صوبہ پوٹھوہار اور پاکستان کا بانجھ پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خطہ پوٹھوہاراپنی ہیت ترکیبی، تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اپنے اند ر ایک الگ شناخت کا حامل ہے۔ عرف عام میں پوٹھوہار اور پوٹھوہاری ثقافت علامتی اظہار ہیں جو پنجاب کا حصہ ہوتے ہوئے بھی الگ تھلگ ہیں۔ پوٹھوہار کے باشندے جب لاہور یا جہلم سے آگے سفر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پنجاب گیا تھا۔ پوٹھوہار باسیوں میں پنجابی کی انفرادیت موجود ہے۔ یہی چلن پنجاب میں بھی موجود ہے۔ راولپنڈی، مری، چکوال، جہلم اٹک یا گرد و نواح کا کوئی شہری اگر لاہور میں ہے تو وہ پوٹھوہاری کی پہچان رکھتا ہے۔

جس طرح سندھی، پختون، بلوچی، پنجابی اور سرائیکی ہیں۔ پوٹھوہاری بھی قومیت ہے۔ پنجاب کا حصہ ہونے کے باوجود ہزارہ قوم سے پوٹھوہاریوں کی ہم آہنگی ہے۔ اس ہم آہنگی میں زیادہ حصہ زبان اور لہجے کا ہے تاہم نزدیکی بھی اثرپذیر ہے۔ دوسرا میل ملاپ کشمیریوں سے ہے جو ہزارہ بیلٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ کشمیری قابل ذکر تعداد میں خاص کر راولپنڈی میں آباد ہیں جو کافی حد تک پوٹھوہاریوں میں گھل مل چکے ہیں۔ جس طرح ہزارہ وال کے تہذیبی و تمدنی رشتوں کی ڈوریں پوٹھوہاریوں سے جڑی ہوئی ہیں ویسے ہی کشمیری بھی کئی ثقافتی ولسانی رشتوں میں پوٹھوہاریوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔

ایسے بندھن پنجابی قوم کے ساتھ پوٹھوہاریوں کے کم ہیں بلکہ کہیں کہیں مخاصمت کی بو بھی آتی ہے۔ کشمیری، پنجابی اور ہزارے وال کے علاوہ پوٹھوہار میں آبادیگر قومیتوں کے ساتھ پوٹھوہاریوں کی اگر سنگت نہیں ہے تو کسی قسم کی عصبیت بھی نہیں ہے بلکہ پوٹھوہاری قوم ہر کسی کو اپنے سماج میں سمولینے کی خاطر خواہ صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخی اوراق بھی اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پوٹھوہار نے دیگر اقوام کے لئے ہمیشہ وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پوٹھوہار کی رہتل ہتل قدیم اور جدید کا انتہائی حسین امتزاج ہے۔ الٹرا مارڈن خاندانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی جب گھر کی دہلیز کے اندر قدم رکھتے ہیں توپوٹھوہاری بن جاتے ہیں۔ پوٹھوہاری کلچرل تقاریب میں اگر بزرگ ذوق و شوق سے پوٹھوہاری شعر سننے آتے ہیں تو نوجوان نسل کی بھی بہتات ہوتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ پوٹھوہار کی نوجوان نسل اپنی اصل کو بھول گئی ہے یا چھوڑ رہی ہے۔ اکا دکا مثالیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے پانسہ پلٹ لیا ہو۔

مگر مجموعی طور پر پوٹھوہاری اپنی اصل میں پوٹھوہاری ہیں۔ خوبصورت بیل کو دیکھ کر آج کا نوجوان رکتا ضرور ہے۔ ایسی طرح کتوں کی لڑائی، بیٹرے بھڑانا، گھڑدوڑ، بیل دوڑ، میلوں ٹھیلوں کی رونق بھی نوجوان ہی بڑھاتے ہیں۔ تمہید باندھنے کامقصود ہے کہ پوٹھوہار کی دھرتی ریاستی خدوخال پر استوار ہے۔ مملکت خداداد اسلامی جمہوری پاکستان میں آئینی طور نئی ریاست کی گنجائش اگر نہیں ہے تو آئین پاکستان نئے صوبوں کی اجازت تو دیتا ہے۔

پوٹھوہار دھرتی جو اپنے اندر صوبے کے تمام تر تقاضے رکھتی ہے پھر کیا امر مانع ہے کہ ارباب اختیار خطہ پوٹھوہار کو صوبے کا درجہ دینے سے گریزاں ہیں اور پہلوتہی برت رہے ہیں جو خالص آئینی معاملہ ہے اور خطہ کا عوام کا آئینی، سیاسی اور قانونی حق ہے کہ انہیں صوبائی طور حق حکمرانی دیا جائے تا کہ پوٹھوہار کے وسائل پوٹھوہار کے عوام پر خرچ ہوں۔ خطہ پوٹھوہار کے عوام آج کے جدید عہد میں بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہے۔

خطہ کے محض چندشہری علاقے سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں جبکہ اکثریت کو پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ حقیقت سے نظریں چرانے سے حقیقت بدل نہیں جاتی ہے بلکہ زیادہ زور آور طریقے سے اظہار کرتی ہے۔ صوبے کی مانگ پوٹھوہار ہی نہیں کر رہا ہے۔ ہزارہ، کراچی، جنوبی سندھ، سرائیکی، بلوچستان میں پشتون، خیبر پختونخواہ میں جنوبی صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقوں میں صوبوں کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سب آوازیں آئینی حدود و قیود میں ہیں۔ حکمران کیا اس انتظار میں کہ جب تنگ آمد یہ آوازیں آئینی حدود کو توڑ کر ریاست سے ٹکرانے پر اتر آئینگی۔ حکمران ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب آوازوں کو سنیں اور پوٹھوہار سمیت دیگر علاقوں میں نئے صوبے بناکر پاکستان کے بانجھ پن کو دور کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •