نیب نے نواز شریف کے بعد ہیلی عثمان بزدار کو بھی ہیلی کاپٹر کیس میں گھیر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پسماندگی، ایمانداری، اور عاجزی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ” وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کی ہمیں جوخوبیاں بتائیں ان میں ایک یہ تھی کہ عثمان بزدار کا تعلق پسماندہ علاقے سے ہے، ان کے گھر میں بجلی میں نہیں ہے۔“

”دوسرا وہ ایماندار ہے۔ تیسرا عثمان بزدار عاجز ہیں۔ بجلی ان کے گھرمیں لگ گئی، یہ خوبی نکل گئی۔ ایمانداری ان کی رہی نہیں، یہ میں ایمانداری سے بتا رہا ہوں۔ آپ تقرریوں اور تبادلوں پر ان کی کہانیاں سن لیں۔ بزدار خاندان کی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو بڑی چیزیں بتا جاتا ہوں یہ ابھی تک خبر کسی کو معلوم نہیں۔ وزیراعلیٰ کا ایک ہیلی کاپٹر ہے ایک ارب 4 کروڑ روپے کا ہے۔ نیا ہیلی کاپٹربھی ہے اور پرانا بھی ہے۔“

”ہیلی کاپٹر کی انشورنس زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ اور 30 لاکھ اور 50 لاکھ میں بھی ہوئی ہے۔ لیکن عثمان بزدار نے ہیلی کاپٹر کی انشورنس کے لئے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے میں کروائی۔ نیب نے انکوائری شروع کردی، پنجاب حکومت نے ریکارڈ دینے دے انکار کردیا، نیب نے کمپنیوں سے رابطہ کیا، انہوں نے نیب سے کہا کہ ہم نے دوبارہ بات چیت کی ہے اور 2 کروڑ واپس خزانے میں جمع کروا دیا۔ “

”اب ساڑھے 5 کروڑ روپے ہے۔ اس کی بھی نیب انکوائری کررہی ہے، عنقریب عثمان بزدار کو پیشی کے لئے طلب کیا جائے گا۔ لہذا ایمانداری بھی گئی۔ تیسری خوبی عاجز ہیں، شہبازگل اور عون چودھری ان کی عاجزی کی نظر ہوگئے کیوں کہ تم مخبر ہو۔ کارکردگی ہے نہیں، عمران خان آخری وقت تک کہہ رہے تھے کہ اسدعمر، فواد چودھری، علیم خان رہیں گے سب چلے گئے، عثمان بزدار کو تبدیل کرنا چاہا توڈیڑھ منٹ لگائیں گے۔ ابھی اس لیے تبدیل نہیں کررہے کہ پرویزخٹک کے ڈسے ہوئے ہیں، پنجاب میں خطرہ ہے چودھری برادران سے، جہانگیرترین، شاہ محمود قریشی، گورنر سرور اور علیم خان سب کی اپنی اپنی حکومتیں ہیں۔ “

یاد رہے کہ اس سے قبل نواز شریف کے خلاف بھی نیب نے ہیلی کاپٹر کے استعمال کے متعلق ایک ریفرینس بنایا تھا۔ جنرل مشرف کی بغاوت کے بعد نواز شریف پر ہیلی کاپٹر کا ریفرینس دائر کیا گیا تھا اور راولپنڈی کی احتساب عدالت نے اٹک قلعے میں ہیلی کاپٹر ریفرنس کا فیصلہ سُناتے ہوئے سات جولائی سنہ دو ہزار کو میاں نواز شریف کو چودہ سال قید، پانچ کروڑ جُرمانے اور نااہلی کی سزا سُنائی تھی۔

راولپنڈی کی احتساب عدالت نے اٹک قلعے میں ہیلی کاپٹر ریفرنس کا فیصلہ سُناتے ہوئے سات جولائی سنہ دو ہزار کو میاں نواز شریف کو چودہ سال قید، پانچ کروڑ جُرمانے اور نااہلی کی سزا سُنائی تھی۔

نو سال بعد جب جنرل مشرف رخصت ہو گئے تو پھر 2009 میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو ہیلی کاپٹر ریفرنس میں احستاب عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا کو کلعدم قرار دیتے ہوئے اُنہیں بری کردیا۔

جسٹس طارق شمیم اور جسٹس ملک سعید اعجاز پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرائیل کورٹ کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت میں بےضابطگیاں پائی گئی ہیں اور اس مقدمے کی سماعت اُس طرح نہیں ہوئی جس طرح اس کا حق تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے میں الزامات کمزور اور شواہد ناکافی تھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے خلاف کیس میں استغاثہ کے ثبوت میں نقائص تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •