1990ء میں پی ٹی وی کی نشریات سے بے لگام چینلزکی میراتھن نشریات تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح ”نور حضور ویلے“ اچانک ہونے والی بارش کی رم جھم نے نیند سے بیدار کیا تو مشکبو فضاؤں میں اذانوں کی الوہی آوازیں گونج رہی تھیں۔ کسی مسجد کے ایک موذن صاحب ہیں، وہ اتنے خوبصورت انداز میں اذان اور درود و سلام کہتے ہیں کہ دل و دماغ پر جمی ساری کثافتیں آنسووں کی صورت آنکھوں کے راستے سے بہہ نکلتی ہیں۔ روح ”ہولی“ ہو جاتی ہے۔ یہ اذان اور یہ درود و سلام ہم بچپن سے ہی سماعت کرتے آرہے ہیں۔

مسجد سے واپسی پر جی میں یہ بات سمائی کہ آج یک شنبہ ہے لہذا کمرے میں بیٹھ کر 19 برس سے منتظر ان کہنہ سال فائلوں، خطوں، ڈائریوں، تصاویر اور اخبارات کو ترتیب دیا جائے جن کا ذخیرہ ہمیں اپنے ابا جی سے ترکے میں ملا تھا۔ عہد رفتہ کی مسحور کن خوشبو میں وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اس دوران چائے پینے بیٹھے تو ایسے ہی ورق گردانی کے لئے ایک اخبار اٹھا لیا۔ دیکھا تو وہ 29 دسمبر 1990 ء کا ”نوائے وقت“ تھا۔ 3 روپے کی قیمت کا حامل اخبار کیا تھا اپنے عہد کی تاریخ تھی۔ لیجیے صاحب! صفحہ نمبر 2 پر جو نگاہ پڑی تو ایک نایاب تحریر پر جا ٹھہری۔ ”ٹیلی ویژن پروگرام۔“

اس دور میں یہ چند سطری تحریر ہر اس گھر میں لازمی پڑھی جاتی تھی جہاں اخبار جاتا تھا۔ گھر کی خواتین اور مرد حضرات اسی تحریر کو پڑھ کر اپنے روزمرہ کام کا شیڈول مرتب کرتے تھے۔ صبح سات بجے پی ٹی وی کی نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوتا تھا تو اس وقت ہم سکول جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے۔ ”چاچا جی“ مستنصر حسین تارڑ صبح کی نشریات میں ہر صبح نئے پیغام اور آہنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر جلوہ گر ہوتے۔ ان کی دانشورانہ باتیں تو ہمارے پلے کیا پڑنا تھیں البتہ کارٹون کے ہم شدت سے منتظر رہتے۔

صبح سات بجے شروع ہونے والی نشریات کا صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر اختتام ہو جاتا۔ پھر سہ پہر چار بج کر پندرہ منٹ پر معمول کی نشریات کا آغاز ہوتا۔ بعدازاں شب کے گیارہ بج کر 18 منٹ پر پی ٹی وی پر آخری پروگرام ”فرمان الٰہی“ کے نام سے نشر ہوتا اس کے بعد ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے نشریات اختتام پذیر ہو جاتیں۔

آج کارپوریٹ میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی سرخیوں اور زہر اگلتے لہجوں کے درمیان پگڑی اچھال سوشل میڈیا کی چوسنی منہ میں لے کر پیدا ہونے والی ڈیجیٹل نسل اس ظرف، اس اعتدال، اس ذوق اور اس ہنر سے محروم ہے جو کہ اس چھوٹی سی تحریر پڑھنے کے لئے ضروری ہونا چاہیے۔ وہ اس لطف سے کبھی محظوظ نہ ہو سکے گی جو اس تحریر کو پڑھ کر ہم نے پایا۔

صاحب! سوال یہ ہے جب ہمارا دین ہمیں ہر معاملے میں اعتدال کا درس دیتا ہے تو ہمارے ملک کے بے لگام چینلز اس سوچ اور اس فکر سے کیوں محروم ہیں؟ نجی ٹی وی چینلز کی 24، 24 گھنٹوں پر محیط ان میراتھن نشریات سے ہماری قوم نے اب تک کیا شعور پایا؟ اسے معاشی، سیاسی اور علمی حوالے سے کیا فائدہ ملا؟ کتنی آگہی اور بصیرت حاصل ہوئی؟ سوائے اس کے کہ راتوں کو جاگ جاگ کر نوجوان پیاسے کوے بن رہے ہیں۔ راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیمرا کا ادارہ اپنے قوانین میں ترمیم کر کے تمام چینلوں کو وقت کا پابند بنائے۔ بہتر ہے کہ 1990 ء کے پی ٹی وی پروگرامز کے اسی شیڈول کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی حد بندی کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •