ایف بی آر میں حیران کن تبادلے اور تقرریاں:  ٹیکس مشنری میں سفارش کا عنصر بڑھ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیڈرل بیورو آف ریونیو میں حالیہ تبدیلیوں نے واضح کردیا ہے کہ ٹیکس کلیکشن مشنری میں اصلاحات متعارف کرانے کا خواب حکومت کی خواہش کے باوجود ا بھی تک پورا نہ ہوسکا۔ ایف بی آر میں حالیہ تبادلوں یا تقرریوں کے حوالے سے دلچسپ اور غیر معمولی معملات سامنے آئے ہیں۔

ایف بی آر کی اعلیٰ انتظامیہ نے ایک عہدیدار کا تقرر حیدرآباد میں کیا ہے جس کی فائلیں جعلی فنڈز کے اجرا کے باعث مبینہ طور پر الزامات سے آلودہ ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حالیہ تقرریوں کے بعد ایف بی آر 5550 ارب روپے کے اپنے مطلوبہ ہدف کو کیسے حاصل کر پائے گا۔

حالیہ اہم تبدیلیوں کے بارے میں ایف بی آر کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ انہوں نے اعلیٰ انتظامیہ سے کہا تھا کہ اہم تبدیلیاں کرنے سے پہلے دیانت داری کے پہلو سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کلیئرنس حاصل کی جائے لیکن وہ ان مخصوص کیسز کے بارے میں نہیں جانتے تھے کہ آیا اسے میرٹ پر کیا گیا یا کسی نے اپنی پسندیدہ تقرریوں کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

5500 ارب روپے کے ہدف کے لئے حکمت عملی کے حوالے سے پوچھا گیا توایف بی آر حکام نے کہا کہ انہوں نے فکسڈ ہدف کے حصول کیلئے ایک جامع پلان مرتب کر لیا ہے اور کچھ افراد کی ٹرانسفر پوسٹنگ مطلوبہ ہدف کے کوششوں پر اثر انداز نہیں ہو گی۔

مھصولات کی وصولی میں حوصلہ افزا بہتری آئی ہے اور ایف بی آر رواں مالی سال کے دوران ریونیو بڑھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ دیانت داری کے حوالے سے بری شہرت رکھنے والے افسران گزشتہ دس سالوں میں ناکام رہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افسران کی ذاتی فائلوں کی جانچ پڑتال اس تصدیق کیلئے کی جا سکتی ہے کہ آیا ریکارڈ پر سنجیدہ الزامات موجود ہیں یا محض ان کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں افسوسناک صورتحال ختم نہیں ہوئی جیسا کہ ایف بی آر نے گزشتہ ماہ پنجاب کے ایک شہر سے دو کمشنرز دوسرے شہر میں مقر کر دئیے لیکن دونوں نے اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا۔ جب ریجنل کمشنر اس معاملے کو ایف بی آر کے نوٹس میں لائے تو پھر بورڈ کے ایڈمن ونگ نے ایک شوکاز نوٹس جاری کیا اور وضاحت طلب کی کہ انہوں نے اپنے عہدوں کا چارج کیوں نہیں سنبھالا۔ اس شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے بجائے ایک افسر اپنے تبادلے کا آرڈر واپس لینے میں کامیاب ہوگیا اور پھر سے چند ہفتوں کے اندر اپنی تقرری کرالی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اس قسم کے مشتبہ اقدامات واضح طور پر اشارہ ملتا ہے کہ ٹیکس مشنری کی صفوں میں سفارش کا عنصر بڑھ گیا ہے۔ ادھر دوسرے کمشنر نے اپنی نئی پوسٹنگ کا چارج اب تک نہیں سنبھالا۔

(ماخذ: مہتاب حیدر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •