگرمیں بذاتِ خود غلطیوں سے پاک ہوں اورماضی میں کبھی کسی غلطی کا مرتکب نہیں ہوا، نا ہی حال میں اس کا امکان ہے، یا پھر اگر غلطی ہو جانے پر معاف کیے جانے کے قابل نہیں ہو ں گا تو یہ بات جائز ہو گی جبکہ فی الواقع ایسا نہیں ہے۔

نئی موثر سوچ E : انسان ہونے کے ناتے مجھ سے بھی غلطیاں سر زد ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں چنانچہ اگر میں اپنے لیے معافی کا امیدوار ہوں تو مجھے دوسروں سے بھی در گزر کرتے ہوئے انہیں معاف کرنا چاہیے۔ چنانچہ ایسا نہیں ہے کہ معافی کی کوئی گنجائش نا ہو سکے۔

رد عمل : مثبت بات چیت کے ذریعے سے دوستوں کے عمل کی وجوہات معلوم کرنے، مزید مسائل سے محفوظ رہنے کے لیے رشتے میں مناسب حد بندی، در گزر کرتے ہوے، جائز حد تک تعلق کی بر قراری ممکن ہو جاے گی۔

احتساب کے اس قاعدے پر عمل کے ذریعے ہم روزمرہ معاملات یادیگر بیرونی عوامل کے بالمقابل اپنے غیر صحت مندانہ منفی جذبات، غیر معقول طرز فکر، نظام ایقان اور سوچوں پر کام کرنے کر اپنے عمل کے ضمن میں شعوری انتخابات کو یقینی بنا سکتے ہیں، جو یقینا، ذاتی اور اجتماعی زندگی میں سکون و قرار جیسے نتائج پیدا کرکے معیاری زندگی کے حصول کا ضامن بھی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •