اوپر تلے کے


(بھائی کی سالگرہ پہ بہن بھائی کے خوبصورت رشتے کے نام )

بڑوں سے ہمیشہ سنا تھا کہ اوپر تلے کے بہن بھائیوں میں ہمیشہ تکرار رہتی ہے اور دوستی بھی اتنی ہی ہوتی ہے صحیح ہی سنا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ تین سالہ یحییٰ دس سالہ فاطمہ کے لئے ٹام اینڈ جیری کا جیری بنا رہتا ہے اور اس کا سایہ بن کے اس کا ناک میں دم کیے رہتا ہے۔ آپی یہ کیوں کر رہی ہو؟ آپی یہ کیا کھا رہی ہو؟ وہ ٹی وی پہ اپنا پروگرام دیکھنا چاہتی ہے تو اس کو سب چھوڑ کے اپنا پروگرام لگوانا ہوتا ہے۔

وہ لیپ ٹاپ لے کے بیٹھتی ہے تو پیچھے سے دھپ سے بند کر کے لیپ ٹاپ اٹھا لاتا ہے کہ یہ لیں اماں آپی نے آپ کا کمپیوٹر لے لیا تھا میں نے واپس لے لیا۔ آپی کتاب پڑھتی ہے تو وہ بند کروا کے کہتا ہے کہ میرے ساتھ کھیلو۔ جب تنگ کرنے کا کوئی بہانہ سمجھ نہیں آتا تو جہاں وہ بیٹھی ہو وہاں سے ضد کر کے اٹھاتا ہے کہ اٹھو مجھے یہاں بیٹھنا ہے اور زیادہ موڈ میں ہو تو صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ مجھے تو آپی کو تنگ کرنا ہے۔ اب لاکھ ڈانٹو، جھڑکو، سمجھاؤ کوئی اثر نہیں ہوتا، دوسری طرف آپی چھوٹا سمجھ کے کبھی تو نظر انداز کر دیتی ہے اور کبھی کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے لیکن کھانا کھانا ہو، کسی کے گھر یا مسجد جایں، کوئی کھیل ہو یا کسی قسم کی ٹیم بنانی ہو وہاں آپی یحییٰ کی فرسٹ چوائس بن جاتی ہے۔

سب اوپر تلے کے بہن بھائی ایسے ہی ہوتے ہیں، ہم بھی ایسے ہی تھے فرق یہ تھا کہ میں چھوٹی تھی اور فصیح بھائی بڑے، فرق ہم دونوں میں بھی یحییٰ اور فاطمہ جتنا ہی تھا یعنی سات سال کا۔ ۔ چھوٹے تھے تو ہر الٹے سیدھے کھیل میں ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ جو ان کی عمر کے کھیل نہیں بھی تھے وہ بھی زور زبردستی پہ انھیں کھیلنا پڑتے تھے، تھوڑا بڑے ہوے تو غربت کا زمانہ تھا لیکن خوشیاں بہت امیر تھیں۔ دھوپ بھری سہ پہروں میں لمبا لمبا پید ل چل کے سستی والی آئس کریم کھا نے جاتے تھے جو بعد میں حلق میں چپکی ہوئی محسوس ہوتی تھی، لیکن مزہ دراصل آئس کریم میں نہیں تھا بلکے ڈھیروں باتوں اور جانے آنے کی سرگرمیوں میں تھا۔

تھوڑی سی بہتری آئی، کچھ دن بعد نیپا پہ ”اسں نوپی“ بھی کھل گیا اب آئس کریم کا معیار ذرا بہتر ہو گیا۔ زیادہ عیاشی ہوتی تو بن کباب بھی شامل ہو جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا کے جب امی سے کہیں جانے کے لئے رکشہ کرنے کا کہو تو وہ کہتی تھیں، ارے اتنے میں تو بلو بینڈ کا بڑا والا مکھن آجاے گا، گویا جان ہی جل جاتی اب مکھن پہ بیٹھ کے تو کہیں جانے سے رہے۔ تنگی میں موازنے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ حالات بدلنا شروع ہوے۔

ابّا بہت جلدی کوچ کر گئے تھے سو سب بھائی بچپن کو خیر آباد کر کے جلدی جلدی بڑے ہو گئے۔ قسمت سے نوکری بھی جلدی ہو گئی اور تھوڑی اچھی ہو گئی پھر تو ہماری پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں۔ اب کبھی کبھی سپر اسٹورز سے جنک فوڈ کی شاپنگ بھی ہونے لگی یہ سارے کام بھی پید ل ہی ہوتے ایک بار اسٹور مینجر نے کہا کہ سر آپ ملاذم کو سامان دے دیں وہ گاڑی میں

رکھ دے گا تو ہم تھینک یو کر کے باہر آگئے اور باہر آ کے خوب ہنسے کہ کون سی گاڑی کیسی گاڑی۔ تھوڑے عرصے بعد ایک تھکی ہوئی سوزوکی ایف ایکس بھی گھر آگئی تو گویا چاندنی ہو گئی، گاڑی کوئی لگژری نہیں تھی لیکن ہر تھوڑے دن بعد کوئی نہ کوئی کام نکلنے کے باوجود وہ ہلتی جلتی گاڑی بذات خود ہمارے لئے ایک لگژ ری تھی جس میں لمبی ڈرائیو پہ جانے اور پھٹے ہوے سپیکروں پہ گانے سننے میں بھی مزہ آتا تھا۔ جس دن گھر میں کوئی دال سبزی قسم کی چیز پکتی یا بور ہوتے تو ہم دونوں گلشن چورنگی پہ گاڑی روک کے چٹ پٹی چاٹ پاپڑی کھا کے اور ملک شیک پی کے آجا تے اور سارا دن کی چھٹی ہو جاتی، گھر آ نے کے بعد امی کی صلواتیں بھی سنتے کہ اتنی روٹی کس کے لئے پکی تھی، اب جب اپنے بچے ایسا کچھ کرتے ہیں تو وہ ڈانٹ کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے۔

۔ کبھی کبھی فراز بھائی اور ذیشان بھائی بھی اس آوارہ گردی میں شریک ہو جاتے تو اور مزہ آتا۔ سچ کہوں تو وہ والی خوشی شاید ہم سب کو اپنی اپنی زیرو میٹر لگژری گاڑیوں میں بیٹھ کر اور ملکوں ملکوں گھوم کے بھی محسوس نہیں ہوتی شاید اس لیے کہ خوشیاں سامان سے نہیں بلکے صحبت سے وابستہ ہوتی ہیں، اسی خاکی ایف ایکس پہ پہلی بار گاڑی چلانا بھی سیکھی اور ماری بھی۔ ان دنوں فاسٹ فوڈ کی فرن چائز کراچی میں نئی نئی کھلنا شروع ہوئی تھیں اور عموما رات بارہ بجے کے بعد مڈ نائٹ ڈیلز شروع ہو جاتیں جسمیں قیمتیں آدھی ہوتیں تھیں۔

سب مل کے بارہ بجے کا انتظار کرتے کہ 12 بجیں اور فون گھمایں ادھر امی تاسف سے باتیں سناتیں رہتیں کہ ”سوکھے سوکھے برگروں کے لئے بھوکے بیٹھے رہیں گے گھر کا کھانا نہیں کھایں گے، اتنے کی تو مجھے مرغی لا دیتے تو اتنا اچھا پکا دیتی“۔ اب ان کو کون سمجھاتا کہ یوں آدھی رات کو مل کے یہ سوکھے برگر کھانا کیا مزہ دیتا ہے۔ مگر اب کوئی پوچھے تو شاید برگر مطمین نہ کر سکیں اور امی کی مرغی کو ترجیح دی جائے۔ اس وقت سب ویلے تھے نہ شادی نہ بچے نہ ذمہ داریاں اب خوشیوں کا رخ اور معنی بدل گئے ہیں۔

یونیورسٹی کا وقت آیا تو بھی فصیح بھائی آگے آگے۔ ٹیکنالوجی سے لگاؤ اپنی جگہ لیکن رجحان تو شروع سے رنگوں، آرٹس اور سائیکولوجی میں تھا، ایک ہفتہ ایسا بھی آیا کہ فیصلہ اسی حق میں ہو گیا، لیکن پھر بجھی بجھی آواز آئی اچھا دیکھ لو، پھر دماغ میں آیا انجینیرنگ ہی ٹھیک ہے اور اب ہمیشہ اس فیصلے پہ کلمہ شکر نکلتا ہے، کوئی بھی پروفیشنل تعلیم اورمحنت آپ کی پوری زندگی، رویوں، شخصیت اور نظریات پہ اثر انداز ہوتی ہے۔

بعد میں آرٹس کا شوق بھی پورا ہوگیا یوں بھی زندگی میں مختلف لوگوں سے مل کے اور رنگ برنگے رویوں سے نبرد آزما ہو کے ہر حساس آدمی تھوڑا تھوڑا سا سائیکلوجسٹ بن ہی جاتا ہے یا پھر سائکو تو ہو ہی جاتا ہے۔ ۔ شادی کا موقع آیا تو وقت کم تھا اور اکمل کو واپس کینیڈا آنا تھا، بڑے بھائی بھی امریکا میں تھے، دو بھائیوں کی جاب دوسرے شہر میں تھی دونوں ایک دن کے لئے ملنے آے۔ ا کمل نے بعد میں کہا کہ مجھے الجھن ہو رہی تھی کہ بڑے بھائی تو کچھ پوچھ نہیں رہے اور سب سے چھوٹے بھائی کے سوالات ہی ختم نہیں ہو رہے۔ اب ان کو کیا پتہ کہ ان چھوٹے بھائی کی مثال ”ساری خدائی ایک طرف اور جورو کا بھائی ایک طرف“ والی ہے۔

زندگی کے جھمیلے، ذمہ داریاں اور فاصلے اپنے ساتھ بے فکر وقت اڑا لے جاتے ہیں لیکن ہماری دوستی ابھی تک ایسی ہی ہے، واٹس اپ اور باٹم کی ٹن ٹن ہمیں اب بھی جوڑے رکھتی ہے اور جب ہم سب ملتے ہیں تو بے تکی باتوں پہ بھی کھل کے ہنستے ہیں۔ بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو دوسروں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں اور جن پہ آپ صرف اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہی ہنس سکتے ہیں کیونکے ان کا پس منظر ساتھ گزارے ہوے وقت سے جڑا ہوا ہوتا ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں۔

یہ کتھارسس کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے۔ جو لوگ معمولی معمولی باتوں اور چپقلوشوں کی وجہ سے اپنے بہن بھائیوں سے دوری اختیار کر لیتے ہیں وہ اصل میں اپنے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور اپنے لئے تازہ ہوا کے جھونکوں کی کھڑکی بند کر کے گھٹن کا انتخاب کرتے ہیں۔ زندگی کے جھمیلوں میں یہ دریچے ہمیشہ کھلے رہنے چاہییں چاہے ہوا ٹھہر ٹھہر کے ہی کیوں نہ چلے ورنہ سانس کا کیا بھروسا کہ کب بند ہوجاے۔ یقینا بہن بھائیوں کے ساتھ ہنس کے گزارے ہوے وقت سے بہتر کوئی تھراپی نہیں ہوتی۔

جب فاطمہ بھائیوں کی چھیڑ خانی سے چڑ جاتی ہے اور بسورنے لگتی ہے تو میں اس کو اس کے ماموؤں کی کہانیاں سناتی ہوں کہ یحییٰ اور بھائی ابھی تمہیں تنگ کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے بھی ان کی محبت ہے۔ جب بڑے ہو جاینگے تو یہ تمہارے سب سے اچھے دوست، اسٹریس ریلیور اور سب سے بڑے سپورٹر ہوں گے۔

اس دن بھی ہم فاطمہ کو سمجھا رہے تھے کہ یحییٰ تمہیں اس لیے تنگ نہیں کرتا کہ وہ تمہیں ناپسند کرتا ہے بلکے وہ دراصل تمہاری توجہ چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ وقت گزرنا چاہتا ہے اس لیے اسے تمہاری دوسری مصروفیت بری لگتی ہے۔ وہ دراصل تم سے بہت محبّت کرتا ہے، اور یحییٰ صاحب بھی فورا بول پڑے ”آپی، میں تم شے بوت مہمند کرتا ہوں“ اور آپی کی ہنسی چھوٹ گئی۔

اللہ تعالیٰ سب کے بہن بھائیوں اور ان کی محبتوں کو سلامت رکھے، آمین

Facebook Comments HS