پاکستان سٹیزن پورٹل اور شرمندہ حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2018 کی آخری سہ ماہی میں متعارف ہونے والی ایپ ”پاکستان سٹیزن پورٹل“ بلا شبہ حکومت کی طرف سے ایک مخلصانہ عمدہ کوشش ہے۔ جس کا مقصد نجی و اجتماعی عوامی مسائل کو بلا تاخیر متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے۔ پھر مسائل کے حل کی ذمہ داری نبھانے کا بھاری پتھر متعلقہ ادارے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جس میں بیشتر ادارے واضح طور پر ناکام ہوتے نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی 32 میں سے 27 منسٹریز کو خراب کارکردگی اور تاخیری حربے اپنانے پر گرین ییلو کے بعد حال ہی میں ”ریڈ لیٹر“ جاری کیے ہیں۔

پہلے پہل پورٹل شکایات پر فوری عمل و اقدامات کا شور دیکھنے میں آیا اور سٹیزن پورٹل ایک مسیحا کے روپ میں پیش کیا گیا کہ اب ہر شہری کی پشت پر ریاست کھڑی ہے۔ یہ سحر بھی جلد ہی کافور ہوگیا۔ ادارے دوبارہ اپنی روائیتی سُستی کی جانب لوٹ چکے ہیں اور یہ منصوبہ بھی ملک خداداد میں سیاسی مصلحت کا شکار ہو چکا۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ ادارے مسائل کے حل کی بجائے خرابی پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہاوت کی طرز پر۔

فلاح بہبود کے کچھ انفرادی معاملات معاشرہ اپنی مدد آپ کے تحت ادا کرتا نظر آتا ہے۔ زیادہ تر معاملات ریاست کی مدد کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تو ایسے مسائل بارے شہری اپنے حقوق کے لئے اداروں سے رجوع کرتے ہیں۔ ایسے ہی خدمت خلق و اجتماعی فلاح کا درد ہمارے دل میں جاگزیں ہوا، اور معاشرہ کی بہتری کے لئے اپنا حق ادا کرنے کی عملی کوشش میں جُت گئے۔ پورٹل کے متعارف ہوتے ہی اس تالاب کی غوطہ خوری کا من چاہا، تو علاقہ کے مسائل کی نشاندہی معہ ثبوت لے کر تالاب میں کود پڑے۔

اس احساس کے ساتھ کہ اب تبدیلی کا نعرہ ”ریاست مدینہ“ کی طرز پر بنائی گئی ریاست میں اخلاق و انصاف کا بول بالا ہوگا اور اداروں کا قبلہ احتساب کے خوف سے درست ہوچکا ہوگا۔ لیکن جیسے ہی تبدیلیِ ریاست کے بنائے تالاب سٹیزن پورٹل میں اترے تو اندازہ ہوا کہ ریاست نے تالاب کی بالائی سطع پر جو صاف پانی ”سٹیزن پورٹل“ کی شکل میں دکھایا تھا۔ وہ محض دھوکہ تھا۔ پانی میں قدم رکھتے ہی تالاب کی تہہ سے جو کیچڑ اٹھا اور وہی رکے ہوئے پانی کی سڑاند محسوس ہوئی۔ اس سے پورے تالاب کا پانی تو گدلا ہونا ہی تھا اب تو خود بھی اس سڑاند اور کیچڑ کی لپیٹ میں لتھڑے گھوم رہے ہیں۔

مسائل کے حل کے لئے سرکار کے اہلکار متعلقہ سیاسی نمائندہ کے ڈیرہ پر حاضری دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے علاقہ کے ایم این اے حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایم این اے کے ڈیرے پر حواری و سرکاری نمائندہ درخوست پر موجود فون نمبر سے درخواست کنندہ کو فون ملاتے ہیں۔ رعب دار آواز میں شکایت کرنے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ پھر مزید حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ پورٹل پر فیڈ بیک درج کردینا کہ مسئلہ حل ہوچکا۔ اگر کوئی ہم جیسا عقل سے عاری ”کیوں“ دہرا دے تو ستھرے الفاظ میں بتایا جاتا ہے۔

ایک جگہ رہنا ہے تو مل جل کر ”مطلب صاحب کی مان کر“ ہی رہا جاسکتا ہے۔ فون پر سمجھانے کا کام آج کل اتنا ہی ہے۔ بے وفا لوگ ریکارڈنگ کرلیتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کردیتے ہیں۔ اگر اصول قانون اور حقوق کے عارضے میں مبتلا یا ہم جیسا کم فہم سوال کر بیٹھے اپنے یقین کامل کے لئے، تو حکم صادر ہوتا ہے کہ بات کو لمبا مت کرو۔ جتنی بات سمجھانا مقصود تھی، سمجھا دی ہے۔ بات سمجھانے والے یہ بھی جاننا ضروری نہیں سمجھتے کہ ہم ٹھہرے سدا کے گھامڑ، اتنی عقل نہیں رکھتے یہ مُوئے سمارٹ ریکارڈنگ والے فونز نے ہم جیسے کم عقل لوگوں کے تو مفت کے دشمن ہی بن گئے ہیں۔ کہ ادھوری باتیں سمجھنے کا بیڑا بھی خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

علاقہ میں مدت سے رکے ترقیاتی کام ٹوٹے پھوٹے روڈ، ناجائز قابضین، پارک و پل کی مرمت بارے دی گئی درخواستیں گیارہ ماہ سے ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم میں بھاگتے بھاگتے تھک گئیں مگر افسوس نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ کچھ درخواستیں تو نحوست ماری دن میں دو دو مرتبہ اسسٹنٹ کمشنر افسر سے چیف افسر میونسپل کمیٹی کے کمپیوٹر کا دورہ کرتی رہیں لیکن اختیارات کا تعین حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ کہ مسئلہ کس ڈیپارٹمنٹ نے حل کرنا ہے۔

اب حال یہ ہے کہ ایک درخواست کے حل کے لئے بار بار درخواست پھر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، انسانی حقوق سے انکاری، ایک درخواست آٹھ درخواستوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ لیکن ادارے الا ما شا اللہ ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم میں درخواست بھیجنے کا کامیاب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو حل ہو چکیں وہ بھی خوب ہیں۔ بجٹ نہیں ہے مطلب مسئلہ حل، درخواست بند۔ سپورٹس کمپلیکس کا سکوائش کورٹ عرصہ دوسال سے مکمل ہے چند آخری جزوی کام رہتے ہیں۔ چونکہ بجٹ نہیں تو سمجھو مسئلہ حل۔

آئینہ میں اپنا عکس دیکھنے سے گھبرائی حکومت کو اب صوبہ بھر کے آئینوں کے درپے ہے۔ پنجاب پولیس کی شکایتوں سے تنگ حکومت نے شکایت کا ثبوت پیدا کرنے والی ڈیوائس پر پابندی عائد کرکے شاید کچھ سکون حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوشش بارآور ہونے کی صورت میں کچھ اسی طرز کا قدم پورٹل پر شکایت درج کرانے والوں کے ساتھ کیا جائے۔ خوامخواہ شکایات درج کراکے حکومتی کارکرگی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو بھی شکایت درج کروائے اوّل حکومتی نمائندہ درج بالا طریقہ کی طرز پر سمجھا کر مسئلہ حل کردے وگرنہ پنجاب پولیس کے محفوظ تھانوں میں منتقل کرکے سائل کی درخواست پر دو چار ٹھپے لگا کر بھی مسائل سے چھٹکارا ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •