کراچی یا کچراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کچرا اور گندگی ایک بار پھر موضوع بحث ہے اور اس معاملے پر سیاست دانوں کے درمیان لفظی جنگ اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، اس کچرے کو اٹھانے اور اسے ’ری سائیکل‘ کرنے کا کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔ کراچی کے شہریوں کی جانب سے ہر روز پھینکے جانے والے کچرے کا تقریبًا ایک تہائی حصہ شہر کے گندے نالوں اور ڈرینج نظام میں جاتا ہے۔

کچرا اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کا معاملہ کراچی میں ایک درجن سے زائد بلدیاتی اداروں میں حدود، اختیارات کی تقسیم اور پھر ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنے سے پیچیدہ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا قیام 2014 میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ بل کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ حکام کے مطابق فی الحال ادارے کی تمام تر توجہ کراچی پر ہی مرکوز ہے۔ ادارے نے کراچی کے تین اضلاع میں صفائی کا ٹھیکہ دو مختلف چینی کمپنیوں کو دیا ہے۔

ان کمپنیوں کے ساتھ سات سال کا معاہدہ کیا گیا جس کے تحت کنٹریکٹر کو 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ کراچی میں سرفہرست مسئلہ ’سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ یا شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کو اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانا ہے، جس پر سندھ حکومت نے کئی ارب روپے لگائے۔ لیکن، اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ گزشتہ چند روز سے میئر کراچی وسیم اختر اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ و سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال کے درمیان شہر کے کچرے کے معاملے پر نوک جھونک جاری رہی مگر کچرا وہی کا وہی رہا۔

صوبائی دارالحکومت کراچی، ملک کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز اور پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب بڑا شہر ہے۔ جو اس وقت بلدیاتی لحاظ سے گونا گوں مسائل سے دو چار ہے۔ شہر کے چھ اضلاع میں سے چار میں دو چینی کمپنیوں کو ’سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ نے کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ دے رکھا ہے، جب کہ باقی دو اضلاع سے ضلعی میونسپل کارپوریشنز کچرا اٹھاتی ہیں ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مطابق حکومت ان کمپنیوں کو ان اضلاع سے کچرا اٹھانے کے عوض تقریباً 17 امریکی ڈالرز فی ٹن معاوضہ دیتی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان میں اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کا سب سے کم ریٹ ہے۔ بلکہ کراچی کی انتظامی تقسیم بھی پیچیدہ ہے۔ شہر میں 6 اضلاع کے علاوہ، دیہی کونسلز، پانچ کنٹونمنٹ بورڈز، ریلوے، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اداروں کی اپنی زمینیں اور وہاں آبادیاں ہیں۔ کچرا پھیکنے کے خلاف نافذ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت کچرا پھینکنے والے کو پولیس گرفتار کرسکتی ہے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، تاہم حال یہ ہے کہ پولیس کچرا اٹھانے والوں سے رشوت طلب کر رہی ہے۔

کراچی کا ضلع وسطی تقریباً 2200 ٹن کچرا پیدا کرتا ہے جس میں سے 1600 ٹن ہی ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ ضلع غربی کے 2500 ٹن کچرے میں سے بمشکل ایک ہزار ٹن ہی اٹھا کر لینڈ فل سائٹ پر منتقل کیا جاتا ہے ان تمام اداروں میں شہریوں کے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے آپس میں کوئی رابطے یا مشترکہ حکمت عملی کا بھی فقدان ہے۔ وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی نے کہا ہے کہ کلین کراچی مہم کے پہلے مرحلے میں شہرکے نالوں کی صفائی مکمل کرلی ہے اور دوسرے مرحلے میں شہر کاکچرا اٹھایا جائے گا اب انتظار کررہی ہر ایک آنکھ ہے کہ سرسبز اور صاف کراچی دوبارہ پھر کب دیکھنے کو ملے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کراچی میں 12 ہزار ٹن سے زائد کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن، اس میں سے بمشکل 50 سے 60 فیصد ہی اٹھایا اور باقاعدہ ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ باقی کچرا شہر کے گلی کوچوں، چوراہوں یا پھر ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے، جس سے وہ نالے برسات کے موسم میں اُبل پڑتے ہیں اور نتیجتاً بارش کا پانی قریبی آبادیوں، سڑکوں اور گلیوں میں جمع رہتا ہے اور پھر بارشوں میں شہر بھر کا نظام درہم برہم نظر آتا ہے چاروں طرف کچرے کے پہاڑ بن رہے ہیں کچرے کے ڈھیر لوگوں میں تقسیم ہیں جہاں سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔

ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو بغیر دستانوں اور ماسک کے ایسے آلودہ ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے ذمہ دار ادارے کے مطابق شہر میں اِس وقت لگ بھگ 15 سے 16 لاکھ ٹن کچرا موجود ہے۔ جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے باعث شہر میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ کچرے میں مافیا ملوث ہے جو اس کو ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچنے نہیں دیتی، مختلف جگہوں پر کچرا پھینک دیا جاتا ہے، جہاں سے افغانی اور دیگر بچے کام کی اشیا حاصل کرتے ہیں، جو فیکٹریوں کو بھیجی جاتی ہیں، افسوس ہے کہ حکومت اس کو خود کیوں ہینڈل نہیں کرتی اس سے پاور جنریشن کیوں نہیں کی جاتی بجائے فائدہ لینے کے ہم اس پر خرچہ کر رہے ہیں۔

کراچی سمیت پورے سندھ میں کچرا میدانوں، فصلوں یا گاؤں کے قریب پھینکا جاتا ہے یا پھر جلایا جاتا ہے، جس میں ہسپتالوں کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماحول آلودہ رہتا ہے اور بہت ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کم ہی نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے الزام تراشی کی سیاست کر کے عوام میں اپنی موجودگی کو باور کرایا جاتا ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ”عارضی گاربیج ٹرانسفراسٹیشن پرکچرا اکٹھا کرکے لینڈ فل سائٹ پرڈمپ کیا جائے گا، کوشش ہوگی کہ ایک مہینے میں کراچی کا کچرا صاف کریں، اس کے بعد پورے صوبے میں صفائی مہم شروع کی جائے گی۔“ امید ہے کہ کراچی کے لوگوں کو صاف کراچی ایک بار پھر نصیب ہوجائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •