”پاٹے خاں“ سے اک مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا اک دوست ہے جس کی بہت ساری خصوصیات میں سے چند خصوصیات یہ ہیں کہ وہ کسی بھی موضوع پر بنا تعطل اور بغیر سوچے سمجھے خطاب فرما سکتا ہے۔ وہ کسی بھی شے کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور تحقیق کرنے کے عمل کو گناہ سمجھتا ہے۔ اور وہ خود ہی عقلِ کل تصور کرتا ہے۔ انہی صفات کی بنا پر موصوف دوستوں میں ’پاٹے خان‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ موصوف سیاست سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

اکثر سیاسی موضوعات پر ان سے بحث و مباحثہ ہوا کرتا ہے۔ سیاسی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے اگر موصوف کی توجہ موجودہ معاشی بحران، افراط زر، قرضوں میں ہوشربا اضافے، بیروزگاری، مہنگائی یا دیگر سماجی نا انصافیوں کی طرف مبذول کروائی جائے تو اول تو وہ یہ بات سننے کو راضی نہیں ہوتے اور اگر دل پر پتھر رکھ کر سنیں بھی تو تمام سوالوں کے جواب میں ایک ہی جملہ داغتے ہیں اور پھر اپنی بے ربط تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا ان اعداد وشمار سے کوئی لینا دینا نہیں ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ اس ملک کو سیاستدانوں نے بے دردی سے لوٹا ہے اور سارے چور ’پکرے‘ جائیں گے ”۔ آپ مکالمہ سنیے یقینا آپ کو بھی اپنے حلقہ احباب میں ایسے کئی پاٹے خاں نظر آئیں گے۔

گزشتہ روز میری پاٹے خاں سے ملاقات ہوئی۔ موصوف انتہائی تذبذب کا شکار تھے۔ میں نے وجہ دریافت کی تو موصوف اپنے نتھنے پھلا کر غصے سے گویا ہوئے۔ یار یہ ہماری قوم کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے مودبانہ لہجے میں استفسار کیا۔ کیا ہوا؟ بولے۔ دیکھو بھارت چاند پر جانے میں ناکام ہوگیا تھا اور اس کو کثیر رقمی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اس پر ہماری قوم کو بہت خوشی ہوئی۔ ساری قوم دشمن کی ناکامی پر خوشیاں منانے میں محو تھی کہ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کچھ لمحے توقف کے بعد اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوئے، اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بولے یہ سب غدار ہیں اور میرا بس چلے تو میں انھیں سولی پہ لٹکا دوں۔

پھر اک سناٹا چھا گیا۔ موصوف کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے بولنا شروع کیا۔ انسان خوشی، غمی، برداشت، عدم برداشت، حسد، محبت اور نفرت جیسے فطری احساسات کا مرکب ہے۔ اس لیے کسی بھی انسان کا اپنے دشمن کی ناکامی پر خوش ہونا ایک نفسیاتی فطری عمل ہے۔ اس عمل کو منفی نہیں کہا جا سکتا اور اس میں اچنبھے کی بھی کوئی بات نہیں۔ ہاں اگر کوئی اپنے دوستوں کی ناکامی اور دشمنوں کی کامیابی پر خوش ہو تو یہ ضرور حیرت کی بات ہے اور قابلِ گرفت بھی۔

میری اس بات سے شاید موصوف کو کچھ تشفی ہوئی جو انہوں نے قدرے اطمینان ظاہر کیا۔ موقع جانتے ہوئے میں نے سوال اچھال دیا۔ لیکن کیا دشمن کی ناکامی پر پوری قوم کا کھڑے ہو کر تالیاں بجانا اور اسے مسرت کا قومی دن قرار دینا ضروری ہے؟ کیا ہمیں دشمن کو مات دینے کے لیے محنت، تدبر اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے اپنے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت نہیں؟ موصوف نے ترچھی نگاہوں سے مجھے گھورا۔

ماحول کو خشگوار رکھنے کے لیے میں نے اک سماجی رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ویسے تو ہمیں دن منانے کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہم زندہ لوگوں کی قدر کریں نہ کریں لیکن مرنے کے بعد ان کا دن بڑی تاکید، جوش وجذبے، ولولے اور شوق سے مناتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں ہر معمولی اور غیر معمولی واقعہ والے دن کو نہ صرف قومی دن قرار دینا چاہیے بلکہ اس دن چھٹی بھی ہونی چاہیے۔

پاٹے خاں میرا سوال سننے کے بعد تھوڑی دیر خلا میں گورتا رہا اور پھر اپنا گلا صاف کرتے ہوئے بڑے دانشمندانہ لہجہ میں مجھ سے مخاطب ہوا۔ ہمارے جذبے سچے اور ارادے پکے ہیں۔ ہم اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایمان کی طاقت ہے اس لیے ہمیں دشمن پر سبقت حاصل کرنے کے لیے کوئی تدبیر بروئے کار لانے کی ضرورت نہیں۔ ہم ایمان کی دولت سے مالامال ہیں۔ تدبیر پر بھروسا وہ لوگ کرتے ہیں جن کے ایمان کمزور ہوں اور ایسا سوچنے والے ہم میں سے نہیں۔ موصوف نے اپنے موقف کی تائید میں اقبال کا یہ مصرع بڑے فاتحانہ انداز میں پڑھا ”مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“

میں نے مودبانہ لہجے میں عرض کیا کہ میرا مدعا توصرف یہ ہے کہ ایمان اور جذبے کے ساتھ ساتھ ہمیں حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے تدبر اور حکمت عملی سے کام لینا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو چڑیاں چگ جائیں کھیت اور پھر تدبیروں سے بھی کچھ نہ بن پائے۔ کیونکہ اس حقیقت کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا کہ اگر وقت پر تدبیر سے کام نہ لیا جائے تو سب تدبیریں الٹی ہو جاتی ہیں، دعا بھی کام نہیں کرتی اور دوا بھی کام نہیں کرتی۔

میں نے زور دیتے ہوئے کہا آپ بھارت کی ناکامی پر خوشیاں منانے کی بجائے اس بات پر دھیان کیوں نہیں دیتے کہ بھارت چاند پر جانے کی کوشش کررہا ہے اور ہمارے لیے یہ زمین بھی سکڑتی جا رہی ہے۔ جیسے کشمیر پر بھارت نے اپنا قبضہ جما لیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔

پاٹے خاں نے اپنی روایت کے مطابق، روز روشن کی طرح عیاں حقیقت سے آنکھیں چراتے ہوئے میری گفتگو اور سوالوں کے جواب میں اپنا روایتی جملہ داغا اور چل دیے، ہمارا یہ ایمان ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔ لیکن ناجانے کیوں اس بارے پاٹے خاں اپنی بے ربط تقریر سنائے بغیر ہی چلے گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •