تجزیہ نگاروں کا پراسرار غول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پتہ نہیں یہ لوگ کہاں سے آن ٹپکے اور پلک جھپکتے میں تجزیہ نگار بلکہ سینئر تجزیہ نگار بن بیٹھے حالانکہ ان کی تجزیہ نگاری سننے اور دیکھنے سے بہتر ہے کہ کوئی مزاحیہ پروگرام دیکھا جائے۔

ایک صاحب تو باقاعدہ لکھ کر یا لکھوا کر لاتے ہیں اور اپنی “طوطا نما” تجزیہ نگاری سے احمقوں کو مزید احمق بناتے ہیں۔

سُنا ہے ایک لائیو شو کے دوران اس کے ایک ساتھی نے وقفے کے دوران اس کا “تجزیہ“ چرایا جس پر کافی تلخی بھی ہوئی لیکن تجزیہ چور کو شاید خود بھی اس کی ضرورت تھی کیونکہ موصوف خود بھی ایسے ہی صحافتی تاریخ کے حامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہیرو بننے کے شوق میں سکرین پر دھاڑنے کے بعد اپنے بے ڈھنگے موضوعات پر مشتمل کتاب اور تحائف لے کر “دوستوں“ کی خدمت میں بھی حاضر ہو جاتے ہیں تاکہ “پرانا سلسلہ اور خدمات“ بھی برقرار رہیں اور صفائی ستھرائی کے لئے صافی بھی جھاڑتے رہیں۔

سو کہنا یہ ہے کہ اس عہد کم ظرف اور شہر ناپرسان میں سینئر تجزیہ نگار بننے کے لئے ضروری نہیں کہ آپ طویل تجربے شاندار صحافتی کیرئیر لکھنے پڑھنے کی صلاحیت اور پیشہ ورانہ ایمانداری کے حامل ہوں بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ طاقت کے منطقوں تک اپنی بے ضمیری اور بے حسی سمیت رسائی حاصل کریں پھر بنتے جائیں سینئر تجزیہ نگار اور کھاتے جائیں لوگوں کے دماغ۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں حماقت کی اس کھیپ میں ابھی کمی نہیں آئی جو ان “اساتذہ“ کے تجزیوں کی نہ صرف داد دیتے بلکہ اپنی “علم میں اضافہ“ کا ذریعہ بھی بناتے رہتے ہیں جس سے آمریت پسندی، جاہلیت، پروپیگنڈہ اور بہتان طرازی کا بازار گرم ہے۔

اور یہی گرمئی بازار تو مطلوب ہے تبھی تو علم اور تجربے سے عاری لونڈوں کی چاندی ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے جب اینکر اور تجزیہ نگار ہی اس معیار کے ہوں تو شرکا گفتگو بھی کوئی ولی خان یا نوبزادہ نصراللہ تو نہیں ہوں گے۔ اس لئے جب اگلے دن ایک ٹاک شو میں پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے ارشاد فرمایا کہ سلمان شہباز موجودہ کشمیر کمیٹی کے چیئیرمین ہیں تو اس پر کوئی باشعور اور با خبر آدمی ہرگز نہیں چونکا کیونکہ وہ الیکڑانک میڈیا پر سجائے گئے سرکس اور اس کے پس منظر سے بخوبی واقف ہے۔

پچھلے دنوں ایک اینکر پرسن دوست شکوہ کرنے لگا کہ اب پروگرام پر فیڈ بیک نہ ہونے کے برابر ہے تو ایک منہ پھٹ صحافی نے جواب دیا کہ کیوں آپ گالیوں کو فیڈ بیک کے زمرے میں شمار نہیں کرتے؟

بھلے وقتوں میں کسی اچھے صحافی کی پہچان اس کا مطالعہ اور انداز تحریر ہی ہوا کرتی تھے ،لیکن اب “تعلقات خاصہ” جدید تراش خراش کے سوٹ اور بے معنی گفتگو ہی معیار ٹھہرے۔

ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ آج کل کے صحافی کتاب کو ماں بہن سمجھ کر اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ سو یہی وہ صورتحال ہے جس نے نہ صرف ایک عظیم اور قابل احترام پیشے یعنی صحافت کو غلاظت بنا کر رکھ دیا ہے بلکہ قوم کو ایجوکیٹ کرنے کی بجائے جاہلیت کی طرف دھکیلا جس کے بطن سے تباہ کن اخلاقی سیاسی اور معاشی منظرنامہ ہی برآمد ہوا۔

اب اگر کوئی درد دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر مبنی بر حقائق تجزیہ کرے بھی تو اسے بہت سے خطرات کے ساتھ ساتھ ان گالیوں اور الزامات کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے جو ایک نوزائیدہ سیاسی غول کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور پھر لفافہ اور خوشامدی تو ان کے مرغوب الفاظ ہیں یعنی زندانوں میں پڑے لوگوں کی خوشامد اور ان سے مفادات کا حصول؟ لیکن ان لوگوں سے کیا شکوہ جنہیں اپنی تباہی اور بربادی تک کا نہ ہی شعور ہے اور نہ ہی دکھ۔

لیکن اس مایوس کن حالات میں بھی اُمید کی کرن ہرگز بجھی نہیں بلکہ اس نقارخانے میں بہت خفیف ہی سہی لیکن خوش گلو طیور کی آواز بھی برابر گونج رہی ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ صحافت پر جینوئن صحافیوں کی بجائے مخبروں اور ٹاؤٹوں کے غلبے نے اس عظیم پیشے اور سنجیدہ روایت کو یقینًا ناقابل اعتبار اور آلودہ تو کر ہی دیا ہے لیکن ایک عبوری دور سے گزرتے اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف صحافتی منتقلی اور پیش رفت میں یہ سب کچھ اتنا عجیب بھی نہیں۔ ذرا یہ گرد تمھنے اور سکون ہونے دیں۔ پختگی آئے گی تو بانسوں پر چڑھائے گئے تجزیہ نگار اور اینکر پرسنز اتر بھی آئیں گے اور کسی متروک عہد کے راستوں کی دھول بھی ہو جائیں گے۔

البتہ ان کے تجزیے اور کارنامے تاریخ کے ہاتھوں میں ہوں گے جسے وقت کا مؤرخ سفاک حقائق کے ساتھ اپنے نوک قلم سے پرکھے گا اور تاریخ کے کوڑے دان میں اچھال دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •