کیا روایتوں کے نام پہ زندہ انسانوں کی قربانی جائز ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوپہر بارہ بجے کا وقت تھا سورج سوا نیزہ پہ آچکا تھا۔ سرکاری ہسپتال کا آوٹ ڈور مریضوں سے بھرا ہواتھا۔ اس دن مریضوں کا رش کچھ زیادہ ہی تھا۔ میں بھی جلدی جلدی مریض دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی جو غالباً کافی دیر سے میرے کمرے میں موجود بینچ پہ بیٹھی تھی۔ کافی مریض جو کہ بعد میں آئے تھے وہ بھی دکھا کہ جا چکے تھے۔ مگر وہ وہیں بیٹھی تھی۔ وہ مجھے کچھ پراسرار سی لگ رہی تھی۔ وہ ادھیڑ عمر کی عورت جن کا سفید رنگ کا جوڑا اس پہ کالی چادر اور بالوں میں چمکتی ہوئی چاندی ان کی شخصیت کواور زیادہ پراسرار بنا رہی تھی۔

باقی مریضوں سے فارغ ہوئی تو ان کو اشارہ کیا کہ آجائیں۔ انھوں نے اپنا مرض بتانا شروع کیا۔ کہ مجھے نیند نہیں آتی ساری ساری رات جاگتی ہوں۔ بھوک ٹھیک سے نہیں لگتی گھبراہٹ طاری رہتی ہے۔ عجیب بے چینی کی سی کیفیت رہتی ہے۔ یہ تمام علامات کسی ذہنی تناؤ کا سبب لگ رہا تھا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکا تو وہاں وحشت کا ایک سمندر تھا۔ کوئی غم شدت سے اندر تڑپ رہا تھا۔ ان کی روح کا خالی پن ان کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا۔

ان کی خالی آنکھیں مجھے چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے ان سے مزید چند سوالات کیے اور انھیں دوائیں تجویز کردیں۔ وہ کافی دیر نسخے کو الٹ پلٹ کر دیکھتی رہیں۔ کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کو زندگی نے کوئی بہت بڑاروگ لگا رکھا ہے۔ جیسے کوئی لا حاصل سی حسرت ان کی آنکھوں میں مچل رہی ہو۔ ان کا تعلق کسی بہتر خاندان سے لگ رہا تھا۔ مگر ان کی آنکھوں کی ویرانی کوئی اور ہی داستان سنا رہی تھی۔

ان کے جانے کہ بعد مجھے وہاں کے عملہ نے بتایا کہ یہ عورت پہلے بھی کافی دفعہ آتی ہے۔ ان کے خاندان میں اپنی ذات کے باہر شادی کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اگر خاندان میں رشتے نہ ملیں تو پھر ان لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوتی ہیں۔ انہیں عزت کے نام پہ گھر میں بٹھا لیا جاتا ہے۔ میں نے کچھ نہیں کہا خاموش ہوگئی بس یہ سوچتی رہی کہ چودہ سو سال پہلے اسلام کے آنے سے پہلے لڑکی کو پیدا ہوتے ہی اسے دفنا دیا جاتا تھا وہ ایک ہی دفعہ مر تو جاتی تھی یہ روایتوں کے نام پہ روز جینے مرنے سے تو کہیں بہتر ہے کہ انھیں ایک دفعہ مار دیا جائے۔

مجھے تو چودہ سو سال پہلے کے زمانہ جاہلیت اور آج اکیسویں صدی کے پڑھے لکھے معاشرے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جائے یا ان کی چلتی پھرتی لاشوں کا ماتم ہو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مجھے توآج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ شملے اونچے رکھنے کے لیے صرف بیٹیاں ہی کیوں قربان کی جاتی ہیں۔ پگڑیوں کی عزت صرف بیٹیوں کی خواہشوں کو کچل کر ہی کیوں برقرار رہتی ہے۔ اور ایسی پگڑیاں جن کو اونچا رکھنے کے لیے زندہ انسانوں کی خواہشوں کی بلی چڑھائی جائے ان سے عزت بڑھنی تو نہیں گھٹنی چاہیے۔

میں نے کبھی نہیں سنا کہ غیرت نام پہ کوئی مرد قتل ہوا ہو۔ وہی خاندان جہاں ذات پات اور رنگ نسل کی بنیاد پہ لڑکیاں گھر بٹھا کہ رکھی جاتی ہیں وہاں مردوں کو غیر ذاتوں میں شادی کی اجازت ہوتی کیونکہ ان کی نسل خراب نہیں ہوتی اس سے۔ ایسی زندگی سے کہیں بہتر ہے کہ انھیں پیدا ہوتے ہی ماردیا جاتا۔ میں کوئی بہت عالم انسان نہیں ہوں میرا علم بہت محدود ہے پر میں نے دین کو جتنا پڑھا ہے بس یہی جانا ہے کہ اسلام تو بہت آسان ہے اسے مشکل تو ہم نے خود بنایا ہے۔

حضرت زینب کی شادی حضرت زید سے کی گئی تھی وہاں تو کہیں ذات اور نسل نہیں پوچھا گیا۔ حضرت زید آزاد کیے ہوئے غلام تھے وہاں تو رسول پاکؐ خود موجود تھے جب انھوں نے خود کوئی تفریق نہیں کی تو ان کی آل اولاد یہ فرق کیسے کر سکتی ہے۔ میری ناقص عقل تو بس یہ جانتی ہے کہ خطبہ حجتہ الوداع میں نبی کریم نے فرمایا تھا کہ

بیھقی، شعب الایمان، 4 : 289، الرقم : 5137
”لوگو! سن لو، تمہارا خدا ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو سرخ اور کسی سرخ کو کالے پر تقوی کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔ بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ سنو! کیا میں نے تمہیں بات پہنچا دی؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہاں! فرمایا تو جو آدمی یہاں موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں“۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ذات پات، رنگ نسل اس بنیاد پہ کوئی تفریق نہیں ہے۔ تو پھر یہ تفریق کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ یہ رنگ اور نسل کی تفریق تو مغرب کی تقلید میں شروع ہوئی ہے۔ یورپ اور افریقہ میں سیاہ فام لوگوں پر جومظالم ڈھائے گئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں اگر اس کو دیکھیں تو ارشاد ربانی ہے

الحجرات، 49 : 13
”اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔ “

یہ آیت یہ بات بتاتی ہے کہ تقوی کے علاوہ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پہ تفریق کی جائے۔ مگر ہماری مذہب سے دوری نے ہمیں یہاں پہنچا دیا ہے۔ ہم قران کو طاق پہ سجا کہ رکھ دیتے ہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قران تو زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ وہ تو زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتاہے۔ اس کا احترام بجا ہے مگر اس کو پڑھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔ شاید ہماری فطرت سے بت پرستی گئی نہیں ہے ہم قرآن کو سمجھنے کے بجا ئے اسے پوجنے لگے ہیں۔

آج بھی کبھی اس عورت کے بارے میں سوچوں تو ان کی آنکھوں کے خالی پن کی چبھن مجھے دل پہ محسوس ہوتی ہے۔ مجھے اپنا آپ مجرم محسوس ہوتا ہے کہ میرا تعلق ایسے معاشرہ سے ہے جہاں لوگوں کو ان کی زندگی جینے کاحق نہیں ہے۔ اور میں بے بس تماشائی ہوں جو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہوں۔ میں بس یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں اپنے اس پڑھے لکھے معاشرہ سے کہ کیا زندہ انسانوں کی قربانی جائز ہے۔ اور اگر جائز ہے تو جیتی جاگتی لاشوں کاماتم کیسے کیا جاتا ہے۔ میری ناقص عقل سے با لا تر ہے یہ سب۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

حکم تو نفس مارنے کا تھا
لوگوں نے ضمیر مار دیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •