سوچو ذرا ہٹ کے
پختگی گر کردار کی ہو تو کیا ہی بات ہے مگر اگر پختگی سوچ کو نہ تبدیل کرنے کی ہے تو یہ چیز معاشرے کے لئے درست نہیں۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہر کوئی مضبوطی سے اس سوچ پہ کھڑاھے جو اس نے اوائل عمری میں پائی۔ چاہے وہ مذہبی سوچ ہو یا سیاسی۔ ہر شخص یہ سمجھتاھے کہ وہ مذہبی یا سیاسی طور پہ جہاں کھڑا ہے بس وہی درست ہے۔ جن مذہبی رہنماٶں یا سیاسی لیڈروں کو وہ مانتا وہ اس کے لئے فرشتے ہیں جن سے کوئی غلطی سرزد ہونے ک امکان بھی نہیں ہے اور مخالفین کوشیاطین کا رتبہ دے دیا جاتا ہے کہ ان سے کسی درست طرزعمل کا ظہور ہونا ناممکن ہے۔
کسی بھی طرز عمل کو خالصتًا میرٹ پہ جج کرنے کی روایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس مسئلے کی بنیاد ہمارے نظام تعلیم میں ہے جہاں بچے کو سیکھنے کی بجائے ماننے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ تعلیم خواہ مذہب کی ہو یا دنیاوی بچے کو کہا جاتا ہے کہ جو کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے اس کو من و عن قبول کرنا اس کے لئے لازم ہے۔ بچے کی خود کی سوچ کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا جس سے اس کی تخلیقی صلاحیت دب جاتی ہے۔ کچھ ہٹ کر سوچنے سے وہ گھبراتا ہے اس کے علاوہ چند باتوں کو مان کہ وہ تحقیق کے عمل سے بھی دور چلا جاتا ہے۔
یہ چند باتیں اس کہ ذہن میں عقیدے کی طرح بیٹھ جاتی ہیں اس لئے جب کوئی مختلف بات اس کے سامنے آتی ہے تو اس کے اندر ردعمل کے طور پہ نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے معاشرے میں انتشار بڑھتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے نظام تعلیم میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ بچے کو سوچنے پہ مجبور کرنا ہو گا۔ صرف یاداشت کو ہی ترجیح نہیں دینی ہو گی بلکہ تخلیقی صلاحیت کو بھی نوازنا ہو گا۔ بچے کے خیالات چاہے کتنے ہی عجیب یا بے ڈھنگ کیوں نہ ہوں ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔


