زمانہ نیا ہے، اسکول کیوں پرانے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصے کہانیوں میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ فلاں ملک پرایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، بادشاہ بہت رحم دل تھا، رعایا (بغیر ٹیکس دیے ہی) خوشحال تھی، ملکہ بے حد خوبصورت اور رحم دل تھی، بس ایک کمی تھی کہ دونوں کی اولاد نہیں تھی، یہ غم بادشاہ کو روز بروز کھا رہا تھا کہ اُس کے بعد اِس وسیع و عریض سلطنت کا وارث کو ن ہوگا، اُس زمانے میں چونکہ الیکشن کروانے کا رواج نہیں ہوتا تھا اِس لیے بادشاہ کی پریشانی قابل فہم تھی۔ ایک روز بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں گیا، وہاں اُس کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی جنہوں نے بادشاہ کی پریشانی بھانپ کر اسے ایک سیب دیا اور کہا کہ آدھا سیب تم کھاؤ ¿ اور آدھا ملکہ کو کھلاؤ ¿، خدا نے چاہا تو چاند سا بیٹا پیدا ہوگا۔

ہمیشہ ایسا ہی ہوتا، سیب کھانے کے بعد ملکہ امید سے ہو جاتی اور سال کے بعد بادشاہ کے محل میں بیٹا پیدا ہو جاتا، بعض اوقات بادشاہ یہ سیب اپنے غلام کو کھلا دیتا مگر بزرگ کی کرامت سے بیٹا پھر بھی بادشاہ کے ہاں پیداہوتا۔ زیادہ تر کہانیاں ایسے ہی شروع ہوا کرتی تھیں، بادشاہ کبھی کبھی ظالم بھی ہوتا تھا مگر ظالم یا رحم دل، ہربادشاہ اپنے شہزادے کی تعلیم و تربیت کا بہت اہتمام کیا کرتا تھا۔ مختلف علوم کے ماہرین محل میں شہزادے کو تعلیم دینے کی غرض سے بلائے جاتے جنہیں اتالیق کہا جاتا، یہ لوگ شہزادے کو فلسفہ، ریاضی، ادب، فلکیات اور طب وغیرہ کی تعلیم دیتے، صرف یہی نہیں بلکہ شہزادے کو گھڑ سواری، نیزہ بازی، تیر اندازی اور تلوار چلانے کی تربیت بھی دی جاتی مگر یہ تربیت محل سے باہر دی جاتی اور ان فنون کے استاد مختلف ہوتے۔

شہزادے کو اب ہم اُس کے حال پر چھوڑتے ہیں اور تعلیم و تربیت کے اِس ماڈل پر غور کرتے ہیں جو صرف قصے کہانیوں تک محدود نہیں تھا۔ قدیم یونان میں ہمیں اِس ماڈل کی جھلک ملتی ہے، اُس زمانے کے رو ¿سا اپنے بچوں کو سوفسطائیو ں اور یونانی فلسفیوں کے پاس بھیجا کرتے تھے جہاں وہ مختلف علوم کی تعلیم حاصل کرتے، یہی بچے بعد میں بڑے ہو کر سٹیٹسمین اور لیڈر بنتے، جیسے ارسطو ا سکندر اعظم کا اتالیق تھا۔ مسلمان علما نے بھی اسی ماڈل کو اپنایا، مسلمانوں میں ہمیں جتنے بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں وہ سب کسی ایک شعبے کے ماہر نہیں تھے بلکہ انہو ں نے مختلف علوم میں کمال حاصل کیا تھا، ان کے ہاں بھی ایسے ہی اتالیق اور فنون لطیفہ کے ماہر ہوتے تھے جو علم کے حصول کے لیے آنے والوں کو کُندن بنا دیتے تھے۔

پھر وقت بدل گیا، اتالیقی ماڈل کی جگہ مدرسوں اور اسکولوں نے لے لی، لوگوں نے اپنے بچوں کو اسکولوں اور کالجوں میں بھیجنا شروع کر دیا، اب بچہ پہلی جماعت میں بستہ لٹکا کر اسکول میں جاتا ہے، وہاں اسے نصابی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، ان کتابوں کا امتحان لیا جاتا ہے اور جب بچہ اسکول کالج کے تمام امتحانات پاس کر لیتا ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ اب یہ عملی زندگی کے لیے تیار ہے۔ لگ بھگ سارے اسکول، نجی یا سرکاری، میٹرک یا او لیول، اسی ماڈل پر چلتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ مہنگے پرائیویٹ اسکول اب صرف یہی دعویٰ نہیں کرتے کہ اِن کے اسکول کے بچوں اول آتے ہیں بلکہ اِن اسکولوں نے اپنے دفاتر میں اس قسم کے پوسٹربھی لگا رکھے ہیں کہ ”جنید سے ملیں، یہ ایک گٹار اسٹ ہے، ہمیں جب جنید کے ٹیلنٹ کا پتا چلا تو ہم نے اس کے ہنر کو نکھارنے میں مدد دی، آج جنید پاکستان کے طول عرض میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے“ یا پھر ”ماہین سے ملیں، ماہین کہانیاں لکھتی ہے، حال ہی میں اس کا ناول شائع ہوا ہے جس کی ادبی میلے میں پذیرائی بھی کی گئی ہے، اسکول نے ماہین کی حوصلہ افزائی کی اور لکھنے کے لیے ساز گار ماحول فراہم کیا، ہم آپ کے بچوں کی بہترین صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ “ یہ سب بکواس ہے۔ اسکولوں میں ڈرامے، تقاریر اورکھیلوں کے کلب وغیرہ ضرور ہیں مگر اصل مقصد وہی ہے، نصابی کتابیں پڑھنا، امتحان دینا اور بہترین نمبروں سے کامیاب ہو کر ماں باپ کا نام روشن کرنا تاکہ اچھی سی نوکری کے ساتھ خوبصورت بیوی یا تابعدار شوہر کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

آج سے دو سو سال پہلے ہوائی جہاز سے لے کر انٹر نیٹ تک کچھ بھی نہیں تھا، اگر دو سوسال پرانا کوئی شخص آج زندہ ہو کر اِس دنیا میں واپس آجائے تو اُس کے لیے ہر چیز نئی ہو گی سوائے اسکولوں کے (یہ بات کسی نے کتاب میں بھی لکھی تھی، نام یاد نہیں)، تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ عمارت، بینچ، کلاس روم، بورڈ، سب ویسے کے ویسے ملیں گے اور طریقہ تدریس بھی وہی پرانا۔ آج اگر اس دور کی ہر شے بدل چکی ہے تو اسکول کیوں نہیں بدلے، آج ہمیں کسی دفتر میں فیکس مشین تک نہیں ملتی جو دس سال پہلے تک ایک نہایت کا ر آمد چیز تھی، مگر اسکول ویسے کے ویسے ہیں، آج سے پچیس سال پہلے اخبارات میں جیسے کام ہوتا تھا اب ویسے نہیں ہوتا مگر اسکول اسی ڈگر پر چل رہے ہیں، آج سے سو سال پہلے جس طرح جنگیں لڑی جاتی تھیں آج ان کا تصور بھی مضحکہ خیز ہے مگر اسکولوں کے طریقہ کار میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

آج کا اسکول اکیسویں صدی کا اسکول لگنا چاہیے سترہویں صدی کا نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں کے فرسودہ ماڈل کو تبدیل کیا جائے۔ دو طریقوں سے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ پہلا یہ کہ ملک میں اتالیق تلاش کیے جائیں بالکل ویسے جیسے بادشاہ اپنے شہزادے کے لیے کرتا تھا۔ یہ کام مشکل ہے نا ممکن نہیں۔ ہر معاشرے میں اپنے اپنے علوم کے ماہرین ہوتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی اسکول یا یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی ہوں، ان تمام ماہرین کا ایک ”پول“ تیار کیا جائے جس میں گویا ہر شعبے کے اتالیق ہوں گے، اسکول صرف ایک ریسورس سینٹر کی عمارت ہو گی جہاں تیز رفتار انٹر نیٹ اور کمپیوٹر وغیرہ کی مکمل سہولت ہوگی، اتالیق کا ہر بچے سے ”ورچوئل“ (مجازی ) رابطہ ہوگا، بچوں کو انٹر نیٹ پر یکطرفہ لیکچر نہیں دیے جائیں گے بلکہ بچے اتالیق سے سوال جواب کر سکیں گے، بالکل ویسے جیسے افلاطون اپنے شاگردوں کو سوال جواب کے طریقے سے سچائی سے روشناس کرواتا تھا، یوں سمجھیں جیسے ایک اعلی ٰ پائے کا مصور، لکھاری، موسیقار، ریاضی دان یا کسی بھی فن کا ماہر بچوں کا اتالیق مقرر ہے اور بچے ریسورس سینٹر یا اپنے گھر میں بیٹھ کر بھی اتالیق سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اِس ریسورس سینٹر کے علاوہ اسکول شہر کے مختلف حصوں میں کھیل کے میدان/جمنیزیم وغیرہ مختص کر ے گا جہاں بچے غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے جائیں گے جیسے جمناسٹک، گھڑ سواری، تیراکی، شوٹنگ، سکیٹنگ، یہی نہیں بلکہ انہیں دیگر ادب آداب بھی سکھائے جائیں گے جیسے بول چال اور تقریرکا فن، باہمی احترام، مذہبی رواداری، آئین اور قانون کی اہمیت وغیرہ۔ یہ کام حکومت بھی کر سکتی ہے اور کوئی نجی ادارہ بھی، نجی ادارہ اگر کرے گا تو اس میں صرف امرا کے بچے ہی جا پائیں گے کیونکہ یہ ایک بے حد مہنگا ماڈل ہوگا، اس لیے حکومت اتالیق کا ایک پول بنا کر یہ کام غریب بچوں کے لیے کر سکتی ہے، باقی سہولتیں جیسے کھیل کے میدان یا جمنیزئیم حکومت کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن یہ تمام باتیں خام خیالی ہیں۔ جس ملک میں سرکاری اسکول میں جانور باندھے جاتے ہوں وہاں افلاطون کے ڈائیلاگ کی طرز پر تعلیم کی بات کرنا دیوانے کا خوا ب ہی ہے۔ لیکن ہمیں ہے حکم اذاں سو ہم اپنا کام کرتے رہیں گے!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کی گئی تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 337 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada