سانپ کی فطرت اور سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اک عورت نے اژدھا ( سانپ ) پالا ہوا تھا۔ اس عورت کو اژدھا بچوں کی طرح عزیز تھا۔ وہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتی، پلاتی، سلاتی تھی۔ کچھ عرصے بعد اژدھے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ عورت پریشان ہوئی اور اس کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے اژدھے کو بغور دیکھا اور عورت سے پوچھا آپ اس کو اپنے ساتھ سلاتی ہیں۔ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے پھر پوچھا کیا یہ آپ کے ساتھ لیٹ کر اپنے اپنا جسم اکڑاتا ہے۔ عورت نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے کہا یہ سانپ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

آپ ویدوں سنیاسی باواؤں اور جوگیوں سے پوچھ لیں سانپ نے آج تک کسی سے وفا نہیں کی۔ وہ بھی سانپ کے زہر کا نشانہ بنے جنہوں نے اسے پالا پوسا اپنے ہاتھوں کھلایا پلایا۔

سپاں دے پت میت نہ تھیندے
بھاویں چلیاں دودھ پلائیے ہو

سانپوں کے قصے کو اک طرف رکھ کے آگے بڑھتے ہیں۔ حکومت کو شدید سیاسی پختگی کی ضرورت ہے۔ کراچی کے معاملے پہ ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ بلکہ کراچی ہی نہیں سندھ پہ بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے بقیہ صوبہ اس نظر کرم سے محروم کیوں رہے۔ سندھ میں پہ حاکم علی زرداری کی اولاد نے کون سے گل کھلائے ہیں وہاں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کراچی سے ایک سال میں اتنا ریونیو اکٹھا ہوسکتا ہے جو پورے پاکستان کو پانچ سال چلا سکتا ہے۔ مگر کسی سیاستدان نے، کسی سیاسی جماعت نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ سب نے کراچی کو چوری کا مال سمجھا اور جی بھر کے لوٹا۔

کوئی ساتھی نہ ملا ساتھ نباہنے والا
جو ملا بھی تو میرے گھر کو جلانے والا

ایم کیو ایم خود کو کراچی کی نمائندہ کہتی تھی مگر ان کا زور بھتہ خوری اور الطاف حسین کی بیوقوفیوں کی نظر ہوگیا۔ ایم کیو ایم کی دیکھا دیکھی بقیہ جماعتیں بھی پیچھے نہ رہیں۔ بھتہ خوری کو فروغ دینے کے لیے پیپلزپارٹی نے پیپلز امن کمیٹی تشکیل دی۔ اسی دور میں بابا لاڈلہ، عزیر بلوچ اور لیاری وار گینگ کو عروج ملا۔ پیپلز پارٹی اک عشرے سے سندھ اور کراچی کی بلا شرکت غیرے حاکم ہے۔ اس دور میں اگر کسی چیز کو ترقی ملی ہے تو وہ کچرا، گندگی، تعفن اور کرپشن ہے۔ آرٹیکل 149 بھی آئین پاکستان کا حصہ ہے۔ ملک کے کسی بھی حصہ کی بہتری کے لئے اقدامات کرنا اس کی انتظامی ذمہ لینا غیر آئینی نہیں (آرٹیکل 149 مرکزی حکومت کو صوبے کے کسی حصے کی انتظامی ذمہ داری سنبھالنے کا اختیار نہیں دیتا ہے: مدیر)۔ اس بات پہ ملک توڑ کی دھمکی دینا سندھو دیش کا نعرہ لگانا جب پورا ملک تقریباً حالت جنگ میں اور کشمیر میں آگ لگی ہوئی یہ کام کوئی کم ظرف ہی کرسکتا ہے۔ کہتے ہیں عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں۔

جس طرح محسن کشی، ڈسنا سانپ کی عادت، فطرت اور جبلت ہے یہ فن اس کو ورثے میں ملا ہے۔ اس طرح اس دنیا میں زیادہ تر انسانوں کے نظریات بھی موروثی ہوتے ہیں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں آپ کو لوگ اپنے باپ دادا کے مذہب، فرقہ اور وابستگیوں کے ساتھ جڑے نظر آئیں گے۔ یہی وابستگی سیاست میں بھی نظر آتی ہے۔ جن سیاستدانوں کی آباء پاکستان اور قائد اعظم کے مخالف تھے ان کی آل اولاد نے بھی وہی لائن اختیار کی اور پاکستان اور قائد اعظم کی ذات کو داغدار کرتے رہے۔

ایک بزرگ سیاست دان ہوا کرتے تھے نام جن کا تھا حاکم علی زرداری۔ حاکم علی زرداری نے سیاست میں کون سا تیر مارا اس پہ تو تاریخ کی کتب لب بستہ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کے ایک سیاستدان کو اس کی حرکتوں کی وجہ سے زچ ہوکر غصہ میں آکر تھپڑ مارا تھا اس کا نام بہت سے لوگوں کو آج بھی یاد ہے۔ حاکم علی زرداری کا ہونہار بروا آصف علی زرداری صدر پاکستان بنا۔ آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری صاحب کے کئی انٹرویو انٹرنیٹ پہ موجود ہیں۔

حاکم علی زرداری کے پاکستان اور قائد اعظم کے بارے میں فرمودات، لغویات، فحش گوئی اور مغلظات بہت سے لوگوں نے سن رکھے ہیں۔ اسی حاکم علی زرداری کا خاندان آج کل اشرافیہ میں شمار ہوتا ہے۔ یہ زرداری خاندان پچھلی کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی طرح مسند نشین ہے اور ہر طرح کے فوائد سمیٹنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ حسن اتفاق نہیں سندھ اور کراچی کے جرائم کا سرا کسی نہ کسی طرح حاکم علی زرداری کے گھر بلاول ہاؤس جاکر نکلتا ہے۔ وہ انکل ڈنشا سریا ہو۔ مراد علی شاہ کی کرپشن ہو۔ ایان علی کی منی لانڈرنگ ہو۔ ڈاکٹر عاصم کی فنکاریاں ہوں۔ فریال تالپور کی دیانتداری ہو یا شرجیل میمن کے سیاہ کارنامے ہو بات بآلاخر حاکم علی کی اولاد تک پہنچتی ہے۔ (کیا ان بیان کردہ جرائم کو آج تک کسی عدالت میں ثابت کیا جا سکا ہے یا صرف میڈیا ٹرائل ہی ہوا ہے؟ مدیر) اسی حاکم علی زرداری کا پوتا بلاول زرداری کہتا ہے۔ بنگلہ دیش بنا تو سندھو دیش بھی بن سکتا ہے۔ یہ ہے اس خانوادے کی سیاست اور وطن پرستی۔

اصل سے خطا نہیں
کم نسل سے وفا نہیں
سانپ کی فطرت و جبلت میں ڈسنا اور محسن کشی ہے۔

نوٹ: ادارہ ہم سب اس مضمون کے کئی مندرجات اور اندازِ بیان سے اتفاق نہیں کرتا ہے اور اسے اختلاف کے باوجود آزادی اظہار کے حق کے احترام میں اختلافی نوٹ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے: مدیر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •