غیر ممنوعہ بور اسلحہ لائسنز: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوہری حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غیر ممنوعہ بور اسلحہ لائسنز‘جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھادیئے۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت ملک میں دو طرح کے قانون چلا رہی ہے، اگر ہتھیار بطور تحفہ یا پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے بنے ہوں تو صدر، وزیر اعظم، وزراءاعلیٰ، 22 گریڈ افسران اور ججز پی او ایف سےحاصل کیے گئے لائسنس حاصل کرنے کے اہل ہیں ۔ حکومت نے 9 کٹیگریز میں شامل آئینی عہدیداران کو پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے حاصل کیے گئے ممنوعہ بور کے ہتھیار بطور تحفہ قبول کرنے کی اجازت دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق،سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ /حکومت ملک میں دوطرح کے قوانین پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس پر واضح شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں کہ نوٹیفکیشن (پالیسی برائے غیر ممنوعہ بور اسلحہ لائسنز) آئینی ضروریات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

نوٹیفکیشن سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اسلحہ نگرانی کے قوانین بھی نظر انداز کیے گئے ہیں۔ خط میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ خطرناک، ممنوعہ بور ہتھیاروں کے پھیلائو کی حوصلہ افزائی کر کے حکومت ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کونسا اخلاقی طریقہ کار استعمال کررہی ہے۔

حکومت نے 21 اگست، 2019 کو غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس کے اجرا سے فوری پابندی اٹھا لی تھی۔ جس کے بعد وزارت داخلہ نے 26 دسمبر 2017 کو معطل کیے گئے پچھلے لائسنس بھی بحال کردیئے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 205 کے مطابق، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی ملازمت کے قواعد و ضوابط ففتھ شیڈول کے مطابق ہی ہیں۔ اس میں تنخواہ، الائونسز اور مراعات شامل ہیں، جس کا جج حق دار ہوتا ہے اور اس کا تعین صدر کرتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرارکی جانب سے 5 ستمبر، 2019 کو لکھے گئے خط کا جواب دے رہے تھے۔ یہ نوٹیفکیشن وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جس میں اشخاص کی 9 کیٹیگریز کا ذکر تھا جو ممنوعہ بور کے ہتھیار حاصل کر سکتے تھے، جو کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے حاصل کیے گئے ہوں اور جو بطور تحفہ انہیں بھیجے گئے ہوں۔ ان میں سے ایک کٹیگری سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی بھی تھی۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن میں اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے کہ ان 9 کٹیگریز میں شامل افراد ممنوعہ بور کے ہتھیار کیوں حاصل کر سکتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کی برابری کی بات کرتا ہے اور قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ عہدے کی بنیاد پر کسی کو فائدہ پہنچایا جائے۔ ججوں کا ضابطہ اخلاق بھی اس طرح کے تحائف قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن پر متعدد آئینی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آئینی عہدیدار ممنوعہ ہتھیار بطور تحفہ کیوں قبول کرے گا؟ یہ ہتھیار وہ کس سے وصول کریں گے؟ جو یہ تحائف بھجوائے گا، وہ خود یہ ہتھیار کہاں سے لے گا؟ کیا وہ قانونی طور پر یہ ہتھیار حاصل کرے گا یا پھر غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے ہتھیار تحفے کے طور پر دے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •