سو جا تو بھی تینوں کی؟
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے ہر روز کوئی نیا مسئلہ کوئی نئی مصیبت! جب سے آنکھ شعور کی کھلی ہے حالت اپنی بگڑتی چلی جا رہی ہے امید دلانے والے اگرچہ بہت ہیں مگر ابھی تک اندھیرا ہی اندھیرا ہے ہر سمت۔
میں سوچتا ہوں کہ چلو یہ حکمران نہ سہی آسوں کا تارا تو کوئی دوسرا ہو گا مگر جب یہ سطور رقم کر رہا ہوں کوئی بھی مستحکم و توانا نہیں۔ یہ جو اپنا عمران خان ہے کسرتی جسم رکھتا ہے مگر ’حکمت عملیوں‘ کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ الہ دین کا چراغ بھی اس کے پاس ہے نہیں جس کو رگڑ کر جن حاضر کرے اور پلک جھپکتے میں اس نظام جو آکاس بیل کی مانند پورے معاشرے کے گرد لپٹ گیا ہے سے نجات دلا دے۔
وہی باتیں وہی وعدے ہیں جو اب تک سیاستدان کرتے چلے آئے ہیں۔ تو پھر کیا کیا جائے۔ بے حسی اور لاپرواہی سے ہاتھ ملا لیا جائے۔
میرے خیال میں اس کے بغیر چارا نہیں شعور بڑھنے سے تکالیف و مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس وقت بھی وہ زیادہ اذیت میں ہیں جو حساس ہیں۔ وہ سکھی ہیں جنہیں کوئی کسی سے لینا دینا نہیں اور پوچھ لیتے ہیں کبھی کبھی کہ کیا ہو رہا ہے وطن عزیز میں۔ چلو ٹھیک ہے سانوں کی؟
میں عرض کرتا رہتا ہوں جب یہ حالت لوگوں کی اکثریت کی ہو جائے تو بد خواہوں کے لیے آسان ہوتا ہے چڑھ دوڑنا مگر عجیب بات ہے بیدار دماغ خاموش ہیں۔
تے فیر جاوید خیالوی کا یہ کہنا صحیح ہے کہ سوجا تو بھی تینوں کی؟
کوئی کتنی دماغ سوزی کرے تحقیق کرے اور اپنا خون جلائے جب کسی نے کچھ سننا ہی نہیں اس کو سن بھی لیا مگر عمل کرنا ہی نہیں تو چھڈو اس قلم قرطاس نوں۔
پھر کیا کرنا چاہیے۔ کوئی دکان بنا لی جائے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر لو مگر اس کے لیے پیسے چاہئیں۔ حکومت نے آسان شرائط پر قرضوں کا پروگرام تو بنایا ہے م گر معلوم ہو ا ہے یہ بھی کہنے کی حد تک ہے سہل نہیں اس منزل تک پہنچنا۔ مارو مار کا دور ہے۔ تو معذرت کے ساتھ یہ ریاست ہے جو اپنے شہریوں کو جانی و مالی تحفظ دینے میں بخل کر رہی ہے جبکہ وہ ان کی تمام جملہ ضروریات کی ذمہ دار ہے۔
تعلیم و صحت اس میں سر فہرست ہیں مگر کہا جا رہا ہے کہ تعلیم کا بجٹ ہی کم کر دیا گیا ہے وہ کہاں گیا کچھ علم نہیں۔ رولا خان صاحب نے بہت ڈالا تھا کہ ان کی حکومت تعلیم کے میدان میں بہت سرگرمی دکھائے گی اس کا جہاز اوپر ہی اوپر اڑتا پھرے گا مگر جامعہ پنجاب میں بعض شعبوں میں پیسا نہ ہونے سے ایم فل کی کلاسوں کا اجرا روک دیا گیا۔ یہ پیسا چند لوگوں پر خرچ ہو رہا ہے جو کہتے ہیں کہ وہ باقی رہیں دوسروں کی کوئی بات نہیں۔
مایوسی کہہ لیں یا سچ اسے کہ حالات فی الحال سمجھ سے باہر ہیں ایک گتھی سلجھاؤ تو دوسری الجھ جاتی ہے۔ کوئی منصوبہ بندی نہیں کوئی پالیسی نہیں مگر خان صاحب شور مچا نے میں ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں لہٰذا وہ با آواز بلند کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں مگر عوام اب ان کی بات پر یقین نہیں کرتے۔ مجھے بھی ان پر اعتماد نہیں رہا۔ میں نے ان کی خاطر بہت سے دوستوں کو ناراض کیا اور اب وہ کہتے ہیں سناؤ جی! کیسا جا رہا ہے تمہارا خان دھواں نکال رہا ہے معیشت کا اور غریب لوگوں کا۔ اس لیے انہیں ووٹ دیا تھا اور کالم لکھے تھے۔
میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ خان صاحب کو کھوتے گھوڑے کا فرق بھی نہیں معلوم حد تو انہوں نے یہ کی ہے کہ ان کے اپنے کارکنان رُل رہے ہیں۔ انہیں کسی کام میں شامل نہیں کیا گیا۔ مگر اپنے مخالفین کو مقام کوئی نہ کوئی دے دیا گیا۔ لہٰذا مایوسی ہے مایوسی۔ اور اس کا نتیجہ مثبت نہیں نکلے گا۔ ؟
چلو اچھا ہوا جلد ہی پتا چل گیا۔
اب تو عوام کو خود ہی آگے آنا ہو گا مگر بادشاہ گروں کو یہ منظور نہیں وہ انہیں کسی صورت اقتدار کی باگ اپنے ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی نیک شگون نہیں لوگوں سے ہی رونق ہے ان کے چہروں پر، جب وہی بے دل ہو گئے تو خوف کی پر چھائیاں ان کی پیشانیوں پر چھا جائیں گی بہر حال آوے کا آوا بگڑ چکا ہے۔
اس وقت کوئی سرکاری ادارہ بھی ٹھیک نہیں۔
اور اس کی نشاندہی کرنے والے بھی خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
چند روز پہلے مجھے سوئی گیس کے بل کی تصحیح کروانا تھی اس میں پندرہ سو روپے زائد ڈال دیے گئے تھے جو اس سے پہلے بھی ڈالے گئے مگر میں نے وہ بل درست کروا لیا۔ دوبارہ اسے متعلقہ سیلز افسر کے پاس لے گیا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ اب ان کے بجائے دوسری برانچ والے کریں گے مگر وہاں گیا تو انہوں نے کہہ دیا وہی کریں گے میں ان کی خدمت میں پھر حاضر ہوا اور انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ ہو گیا ہے ڈوپلیکیٹ بل نکلوا لیں کسی اہلکار سے۔
مگر میں نے دیکھا کہ شعبہ صحافت و ذرائع ابلاغ کے کچھ لوگ جو ملازمین سے خوش گپیوں میں مصروف ہیں لگ رہا تھا کہ وہی یہاں ملازم ہیں یعنی اتنی واقفیت وہاں ایک کارکن نے بتایا کہ سر جی یہ صبح سے شام تک مختلف کاموں کے لیے آ جاتے ہیں ایسے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے گلوں میں کارڈ لٹکائے جنہیں کوئی پڑھتا ہے نہ دیکھتا ہے اس سے بہتر ہے ہزار گنا سوشل میڈیا، ان کی تعلیمی استعدار بھی واجبی ہوتی ہے بس دیہاڑیاں لگاتے ہیں ان کے پلے کچھ نہیں۔ ایسے لوگوں کی بنا پر پورا صحافتی ڈھانچہ ہدف تنقید بن رہا ہے۔
اب ذرا سوچئے ہم کہاں کھڑے ہیں عرض کرنے کا مطلب ہر نوع کے مسائل نے گھمبیر صورت اختیار کر لی ہے۔ سمجھانے والے بھی کنفیوز ہیں اور سمجھنے والے بھی۔
بس اب جنگل رہ گئے ہیں اور ویرانے جہاں تھوڑا بہت سکون و راحت اور فطرت کا نظام قانون، اصول اور ضابطے دکھائی نہیں دیتے۔ اب تو مجھے اپنا پہلا گاؤں بھی شاید یاد آتا ہے کہ جب میں فکرو غم سے آزاد تھا زندگی کی رعنائیاں تھیں اور فطری نظارے تھے، نہر، ریل کی پٹری اور پگڈنڈیاں تھے۔ جی بہت چاہتا ہے کہ پھر وہیں لوٹ جاؤں مگر حیات نوع کے دائرے سے باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہے اس سے باہر آنے کے لیے صرف موت چاہیے اور مسلسل اس کی جانب قدم بڑھ رہے ہیں۔ روشنیوں کے مصنوعی شہر میں اب اندھیرا ہونے لگا ہے مگر شاید آنے والی نسلوں کے لیے کوئی دیا روشن ہو جائے جو اس اجڑے نگر میں آس و امید کی بہار لے آئے!


