نئے پاکستان کا نیا قانون!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عوام کی جان و مال کا ضامن قرار دیا جاتا ہے لیکن چونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں جرم سے زیادہ مجرم سے نفرت کی جاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جرائم کے نہیں بلکہ مجرموں کے خاتمے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نظر آ تے ہیں۔ الیکشن 2018 سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کا اپنی الیکشن کمپین کے دوران عوام سے کیے گئے دعوؤں میں سے ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے صوبائی دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں پولیس کلچر کو تبدیل کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور اگر انہیں ملک کے دیگر صوبوں میں بھی حکومت ملی تو تمام صوبوں بالخصوص پنجاب میں قانون کے نفاذ کوبہتر بنایا جائے گا اور پولیس کلچر میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

انہی وجوہات کی بنا پر سابق آ ئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن تعینات کیاگیا۔ مگرمحض ایک ہی ماہ بعدوہ صحت کی خرابی کی بنا پر عہدے سے مستعفیٰ ہوگئے۔ اس استعفے کے بعد پی ٹی آئی حکومت تنقید کی زد میں آ گئی کیونکہ چند سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق اس استعفے کی اصل وجہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت ہے کیونکہ درانی صاحب کا یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جبکہ وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس کے انسپیکٹر جنرل امجد جاوید سلیمی کو عہدہ سے ہٹا کر 22 گریڈ کے سرکاری افسر (نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن) میں بطورِ سیکریٹری خدمات انجام دینے والے کیپٹن عارف نواز خان کو نیا آ ئی جی پنجاب تعینات کیا۔ واضع رہے الیکشن سے قبل ہونے والے وعدوں میں سے ایک وعدہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سیاسی مداخلت کو روکنا بھی تھا، اور یوں ایک بار پھر تحریکِ انصاف حکومت تنقید کا نشانہ بنی۔ دوسری طرف حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے باوجود پولیس کلچر میں کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نا آ سکی۔

انصاف دلانا تو دور کی بات پنجاب پولیس عوام ہی کے لیے خوف و ہراس کی علامت بنتی نظر آ رہی ہے۔ پھر چاہے وہ رحیم یار خان میں فاترالعقل صلاح الدین کو اے ٹی ایم سے چوری کے جرم میں بنا کسی عدالتی پیشی کے خوفناک جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارے جانے کا واقعہ ہو، رواں ماہ شمالی چھاونی لاہور میں پنجاب پولیس کے تشدد سے ہلاک ہونے والے عامر مسیح قتل کیس کی بات ہو یا 80 سالہ ضعیف خاتون جو ڈی پی او آفس کے باہر انصاف کے لیے بیٹھیں ہوں، پولیس اہلکار کی جانب سے ان کو گالیاں اور دھمکیاں دینا ہو اور اس طرح کے کئی ان گنت واقعات جو کہ پنجاب پولیس کے لیے روز مرہ کا معمول بنتے جارہے ہیں۔

نان گورمنٹل ہیومن رائٹس کمیشن 2015 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 2000 ملزمان پولیس حراست میں جان کی بازی ہارگئے جن میں سے بیشتر کیسز کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا۔

اگر بڑھتے ہوئے جرائم کے معاملے پر روشنی ڈالی جائے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ پولیس اسٹیشن جانے اور پھر وہاں پیش آ نے والی مشکلات سے خائف رہتے ہیں، تو بعض لوگ پیشیاں بھگتنے کی سکت نہیں رکھتے۔

دنیا کا ایسا کوئی کونہ نہیں جو جرائم سے پاک ہو مگر ان کی روک تھام کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ گویا کسی ایک شخص کی موت پر جوڈیشل کمیشن بنانے یا کسی افسر کی معطلی اس معاملے کا مستقل حل نہیں۔ بلکہ مجموعی طور پر پولیس کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے تو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی سطح پر سیاسی تعلقات کا نا جائز فائدہ نا اٹھایا جا سکے اور ہر خاص و عام کی رسائی قانونی نمائندوں تک آسان بنائی جائے۔ رشوت کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں، اس کے علاوہ تفتیش کے طریقوں کی نا صرف ایک مناسب اور مہذب حکمتِ عملی طے کی جائے اور نجی عقوبت خانوں کے خلاف فوری سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ قانون کی پاسداری عوام کے ساتھ ساتھ قانون کے رکھوالوں پر بھی لازمی قرار دی جائے البتہ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حبا سعید کی دیگر تحریریں
حبا سعید کی دیگر تحریریں