حسن، شباب اور کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں خوش نصیب ہوں کہ میں اس زمانے میں دو بار کراچی شہر میں رہا جب ایم کیو ایم اور بعض اس جیسی دوسری متشدد تنظیموں نے جنم نہیں لیا تھا، اس دور کے شہر کے بارے میں راوی چین ہی چین لکھا کرتا تھا، کراچی کا سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ لاہور سے مختلف نہیں بلکہ زیادہ مضبوط تھا، اس دور کو سوچتا ہوں تو سوچتا ہی رہ جاتا ہوں، گو آج کراچی پھر پر سکون ہے لیکن اس سکون میں ایک سکوت بھی محسوس ہوتا ہے، یقیناً وہ شہر جس کا سینہ سالہا سال تک زخمی زخمی رہا ہو، آج اس کے چہرے پر وہ حسن و جمال اور وہ رعنائیاں کیسے دیکھی جا سکتی ہیں، جن کی آغوش میں کبھی میں بھی رہا کرتا تھا، کسی موذی بیماری کے بعد انسان لاکھ تندرست ہوجائے، اس کے چہرے کی اصل شادابی کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتی، ستر کی دہائی ختم ہوئے ابھی دو تین سال ہی بیتے تھے جب میں نے کراچی میں اپنی زندگی کے خوبصورت اور سنہری دن گزارے، موسم گرمی کا ہو یا سردی کا، شام کے وقت صدر کے علاقے میں گھومنے کا جو لطف آتا وہ میخانوں میں بیٹھنے میں بھی میسر نہیں آتا تھا، لوگ ایک دوسرے کا خیال اور دھیان رکھا کرتے تھے، کرایہ داروں سے مالک مکان رات کو پوچھنے جاتے تھے کہ ان کے لئے کھانا لایا جائے؟

 ایک بار میں نے کرائے کا ایک مکان بدلا، جب سامان لادا جا رہا تھا تو مالک مکان کے سارے گھر والے وہاں آگئے، خواتین اور بچوں کی آنکھوں سے آنسو جھلک رہے تھے، وہ مرحوم ولایت علی اصلاحی صاحب اور ان کے گھر والوں کی نوازشیں، وہ آجکل شدید علیل شبر اعظمی کی والدہ اور پھوپھی جی کے ضعیف ہاتھوں کے لذیذ کھانے، احفاظ الرحمان اور مہ ناز رحمان کا پیار اور شفقتیں، کس کس کو یاد کروں؟ چلیں آج آپ کو اس دور کے کراچی لئے چلتے ہیں جہاں کبھی حمیدکشمیری اور ابراہیم جلیس جیسی شخصیات کے دم سے زندگی ہی زندگی تھی، قہقہے تھے مسکراہٹیں تھیں اور خلوص تو اس شہر کے کونے کونے میں اس طرح بکھرا پڑا تھا جیسے آج کل کراچی میں ہر سو کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا ہے۔  جسے سمیٹنے کی جنگ میں بات کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں دینے اور ملکی سالمیت تک جا پہنچی۔

ممتاز ناول نگار، افسانہ نویس، اور درجنوں ٹی وی ڈراموں کے خالق حمید کاشمیری کی شہرت عروج پر تھی، پورے ملک میں ان کے نام کا ڈنکا گونج رہا تھا، لیکن ان کے روزگار کا اصل وسیلہ کتابوں کا وہ تاریخی ٹھیلہ تھا جو صدر کراچی کی الفنسٹن اسٹریٹ کے وسط میں رات دس بجے تک فٹ پاتھ پر سجا رہتا تھا، اس ٹھیلے پر اردو اور انگریزی ادب کی سینکڑوں کتابیں نہایت ترتیب سے رکھی ہوتی تھیں، جو کتاب پاکستان میں کہیں دستیاب نہ ہوتی وہ حمید کاشمیری کے ٹھیلے سے شرطیہ مل جاتی تھی، اس ٹھیلے کا دوسرا امتیاز یہ تھا کہ وہاں بڑے بڑے قد آور ادیب، شاعر اور صحافی بھی روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزارا کرتے تھے، میں نے وہاں اکثر ”خدا کی بستی“ والے شوکت صدیقی صاحب، ابراہیم جلیس، خالد علیگ، دلاور فگار، ابن انشائی، افتخار عارف، جمیل الدین عالی اور عبید اللہ علیم جیسی شخصیات کو بھی دیکھا۔

میرے لئے تو ان لوگوں کا دیدار کرلینا اور ان کے قریب کھڑے ہوجانا ہی عبادت تھا، ایک ریاضت تھی، لاہور سمیت پاکستان سے ہی نہیں ہمسایہ ملک کی ادبی ہستیاں اور فنکار بھی جب کراچی جایا کرتے تھے، حمید کشمیری کے ٹھیلے پر حاضری دینا شاید وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے، مثلاً میں نے اسی ٹھیلے پر فیض احمد فیض، احمد فراز اور قتیل شفائی کی بھی پہلی بار زیارت کی تھی، اس قد کے جو لوگ تو عموماً وہاں جاتے رہتے تھے، حمیدکشمیری ان کے لئے چائے قریبی ایرانی ہوٹل سے منگوا لیا کرتے تھے، یہ ایک کپ چائے ہوتی جو چھوٹی سی کیتلی میں وہاں پہنچتی، ایک فالتو کپ حمیدکشمیری صاحب نے اپنے ٹھیلے پر رکھ چھوڑا تھا، جب مہمان ایک ہوتا تو چائے دو کپوں میں تقسیم ہوجاتی، جو ادبی شخصیات دوسرے شہروں سے آتیں انہیں وہ ٹھیلے کو چھوڑ کر ساتھ زینس کافی ہاؤس لے جاتے جو اس جگہ سے تھوڑا سا آگے تھا۔

جب میں لاہور سے کراچی جا رہا تھا تو میرے والد نے مجھے اپنے تین دوستوں کے نام خط لکھ کر دیے تھے ان تین میں سے ایک نام حمید کشمیری کا بھی تھا اور دوسرے دو تھے اداکار کمال اور ممتاز مزاح نگار ابراہیم جلیس، میں نے یہ تینوں خطوط ابھی تک اپنی جیب میں ہی رکھ چھوڑے تھے، حمید کشمیری صاحب کو تو روزانہ دیکھتا تھا مگر انہیں ہاشمی صاحب کا رقعہ نہیں دیا تھا، کمال صاحب اور ابراہیم جلیس صاحب سے اس وقت تک ملاقات بھی نہیں کر سکا تھا، ایک دن میں نے اپنی ساری جھجھک اتار کر باپ کا دیا ہوا خط حمید کشمیری صاحب کے ہاتھ میں تھما ہی دیا، خط پڑھ کر انہوں نے مجھے گلے سے لگا لیا اور میرا ہاتھ تھام کر مجھے ایک قریبی ہوٹل میں لے گئے، انہوں نے چائے پلانے کی بجائے مجھے زبردستی کھانا کھلایا، پھر اچانک کہنے لگے، بیٹا! میں تو تمہیں کئی ہفتوں سے اپنے ٹھیلے پر آتے دیکھ رہا ہوں، یہ خط میں نے انہیں آج کیوں دیا؟ میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے جواب دیا، چاچا جی! بس ویسے ہی ایک جھجھک سی تھی۔

اداکار کمال نرسری کے علاقہ میں ایک بہت بڑے بنگلے میں رہا کرتے تھے، یہ ان کا آبائی گھر تھا، میرے علم میں تھا کہ کمال صاحب کا تعلق کسی نواب خاندان سے ہے، میں اس علاقے سے کئی بار گزرا لیکن کبھی ان سے ملاقات کے لئے نہ جا سکا، البتہ حمید کشمیری سے تعارف ہوجانے کے کچھ دنوں بعد ابراہیم جلیس سے ملنے کی ٹھان لی۔ وہ پیر الہی بخش کالونی میں کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہ رہے تھے۔  ایک نامور کالمسٹ اور صحافی کو اس خستہ حالی میں دیکھ کر مجھے کوئی صدمہ نہ ہوا، بلکہ میرے وجود میں ان کی توقیر اور بڑھ گئی، اس واقعہ کے تین سال بعد دوبارہ کراچی گیا تو سب سے پہلے ابراہیم جلیس صاحب سے ملا، وہ ان دنوں بندر روڈ پر کرائے کے ایک چھوٹے سے آفس سے ہفت روزہ ”عوامی عدالت“ نکال رہے تھے، سب کچھ وہ اکیلے ہی کیا کرتے تھے سوائے کتابت کے، مالی حالت مخدوش تھی، ہرہفتے رسالہ نکال لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔

میں اپنے روزنامہ میں ڈیوٹی پر ہوتا تو اکثر ان کا فون آجاتا، وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بتاتے اور یہ چیزیں میں اپنے آفس سے نکلوا کر خود انہیں پہنچا آتا۔ اسی بہانے گپ شپ بھی ہو جاتی، میں جلیس صاحب کا فین بن چکا تھا۔ طنزیہ کالم لکھنے کا جو ہنر ان کے ہاتھ میں تھا اور کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ صرف اور صرف عام آدمی کے لئے لکھتے تھے، وہ طبقاتی معاشرے میں مساوات کے خواہاں تھے، برے سے برے حالات میں بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں رہتی اور وہ اس مسکراہٹ کو ہر چہرے پر دیکھنا چاہتے تھے، 1978 ء میں ابراہیم جلیس کراچی میں ایک اخبار کے ایڈیٹر بنا دیے گئے، یہ منصب انہیں اس وقت ملا جب میڈیا کی آزادی کو جنرل ضیاء الحق نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنا رکھا تھا، انہی حالات میں ابراہیم جلیس کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ہمیں چھوڑ گئے، ان کی موت پر میں نے نوحہ لکھا، عنوان تھا ”مسکراہٹ کی موت“

بشکریہ روز نامہ 92 نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •