گندی ویڈیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ہی پوسٹ جب انسٹا گرام، ٹویٹر اور فیس بک وال پر نظر آجائے تو پھر واٹس ایپ اور فیس بک میسجنر میں بھی اُسی کا لنک نہ صرف شیئرکیاگیا ہو بلکہ ساتھ ایک پیغام بھی ہو کہ یہ ویڈیو آپ نے دیکھی ہے؟ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھ لیں۔ تصور کریں اگر یہ پوسٹ ”گندی“ ہو، فرض کریں یہ کسی حوا کی بیٹی کی عزت کا جنازہ ہو، یہ کوئی سینماسکینڈل ہو، یہ کوئی انسانی درندگی کی انتہا ہو اور یہ ویڈیو اگرکسی ہسپتال نما کمرے کی ہو، جس ویڈیو میں دو لوگوں کا ایسا عمل عکسبند ہوکہ جنہیں دیکھنا مناسب نہیں تو پھر آپ بعض دفعہ اس سکینڈل پر بات کرنے سے پہلے بھیجنے والے کی سوچ کو بھی اکیس توپوں کی سلامی دے کر اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نامناسب مواد کی شیئرنگ کے پیچھے کچھ تو منظم گروہ ملوث ہو سکتے ہیں جیسا کہ کسی ملک کے خلاف، کسی مذہب کے خلاف، کسی بڑی شخصیت کے خلاف یا پھرکسی اداکارہ کے خلاف پوسٹیں نظر سے گزرتی ہیں۔ غور کریں تو کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں شاید جن کا مقصد کچھ بھی نہیں ہوتا اور پوچھنے پر ان کے پاس کوئی خاص جواز بھی بتانے کو نہیں ہوتا۔ پھر بھی وجہ دریافت کریں تو یہی کہیں گے ”بس ایویں ای“۔

بعض دفعہ تو مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا ”بندر کے ہاتھ ماچس“ کے مترادف ہے۔ بعض معاملات میں سوشل میڈیا کی بدولت لوگوں کافائدہ ہو رہا ہے اور کئی واقعات میں سوشل میڈیا کی ہی بدولت مظلوموں کو انصاف بھی مل جاتاہے مگر غیراخلاقی مواد کے پیچھے در اصل ایسے عناصر ہیں جو جہالت کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھی تک باہر نہیں نکلے اور شاید وہ نکلنا بھی نہیں چاہتے۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جب سمارٹ فون بچے بچے کی دسترس میں ہے اوروہ جو چاہئیں جب چاہئیں دیکھ سکتے ہیں، اگریہی غیر اخلاقی مواد بچوں کی نظر سے گزرے اور یقینا گزر بھی رہا ہے کہ ہمارے ہاں اسے سنسر کرنے کا کوئی نظام موجود ہے، نہ معاشرے کے پاس ایسی فکر نظر آتی ہے کہ وہ نئی نسل کے لیے زہر قاتل مواد کو روک سکیں۔

ویسے تو ایسے مواد انٹر نیٹ کے ذریعے سرچ کر لیے جاتے ہیں اور متعدد واٹس ایپ گروپس کے ذریعے منتقل ہوتے رہتے ہیں مگر جو مواد فیس بک پر شیئر کرنے سے ہر کسی کو بغیر سرچ کیے پہنچ رہا ہے، رفتہ رفتہ اس زہر کو ہم سب پیتے جارہے ہیں اور ہمٰیں محسوس بھی نہیں ہورہا۔ ایسا مواد ہماری اگلی نسلوں کو تباہی کی جس گہری کھائی میں لے کر جا رہا ہے وہاں سے باہر نکلنابہت مشکل ہوگا۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیاگلوبل ویلج انٹرنیٹ کی بدولت ہوئی ہے جس میں آپ کا فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ وغیرہ آپ کا گھر ہے، آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ آپ کے قومی شناختی کارڈ کی طرح ہے، جس طرح حقیقی دنیا میں آپ اپنے گھر، گلی، محلے، شہر اورملک میں غیر اخلاقی حرکت کھل کر سب کے سامنے اس ڈر سے نہیں کرتے کہ میری کیا عزت رہ جائے گی؟ لوگ کیا سوچیں گے کہ میں ایسا ہوں؟ اہل خانہ، والدین، بہن بھائی اور اولاد سے کیسے نظریں ملاؤں گا اگر میری کوئی ”حرکت“ پکڑی گئی۔

اسی طرح سوشل میڈیا کی بھی دنیا ہے، جو لوگ آپ کی حقیقی زندگی کا حصہ ہیں، وہی لوگ سوشل میڈیا پربھی ہیں۔ آپ کی زبان اورآپ کی سوچ کا جو اظہار سوشل میڈیا پر ہوگا وہی حقیقی دنیا کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوگا جو جہاں آپ کی عزت افزائی کا سبب بنتاہے، وہی آپ کی عزت کا جنازہ بھی نکال سکتاہے۔

لہذا سوشل میڈیا کے مکینو! غیر اخلاقی کام آج ہی نہیں ہورہے، یہ شروع دن سے ہورہے ہیں، شیطان اپنے کام دکھاتا رہتاہے کیوں کہ اس کی لڑائی کسی انسان سے نہیں بلکہ انسانوں کے خالق کے ساتھ ہے۔ اس لیے آپ انہیں ساری دنیا سے شیئر کرکے اس کے کارندے بننے کی کوشش نہ کیاکریں، پھر بھی یہ ہرکسی کا ذاتی مسئلہ ہے، گندی ویڈیو اگر کسی ذریعے سے آپ تک پہنچ ہی گئی ہیں، سینما، جوس کارنر، ہوٹل یا پھر ہسپتال کی کوئی گندی ویڈیو آپ کے ہاتھ لگ ہی گئی ہے تو اسے ہزار بندوں تک شیئرکرنا فرض نہ بنا لیں، یہ کوئی کرنے والا کام نہیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے، دنیا بہت پیار ی ہے، رشتے انمول ہیں، سکون حقیقت کی دنیامیں تلاش کریں، گلوبل ویلیج میں گند پھیلا کر اسے مزید گندا مت کریں.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •