امام بارگاہ کربلا گامے شاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مشہور و معروف امام بارگاہ بیرون بھاٹی دروازہ نزد دربار حضرت علی ہجویری واقع ہے۔

کربلا گامے شاہ کا شمار لاہور کی قدیم ترین بلکہ اولین امام بارگاہ میں ہوتا ہے۔ یہ امام بارگاہ بابا سید غلام علی شاہ المعروف گامے شاہ سے منسوب ہے۔ گامے شاہ کے حالات زندگی زیادہ تر زبانی روایات پر مشتمل ہیں۔ سوائے نور احمد چشتی کے ماضی کی کسی کتاب میں ان کے متعلق خاص معلومات نہیں ملتیں۔

چشتی صاحب اس امام بارگاہ کے متعلق لکھتے ہیں ”یہ مکان جنوب رویہ خانقاہ جناب پیر علی ہجویری کے آگے واقع ہے۔ اول یہاں بڑا بھاری قبرستان تھا۔ ابتدا میں مکان یوں بنا کہ سنہ 1805 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک سال تعزیہ نکالنے شہر میں تعصباً موقوف کر کے منادی کرادی کہ جو کوئی تعزیہ نکالے گا سخت سزا یاب ہو گا۔ تب سید گامے شاہ نے یہاں تعزیہ بنوایا اور ماتم کرایا۔ جب رتن سنگھ گرجاکھیہ نے جو عدالتی شہر لاہور کا تھا، سنا تو اس نے اس کو گرفتار کر منگوایا اور ضرب و شلاق کرائی۔ کہتے ہیں کہ بوقت شب کو کچھ خوف آیا اور اس باعث سے اس نے اس سید کو کچھ نذر دے کر رہا کر دیا تب سے یہ مکان مشہور ہوا ہے۔“

اور گامے شاہ کے متعلق چشتی صاحب فرماتے ہیں ”یہ شحص مذہب شیعہ رکھتا تھا اور تمام عمر مجرد رہا اور شہر والے لوگ جو اہل سنت و جماعت تھے سب اس سے عداوت رکھتے تھے۔“ پھر ایک واقعہ درج کیا جس میں شیعہ سنی تصادم کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کو کہنیالال نے بھی بیان کیا ہے۔ 1849 ء اس امام بارگاہ میں شدید شیعہ سنی فساد ہوا تھا۔ بلکہ اہل سنت کے افراد نے اس امام بارگاہ میں موجود تعمیرات کو گرا دیا اور کنویں کو اینٹوں سے بھر دیا تھا۔ خیر اس فساد کی وجہ اور اس کے علاوہ یہاں ہونے والے تَعارُض کی وجوہات یادگار چشتی کے مطالعہ سے معلوم ہو جاتی ہیں۔*

کہنیالال ہندی نے اس امام بارگاہ کا ماضی کا منظر یوں بیان کیا ہے ”یہ بہت وسیع و عالیشان مکان بیرون دروازہ بھاٹی داتا گنج بخش کے مزار پر انوار کے جنوب سمت کو ہے۔ چاروں طرف پختہ چار دیواری بنی ہوئی ہے۔ شمالی و شرقی دو دروازے آمد و رفت کے ہیں۔ چار دیواری کے اندر ایک روضہ مد ور گنبد کا بنام نہام امام حسینؓ صاحب کے پختہ چونہ گچ بنا ہے۔ اس گنبد کے نیچے سرد خانہ ہے جس کے اندر زینہ اتر کر جاتے ہیں، سقف اس کی قالبوتی ہے اور بیچ میں امام حسن و امام حسینؓ کی قبریں وضعی بنائی گئی ہیں اور انہیں پر تعزیہ رکھا جاتا ہے۔ اس میں قبر گامے شاہ کی یے جو بانی مبانی اس مکان امام باڑے کا تھا۔ چھت قالبوتی کے اوپر ایک مقطع بارہ دری بنی ہے۔ اس پر گنبد ہے اس چار دیواری کے اندر درخت بھی بکثرت ہیں اور قبور بھی بہت ہیں۔ مکانات بھی فقرا کے رہنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔“

اس امام بارگاہ کو خاص ترقی قزلباش خاندان کے باعث حاصل ہوئی۔ قزلباش خاندان کا شمار لاہور کے سرکردہ گھرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انگریز عہد میں بہت عروج پایا۔ اس خاندان نے برطانوی راج کو تقویت پہنچانے میں اہم کردار اد کیا۔ بقول گریفن ”100 برس سے زائد عرصے سے علی رضا خاں اور اس کی اولاد سرکار انگریزی کی ایسی عقیدت مندی سے خدمت گزاری کرتی چلی آئی ہے جس کی بالکل بے لوث صداقت میں مطلق شبہ نہیں۔ اور جب تک 1857 ء کے مصائب و آلام اور فتح و نصرت، انگریزی گھرانوں میں روزانہ قصہ کے طور پر یاد رہیں گے تب تک علی رضا خاں اور اس کے بہادر خاندان کا نام تمام سچے انگریزوں کو احترام اور احسان مندی کے ساتھ یاد رہے گا۔ “

جب کچھ عرصہ قبل کربلا گامے شاہ حاضری دی تو داخلی دروازے پر بھی قزلباش خاندان کا نام نظر آیا۔ داخلی دروازے پر درج ہے :

دروازے کربلائے گامے شاہ
با اہتمام : نواب نثار علی خان قزلباش
در محرم الحرام 1354 ہ تعمیر شُد

داخلی دروازے سے آگے ایک جانب دکانیں ہیں پھر ایک اور دروازہ آتا ہے جس پر درج ہے :

باب حسُینیہ
با اہتمام نواب مظفر علی خان قزلباش
بہ نگرانی آغا ناظم وقف
بماہ ستمبر؟ 52 ء (درست نہیں پڑھا جاتا) تعمیر شد

پیچھے کی جانب ایک شعر درج ہے جس کا پہلا مصرعہ تو غالباً ناصر علی سرہندی کا جبکہ دوسرے مصرعہ میں شاید ترمیم کی گئی ہے :

بے ادب پا منہ ایں جا کہ عجب درگاہ است
سجدہ گاہ ملک و روضہ مشاہنشاہ است

آگے جائیں تو ایک قد آور درخت نظر آتا ہے جس کے عقب میں سفید عمارت ہے جس پر گنبد ہے جو کہ کچھ کچھ گرو ارجن کی سمادھ پر موجود گنبد سے ملتا جلتا ہے۔ ایک جانب لنگر خانہ ہے۔ اور دوسرے دروازے کے ساتھ ہی ایک لکڑی کا خوبصورت کمرہ سا ہے جو کہ ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ آگے جائیں تو ایک کمرے میں قزلباش خاندان کی کچھ قبور ہیں پھر تھوڑا آگے ایک چھوٹا سا دروازہ جو قبرستان کی جانب کھلتا ہے، یہاں بہت سے معروف لوگوں کی قبور ہیں جیسا کہ شمس العلماء محمد حسین آزاد، علامہ کفایت حسین، مفتی جعفر حسین صاحب، خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی وغیرہ۔

قبرستان میں مسجد کا پچھلا حصہ نظر آتا ہے جو کہ زیارات کے ساتھ ہی بنائی گئی ہے۔ اس امام بارگاہ کا سب سے اہم حصہ زیارات کا ہے جہاں آئمہ کے روضے کی شبیہات موجود ہیں۔ ایک جانب وہ تعزیہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے اس کو گامے شاہ سر پر رکھ کر لاہور کی گلیوں میں چکر لگایا کرتا تھا۔ گامے شاہ کی ہم عصر ایک خاتون ”آغیاں مائی“ کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے جس نے لاہور میں عزاداری کو فروغ دیا۔

تہہ خانے میں گامے شاہ کی قبر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گامے شاہ کو وفات کے بعد انہی کے حجرہ میں دفن کیا گیا۔ ان کا درست سن وفات باوجود تلاش کے مجھے کہیں نہیں ملا۔ گامے شاہ کے مزار کے پاس حضرت امام حسینؓ کی ضریح نصب ہے اس کے حوالے سے معروف ہے کہ اس ضریح کی بنیاد میں کربلا کے میدان کی مٹی ڈالی گئی ہے اور اسی نسبت سے اس درگاہ کو کربلا گامے شاہ کہا جاتا ہے۔ گامے شاہ کی وفات کے بعد نواب علی رضا قزلباش اور سرنوازش علی قزلباس وغیرہ نے یہ جگہ خرید کر یہاں گامے شاہ کے مقبرہ کے ساتھ لاہور شہر کے مرکز میں امام بارگاہ قائم کی۔

ماضی میں بھی محرم کا مرکزی جلوس یہیں احتتام پذیر ہوتا تھا جیسا کہ سید لطیف نے ذکر کیا ہے ”ہر سال محرم کی دس تاریخ کو فرضی طور پر امام حسین کے زخمی گھوڑے یا دلدل کو یہاں لایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں زیادہ تر شیعہ فرقے کے لوگوں کا بڑا جلوس ہوتا ہے۔ “

اس امام بارگاہ کی کافی تاریخی اہمیت ہے بلکہ عبداللہ ملک صاحب اپنی کتاب ”یہ لاہور ہے“ ہے میں لکھتے ہیں ”حضرت گامے شاہ کے ہاں بھی مجلس عزا ہوتی تھی اور ذوالجناح نکلتا اس مجلس میں تو خود مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ان کی رانی بھی بعض اوقات شرکت کرتیں۔ “

آج بھی لاہور میں اس امام بارگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مبارک حویلی سے بر آمد ہونے والا جلوس مختلف رستے سے ہوتا ہوا اسی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اگر آپ لاہور میں محرم اور اہل تشیع دوستوں کی تاریخ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو یہاں ضرور جانا چاہیے کیونکہ ایسا ممکن نہیں کہ لاہور میں محرم کا تذکرہ اس امام بارگاہ کے ذکر کے بغیر مکمل ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •