ایک گم نام وادی (وادی الائی)۔


وادی الائی ہماری منزل تھی جس کا شاید آپ نے پہلے نام بھی نہیں سنا کوگا۔ ہم اسلام آباد سے حویلیاں تک موٹروے جبکہ آگے قومی شاہراہ سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے ہوتے ہوئے بٹگرام پہنچے۔ لاری نے ہمیں بٹگرام کے لاری اڈے پہ اتارا جہاں قطار در قطار ویگنیں کھڑی تھیں۔ ہم نے الائی جانا تھا جہاں ہم سابقہ ایم پی اے (جمیعت علمائے اسلام ) شاہ حسین خان کے مہمان تھے۔ مغرب کا وقت تھا اور ہم دو نوجوان الائی جانے والی ویگن کے پاس کھڑے تھے میں تو شلوار قمیض میں تھا لیکن میرے دوست نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس وجہ سے وہاں موجود لوگ ہمیں دیکھ رہے تھے کیونکہ وہاں زیادہ تر لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں۔

اتنے میں ایک لڑکا ہماری جانب بڑا اور ہم نے اسے پوچھا کہ الائی والی ویگن کب جائے گی آپ لاہور سے آئے ہیں اس نے کہا! ہم دونوں نے ہاں میں جواب دیا۔ کہنے لگا ابھی کوئی پتہ نہیں کیونکہ دس منٹ پہلے الائی والی ویگن نکل گئی ابھی دس سے زیادہ سواریاں ہوں گی تو گاڑی جائے گی ورنہ نہیں جائے گی۔ ہم نے فوری اپنے میزبان کو فون کیا اس نے کہا گاڑی ضرور آئے گی لیکن تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا نہیں تو آپ کو موٹر ضرور مل جائے گی (پشتو زبان بولنے والے کار کو موٹر بولتے ہیں ) ۔

میں صبح چار بجے سے مسلسل سفرمیں تھا تھوڑی ہی دیر کے بعد ہمیں موٹر مل گئی اور ہم الائی کے لیے روانہ ہو گئے۔ 1949 سے پہلے الائی پر قبائلی پٹھان حکمرانوں کا راج تھا لیکن اس کے بعد انڈین ایکٹ 1935 کے تحت الائی پاکستان کا حصہ بنا اور 1971 میں باقاعدہ پاکستان میں ضم ہو گیا۔ 1993 میں جب بٹگرام کو ضلعے کا درجہ دیا تو الائی اس کی تحصیل قرار پائی۔ الائی کا محل وقوع کچھ اس طرح ہے کہ اس کے شمال مشرق کی جانب کوہستان، جنوب میں وادی کاغان جبکہ مغرب کی جانب دریائے سندھ واقع ہے جو مالاکنڈ ڈویژن کو ہزارہ ڈویژن سے علیحدہ کرتا ہے۔

الائی 200 مربع میل پر واقع ہے کوہستان سے ملنے والی سرحد 15000 فٹ بلند پہاڑوں سے گھیری ہوئی ہے۔ پہاڑوں کی ڈھلوانیں جنگلی درختوں جس میں اخروٹ، ناشپاتی اور آڑو جیسے پھل دار درخت شامل ہیں سے ڈھکی ہوئی جبکہ پہاڑوں کے دامن میں زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کی سطح ہموار کر کے گندم، چاول، مکئی اور جو جیسی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں ان فصلوں کے نظام آبپاشی چشموں پر منحصر ہے اور جہاں چشمے نہیں وہاں خواڑ کا پانی لگتا تھا ( پشتو زبان میں پہاڑوں کے درمیان موجود دریا کو خواڑ کہتے ہیں ) ۔

16 جون پاکستان کی ورلڈ کپ 2019 میں انڈیا سے دوسرا میچ ہارنے کی خبر اور دوسرا مسلسل 16 گھنٹے سفر کی تھکاوٹ بس اللہ اللہ کر کے اور بلند و بالا پہاڑ سر کرنے کے بعد الائی کی یونین کونسل بنہ پہنچ گئے۔ ہمیں ہمارے دوست نے الائی میں خوش آمدید کہا اور ہم ان کے ڈیرے پہنچ گئے۔ وہاں موجود ہر بندے نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں خوش آمدید کہا جس سے میری تھوڑی تھکاوٹ اتر گئی۔ تازہ دم ہونے کے بعد ہم دسترخوان پر کھانے کے لیے تشریف لے گئے دسترخوان وہاں کے روایتی کھانوں سے بھرا پڑا تھا یہ دیکھ کر میری تھوڑی اور تھکاوٹ اتر گئی میں ساری تھکاوٹ تب اتری جب مجھے میرا دوست اپنے ڈیرے سے باہر خواڑ پر لے گیا وہاں لکڑی اور لوہے کی تاروں سے بنے پل پر رات کے وقت بیٹھ کر سکون ملا اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

اگلی صبح ناشتہ کے بعد ہم تیلوس گاؤں کی سیر کے ساتھ ساتھ الائی خواڑ ڈیم دیکھنے نکل گئے۔ ہم خواڑ کے کنارے بنی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے الائی خواڑ ڈیم پہنچ گئے۔ الائی خوار ڈیم ملکی دارالحکومت اسلام آباد سے 245 کلومیٹر جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے 330 کلومیٹر کے فاصلے پر الائی میں واقع ہے یہ ڈیم دریائے سندھ کے کنارہ واقع ہے جبکہ دوسری جانب الائی خواڑ کا پانی جمع ہو کر ایک سرنگ کے ذریعے اس ڈیم تک پہنچتا ہے۔

2005 میں ایک غیر ملکی کمپنی نے اس پر کام شروع کیا اور 4 مارچ 2013 کو یہ ڈیم مکمل ہو گیا۔ اس منصوبے کی کل لاگت 13.8 بلین روپے تھی۔ اس کا افتتاح 25 مارچ 2012 کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری صاحب نے کیا۔ یہ ڈیم سالانہ 121 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اس وقت واپڈا کی زیر نگرانی چل رہا ہے اور مقامی لوگوں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب خواڑ کے کنارے رہنے والے لوگ پانی سے اپنی بجلی پیداکر لیتے ہیں۔

شام کو واپسی ہوئی جون میں جب پنجاب میں گرمی عروج پر ہوتی ہے وہاں رضائی لے کر سونا پڑتا ہے الائی بھی 2005 میں آنے والے زلزلے کی لپیٹ میں آیا تھا جس کے آثار ابھی بھی وہاں ایک سرکاری عمارت میں موجود تھے جس کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں آئی ہوئیں تھیں۔ اس زلزلے کی وجہ سے دریائے سندھ پر موجود پل بھی ٹوٹ گیا تھا جس کے باعث لوگوں کو بڑی دیر تک مشکلات کا سامنا رہا۔

الائی میں گنتر جمبیرہ کے مقام پر بلند و بالا اور سارا سال برف سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان ایک میدان واقع ہے جسے گلی میدان کہا جاتا ہے۔ پشتو زبان میں گلی ژالہ باری کو کہا جاتا ہے چونکہ اس میدان میں روزانہ ژالہ باری ہوتی ہے اس لیے اس لیے اسے گلی میدان کہا جاتا ہے اس میدان میں مقامی لوگ پالتو گھوڑے، بھیڑ، بکریاں اور بھینس چراتے ہیں۔ یہ میدان قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور دیکھنے کے لائق جگہ ہے۔ اگلے دن ہم الائی کی یونین کونسل بنہ سے تقریبًا دو گھنٹے کل مسلسل دشوار اور کٹھن سفر تہ کرنے کے جمبیرہ گنتر کے مقام پر گلی میدان پہنچے۔

میدان میں ہم نے اپنا کیمپ لگایا دوپہر کا کھانا کھایا اس دوران دھوپ ختم ہوئی اور اچانک پہاڑ کی برف سے ڈھکی چوٹی سے ٹکراتے ہوئے کالے بادل آسمان پر پھیل گئے اور ژالہ باری شروع ہو گئی یہ سلسلہ کوئی پانچ منٹ تک جاری رہا اس کے پھر دھوپ نکل آئی اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اس کا نام ٹھیک رکھا گیا ہے۔ اس بعد ہم نے حسب معمول تصاویر اتاریں اور واپسی نکل آئے۔

الائی میں سڑکیں اچھی نہ ہونے کی وجہ سے سیاحت کو فروغ نہیں مل رہا۔ اگر سڑکیں اچھی بن جائیں تو پاکستان میں موجود وادی الائی جیسے مقامات ہمیں سالانہ بہت پیسہ کما کے دے سکتے ہیں لیکن اس ملک میں جو موٹر ویز اور اچھی سڑکیں بنواتا ہے اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے

خیر اب چائنہ پاکستان اکنامک کوری ڈور کے تحت ہزارہ موٹروے بن رہی ہے جس سے تھا کوٹ تک کی رسائی آسان ہو جائے گی۔ اور سیاحت کو بھی کافی حد تک فروغ ملے گا۔

الائی زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

وادی الائی کے لوگوں کی محبت، مہمان نوازی اور چاہت میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔

Facebook Comments HS