خان کو اللہ کی مدد کے سوا کسی کی ضرورت، وہ کامیاب ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی لیڈر یا پارٹی کا نظریہ اس کے منشور میں جھلکتا ہے، جس پر اس نے اقتدار میں آکر عمل کرنا ہوتا ہے۔

اقتدار میں آنے سے پہلے یا بعد جو کچھ کہا اور کیا جاتا ہے اسے ”حکمت عملی“ کہتے ہیں، جو وقت، حالات اور تجربات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے، کیونکہ آخری ٹارگٹ اقتدار و مقصد کا حصول ہوتا ہے، جس کے بنا نظریے یا منشور کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔

ایک سچے لیڈر کا کام یہی ہوتا ہے کہ اقتدار و مقصد کے حصول کے لئے ہر جائز و ناگزیر اقدام اٹھائے چاہے وہ ناپسندیدہ ہی کیوں نہ ہو تاکہ اقتدار و مقصد کے حصول اور نظریے و منشور پر عمل کا موقع مل سکے۔

لیکن اگر اقتدار میں آنے کے بعد لیڈر یا پارٹی اپنے نظریے و منشور پر عمل نہیں کرتے تب کہا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا پھر اب ”یو ٹرن“ لے رہے ہیں۔

دوسری طرف ایک ”سچا نظریاتی کارکن“ وہ ہوتا ہے جو اقتدار سے پہلے یا بعد اپنے لیڈر یا پارٹی کے ہر جائز و ناگزیر اقدام پر چاہے وہ ناپسندیدہ ہی کیوں نہ ہو قدم ملائے، کیونکہ اس کا بھی آخر کار ٹارگٹ اپنے لیڈر یا پارٹی کو اقتدار میں لانا اور مقصد کا حصول ہوتا ہے، پھر اگر اس کا لیڈر یا پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد نظریے یا منشور پر عمل نہیں کرتے تب نہ صرف تنقید بلکہ مخالفت بھی اس کا حق بن جاتا ہے۔

لیکن اگر کوئی کارکن یہ چاہے اور کہے کہ لیڈر و پارٹی اقتدار سے پہلے یا بعد میں نہ صرف اس کی مرضی سے چلے بلکہ چاہے لیڈر و پارٹی کو نفع کی بجائے نقصان ہی کیوں نہ ہو اور اس سے ان کی منزل پاس کی بجائے دور ہی کیوں نہ ہو جائے۔ صرف کارکن ہونے کی وجہ سے اسے ہی ہر موقع پر فوقیت دی جائے ”چاہے وہ کسی قابل ہو یا نہ“ ورنہ وہ تنقید، قطع تعلق اور یہاں تک کہ مخالفت کی راہ اپنائے گا تو کیا اس اقدام کو ”یو ٹرن“ نہیں کہیں گے؟

کیا یہ مطالبہ ایسا نہیں کہ لیڈر یا پارٹی کو اقتدار یا مقصد حاصل ہو یا نہ ہو، مجھے کرسی پر بٹھا دیا جائے، کہ کسی کو ہو نہ ہو کارکن ہونے کا مجھے تو فائدہ ہو۔

بد قسمتی سے اسی قسم کے کارکنان اس وقت ”خان“ کو گھیرے ہوئے اپنے اپنے ”دیے گئے ساتھ“ کا صلہ طلب کر رہے ہیں کہ انہوں نے آخر یہ ”ساتھ“ کسی صلے کی خاطر ہی تو دیا تھا۔

آج اگر ”سوشل میڈیا“ پر نظر ڈالی جائے تو ان میں سے بے شمار کارکنان یہ ثابت کرتے نظر آتے ہیں کہ آج ”خان“ جو کچھ بھی ہے وہ ان کے ”ساتھ“ کی بدولت ہے حالانکہ اگر خدا کو حاضر ناظر جان کر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ”خان“ کو اللہ کی مدد کے سوا کسی کی ضرورت کبھی بھی نہیں تھی۔ وہ 23 سال پہلے ایک مقصد کی خاطر منزل کی طرف ایک نئے راستے کی نشاندہی کر کے تنہا چلا، جس جس کو اس کے مقصد سے اتفاق تھا وہ خود اپنی ضرورت سے اس کے پیچھے چلا اور قافلہ بنتا گیا۔ 23 سال میں بے شمار لوگ اس قافلے کے ساتھ چلے اور بے شمار چھوڑ گئے، ان میں سے ”نظریاتی کارکن“ صرف وہ ہیں جو ہر حال میں اور ہر فیصلے میں ”خان“ کے پیچھے کھڑے ہیں، اور روز کی کامیابیوں و ناکامیوں سے ان کے خیالات و نظریات تبدیل نہیں ہوتے، باقی سب ”فصلی بٹیرے“ ہیں، جن کو جلد از جلد فصل اٹھنے اور اپنے حصے کا انتظار رہتا ہے۔

”خان حکومت“ کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، اپنے سینکڑوں کئیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ ہزاروں اقدامات اٹھائے، کسی اقدام میں ناکامی، کسی میں رکاوٹ، کسی میں مزاحمت، کسی میں جزوی کامیابی اور کسی میں مکمل کامیابی بھی ملی۔

اس دوران ٹیم میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئے روز کرنی پڑیں، بہت سی وابستہ امیدیں ٹوٹیں اور بہت سی نئی بندھیں بھی، لیکن ”خان“ اپنے منشور و مقصد پر ڈٹا ہوا ہے اور اس کا ماضی گواہی دیتا ہے کہ وہ ڈٹا ہی رہے گا۔

ایک مسلمان ہونے کے ناتے میرا تو ایمان ہے کہ اللہ نے ”سورۃ العصر“ میں صبر کرنے یعنی ڈٹ جانے والوں سے کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے تو ”خان“ بھی ضرور اپنے ”نیک مقاصد“ میں کامیاب و کامران ہو گا۔
انشاءاللہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •