عورت کی زندگی آسان نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی عورت کے لیے اس قدر سہل نہیں جتنا میں سمجھتی رہی۔ اس کا اندازہ گھر سے دور حصولِ تعلیم کے لیے ہاسٹل میں قیام کے بعد ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کے لیے محفوظ ترین جگہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ اس کہے جانے سے مجھے ہرگز اتفاق نہیں کیونکہ پہلے تو عورت کے ”اپنے گھر“ کی اصطلاح تشریح طلب ہے۔ زندگی کے ابتدائی برس بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی وہ اپنے والدین کے ساتھ گزارتی ہے۔ اس سارے عرصے میں ماں باپ کی خواہشات کا احترام اور معاشرے میں باپ اور بھائیوں کی عزت کی پگڑی کو سنبھالا دینے کا کام اس کے ذمے ٹھہرتا ہے۔ اس کی شخصیت کا ہر رخ اس کے ماں باپ کی دین ہوتا ہے اور اس کے سارے افعال انہیں سے منسوب ہوتے ہیں۔ یعنی اس کی راجدھانی کا اقتدار والدین کے پاس ہوتا ہے پھر جب یہ اقتدارمنتقل ہوتا ہے تو اس کا نیا وارث اس کا شوہر ہوتا ہے۔

وہ ساری خواہشات، جو والدین کے گھر، پوری نہ ہو سکنے کا ملال ہوتا ہے، شوہر کے گھر آنے کے بعد پھر سے بیدار ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہاں بھی ہنوز دلّی دور است۔ اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ شوہر کی عزت اس کے گھر والوں کی قائم کردہ حدود و قیود کو قائم رکھنا اس کے ذمے ٹھہرتا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ہماری پچھلی گلی میں ایک شوہر نے اپنی عورت کے کان ناک اور ہونٹ کاٹنے کے بعد اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ اس کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے شوہر کی رنگ رلیوں کے متعلق استفسار کیا تھا۔

میں نے اپنے حلقہ احباب میں کتنی ہی جاننے والی شادی شدہ عورتوں کی حالتِ زار دیکھ کر ان کو اپنے حق کے لیے لڑنے کا کہا، اکثریت کا جواب یہ تھا کہ ان کو خدا نے بنایا ہی کمزور ہے۔ اور ایک آدھ خاتون تو ایسی بھی تھیں جن کے شوہر محترم ان کے لیے گھریلو ملازمہ کا کردار ادا کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ مرد جیسے بھی کرے اس کی عزت کرنی ہم پر فرض ہے۔

یعنی عورت کی عورت سے دشمنی بھی جھٹلائے جانے والی بات نہیں۔ بات کہاں سے نکلی تھی کہاں پہنچ گئی۔ ہاں تو میں بات کر رہی تھی ہاسٹل لائف کی۔ ہاسٹل میں رہائش پذیر عورت، لیڈی ڈاکٹر، نرس، میڈیا میں کام کرنے والیاں معاشرے کی نظر میں اچھی نہیں ہو سکتیں اس کا اندازہ بھی ہاسٹل میں رہ کر ہوا۔ ہم دوستوں کی عادت رہی کہ رات گئے تک جاگتے رہنا کبھی چائے کا دور چل رہا ہے، کوئی بیٹھا امتحانات کی تیاری میں لگا ہے۔ بیچ میں جب بوریت حد سے سوا ہو جاتی تو محفلِ رقص کا اہتمام بھی ہو جاتا۔ اگلے دن کبھی اپنی کولیگز کے سامنے بے اختیاری میں منہ سے رات کی محفل کا ذکر ہو جایا کرتا تھا تو ان تمام کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے کیا؟ ”تم لوگ ناچتی بھی ہو؟ ہا ا ا ا ا ا اآ“

اور یکلخت میری شکل دیکھنے کے لائق ہوتی تھی کہ ہیں میں نے کیا افشا کر دیا،خیر! آگے بڑھتے ہیں اگلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ دو چار جگہوں پہ بسلسلہ ملازمت انٹرویو دینے کا اتفاق ہوا۔ یہاں بھی ہاسٹلائز لڑکیاں دیکھ کر سربراہان ادارہ کی رال ٹپکتے دیکھی۔ دکاندار سے بیلنس کروانے کا اتفاق ہوا تو اس نے بھی ہاسٹلائز سمجھ کر عنایات کرنے کی کوشش کی۔ نیز ضروریات زندگی کے حصول کے لیے بھانت بھانت کے مردوں سے واسطہ پڑا ان سب نے اپنے اپنے طریقے سے ہم پہ یہ واضح کیا کہ عورت اس معاشرے میں اکیلی جہاں بھی نکلے گی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

یہ تو اکا دکا تجربات ہیں۔ کئی ایسے واقعات دوستوں کی زبانی سننے کو ملے کہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی۔ مختصر یہ ہے کہ عورت کی آزادی کی مثالیں دینے والوں کو ایک بار پھر اپنے ہم جنسوں کے اعمال پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ملازمت پیشہ عورت آج بھی کہیں بھی جانے میں آزاد نہیں ہے نا ہی محفوظ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کو کڑی سے کڑی سزا دے کر ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •