قتل ریاست کے خلاف جرم ہے، ورثا کیسے معاف کر سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ناروے میں ایک پاکستانی کے ہاتھوں دوسرے پاکستانی کا قتل ہوا۔ مقدمہ درج ہو گیا۔ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر صلح کروا دی۔ مقتول کے ورثاء میں سے کوئی پولیس کے پاس گیا اور بتایا کہ ”ہماری صلح ہو گئی ہے، لہذا معاملہ ختم کر دیا جائے۔“

پولیس افسر نے کہا کہ ”یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے صلح کر لی ہے لیکن آپ کے صلح کرنے سے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ جرم کا ارتکاب نہیں ہوا ہے، ناروے کی زمین پر موجود ایک انسان قتل ہوا ہے، لہذا یہ کیس بند نہیں ہو سکتا، مجرم کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے، اس کا فیصلہ میں یا آپ نہیں بلکہ عدالت کرے گی۔“

پاکستان میں قتل کرنے والے کئی بار اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ مقدمہ تک درج نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو وکیلوں کی فیسیں کون بھرے اور پھر پاکستان کے عدالتی نظام میں عدالتی فیصلہ آنے میں بہت دیر لگتی ہے۔ چنانچہ مقتول کے اکثر ورثاء رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں یا خود کا جلا دینے کی دھمکی دینے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ اور اگر مقتول اور قائل ایک ہی گھر کے فرد ہوں تو مقتول کے ورثاء ہی مجرم کو معاف کر دیا جاتا ہے اور مقدمہ واپس لے لیا جاتا ہے۔

پاکستان میں قتل کی مدعیت مقتول کے ورثا نہیں بلکہ ریاست کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ ریاست کے ایک شہری کا قتل ہوا ہے، مقتول کے خون کا حساب ریاست کو لینا چاہیے کیونکہ ریاست کے پاس حساب لینے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں دیت کی رقم وصول کرنے کے بعد قاتل کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ دیت کا قانون ختم ہونا چاہیے کیونکہ کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کا خون بیچے یا اُس کے خون کی قیمت وصول کرے۔ ورثاء مقتول کی جان کے مالک نہیں ہوتے کہ اُس کا معاوضہ وصول کریں، ہر کوئی اپنی جان کا مالک خود ہوتا ہے، یا اس کے بعد ریاست اُس کی جان کی مالک ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •