دو فیصد پادری کم عمر بچوں سے جنسی تعلق رکھنا چاہتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس اول نے کہا ہے کہ باوثوق معلومات سے پتہ چلا ہے کہ کیتھولک چرچ کے ’دو فیصد پادری‘ پیڈوفائلز یعنی بچوں سے جنسی تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔

اطالوی اخبار لاریپبلکا کے مطابق پوپ نے کہا کہ بچوں کا جنسی استحصال ’کوڑھ‘ کی طرح ہے جس نے چرچ کو متاثر کیا ہے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ضرورت کے مطابق اس کی بھر پور مزاحمت کریں گے۔

تاہم ویٹیکن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جس طرح اطالوی اخبار میں بات کی گئی ہے، پوپ نے ویسی بات نہیں کی تھی۔ روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ویلی کا کہنا ہے کہ پوپ کے بغیر تیاری کے بیانات میں اکثر ابہام ہوتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار نے مزید کہا کہ پوپ اپنے پیش رو کی نسبت چرچ کی تعلیمات کے بارے میں زیادہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں جو غیر متوقع طور پر ان کے میڈیا مشیروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پوپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ چرچ میں دو فیصد پادریوں کے بچوں کی طرف راغب ہونے کی شرح ان کے مشیروں نے بتائی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں 414000 پادریوں میں تقریباً 8000 پادری بچوں سے جنسی تعلق رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ عام لوگوں میں بچوں سے جنسی تعلق رکھنے کے خواہشمند افراد کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، لیکن بعض اندازوں کے مطابق یہ پانچ فیصد سے کم ہے۔

پوپ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’بچوں سے جنسی تعلق رکھنے کے خواہشمند ان دو فیصد افراد میں پادری، بشپ، اورکارڈینل بھی شامل ہیں۔ دیگر بہت سے افراد ہیں لیکن وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں۔ پوپ نے کہا کہ ’میں ان حالات کو ناقابلِ برداشت سمجھتا ہوں۔

اطالوی اخبار لا ریپبلکا نے پوپ کے انٹرویو کے بارے میں سرخی دی کہ ’پوپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ کی طرح مجھے بھی بچوں سے جنسی تعلق کی خواہش رکھنے والے پادریوں کے خلاف ڈنڈا استعمال کرنا چاہیے۔

ویٹیکن کے ترجمان فادر فیڈریکو لومبارڈی نے اس بات کی تردید کی کہ پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ کارڈینلز میں سے بھی کچھ بچوں سے جنسی تعلق کی خواہش رکھتے ہیں۔ سنہ 2014 میں پوپ فرانسس نے بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف ویٹیکن کے قوانین سخت کر دیے تھے۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •