گوالے پرنسپل کا کینٹین، کپتان کی ریاستِ مدینہ اور طالبات کا عبایہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسماعیل شاہد معروف پشتو مزاحیہ اداکار اور ہدایت کار ہیں۔ پی ٹی وی کے فیتوں پر اردو میں بھی ان کا کام ریکارڈ ہے۔ پی ٹی کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل ”جھوٹ کی عادت نہیں مجھے“ میں مرکزی کردار انہی کا تھا۔ پی ٹی وی پر ہی ان کا ایک ریکارڈ ساز پشتو ڈرامہ ”مڑی پہ شمار دی“ چلا۔ اسماعیل شاہد اس ڈرامے میں گوالے پرنسپل کا کردار نبھارہے ہیں۔ ڈرامے کا خاکہ یہ ہے کہ میاں گوالے نے باڑے کی پچیس بھینسے بیچ کر اسکول کی بنیاد رکھ دی ہے۔ کھولتے وقت اس کا احساس تھا کہ اسکول بھی ایسے ہی چلے گا جیسے بھینس کا باڑا چلتا تھا۔ اب جب اسکول کھلا ہے تو دودھ پانی کا فرق بھی معلوم ہوگیا۔

ایک پڑھے لکھے دوست نے مشورہ دیا کہ مجھے ساتھ رکھ لو۔ پرنسپل کی سیٹ پر تم ہی رہوگے میں ساتھ بیٹھ جایا کروں گا۔ تم کچے میں اتر رہے ہوگے تو میں کھانس دیا کروں گا، تم رک جاؤ گے۔ اوراگر تمہارے منہ سے غلط بات نکل گئی تو میں کسی بھی طرح بات گھما کے رفو کردیا کروں گا۔

پچیس بھینسیں بیچ کر آنے والے صاحب کی نظر میں کل ملا کے اہمیت دودھ چائے اور گرم سموسوں کی تھی۔ اس نے ساری توجہ اسکول کے کینٹین پر مرکوز کردی۔ اُس کا واقعی خیال یہ تھا کہ یہ کینٹن اگر ٹھیک سے چل گیا تو اسکول کسی بھی قسم کے معاشی اور انتظامی خطرے سے باہر رہے گا۔ بس شرط اتنی سی ہے کہ طلبا اور ان کے والدین نے گھبرانا نہیں ہے۔ چنانچہ گوالے پرنسپل نے وسیع تر تعلیمی مفاد میں اپنے ہی باڑے سے کینٹین کے لیے دودھ لگوادیا اور اپنے ہی گھر سے سموسے کروا دیے۔ کینٹن گھر کے ہی ایک فرد کے حوالے کردی یوں گھر کی بات گھر میں ہی رہ گئی۔

اسکول کا ڈنکا گلی گلی پیٹا گیا۔ ماحول کے سحر نے لوگوں کو اس قدر جذباتی کردیا کہ دوسرے اسکولوں سے بچوں کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ والدین اگر اسکول کے حوالے سے کوئی خاص بات پوچھتے تو گوالا پرنسپل جواب میں کہتا بھی تو کیا کہتا۔ اس کے لیے تو اسکول کا کینٹین ہی ہر مرض کی دوا تھا۔ چنانچہ وہ کہتا، ہم یہاں بچوں کو بالکلا اصلی تے نسلی دودھ دیتے ہیں۔ بچے اسی دودھ میں بنی چائے پی سکتے ہیں اور ساتھ گرما گرم خستہ کرارے سموسے بھی لے سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں بچے پڑھ لکھ کر نواب بنیں تو انہیں معقول پیسے دے کر بھیجا کریں تاکہ کینٹن میں اڑا سکیں۔

گوالے پرنسپل کو کبھی اپنی برتری جتانے کی چُل کاٹتی تو کارکردگی کا جائزہ لینے کلاسوں کا وزٹ شروع کردیتا۔ کلاس میں پہنچتا تو بچے کھڑے ہوجاتے۔ حال احوال کے بعد بچوں سے پوچھتا، پڑھائی ٹھیک جارہی ہے ناں؟ بچے باواز بلند کہتے کہ جی ہاں۔ داد تحسین دیتے ہوئے پوچھتا، بریک ٹائم میں سارے بچے کینٹین جارہے ہیں ناں؟ جی ہاں! دودھ پی رہے ہو ناں؟ جی ہاں! گرما گرم سموسے بھی ساتھ کھارہے ہو ناں؟ جی ہاں! شاباش شاباش۔ بس اسی طرح دودھ پیتے رہو تو تمہارے دماغ کو طاقت ملے گی۔ دماغ کو طاقت ملے گی تو تمہاری پڑھائی اچھی ہوگی اور نمبر اچھے آئیں گے۔

امتحان ہوئے تو ایک ذہین فطین بچہ فیل ہوگیا۔ بچے کے والد نے رزلٹ دیکھا تو آگ بگولہ ہوگیا۔ کاف لام کرتا ہوا گوالے ہرنسپل کے دفتر میں گھس آیا۔ رزلٹ کارڈ میز پر مارتے ہوئے کہا، میرا بچہ رات دن محنت سے پڑھ رہا ہے اور پھر بھی کل ملا کے اس کے چھ نمبر؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ گوالے پرنسپل نے بہت اطمینان سے ٹیبل پر جھکتے ہوئے کہا، مجھے میرے سوال کا جواب دو پہلے

کیا تمہارا بچہ کینٹن سے خالص دودھ پی رہا ہے؟
جی پی رہا ہے۔

سموسے کھارہا ہے؟
جی کھارہا ہے۔

سموسے اسے گرم مل رہے ہیں کہ ٹھنڈے؟
گرم مل رہے ہیں۔

یہ سن کر گوالا پرنسپل بھناتے ہوئے اپنے رفو گیر کی طرف مڑتا ہے اور پوچھتا ہے، ابے خوار ناہنجار یہ کیا چکر ہے کہ ایک بچہ دودھ بھی پی رہا ہے اور سموسے بھی کھارہا ہے پھر بھی فیل ہورہا ہے؟ دیکھو مڑا جلدی سے کیا مسئلہ ہوا ہے رزلٹ میں۔ رفوگیر کچھ دیر رزلٹ کے رجسٹر میں سر دیتا ہے، ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے نتیجہ تبدیل کرتا ہے اور سر اٹھاکر کہتا ہے، سوری اس بچے نے دراصل 60 نمبر لیے ہیں مگر غلطی سے صفر اور چھ آگے پیچھے ہوگئے تو وہ 06 ہوگیا ہے۔

غصے میں لال پیلا ہوکر گوالا پرنسپل کہتا ہے، کمبخت مارے آفرین ہو اور تم پر ہو، اتنی بڑی غلطی؟ شاباش ابھی کے ابھی اس کا رزلٹ ٹھیک کرکے اس کو اس کے ساٹھ نمبر دو اور بیس نمبر میری طرف سے بھی دیدو، نمبروں کی ہمارے پاس کوئی کمی ہے؟ دیدو نمبر سارے اور میں بتادے رہا ہوں کہ آئندہ ایسی واہیات غلطی نہ ہو۔ میں بھی کہوں کہ بچہ دودھ بھی پی رہا ہے اور گرم سموسے بھی کھارہا ہے اور سالا کل ملا کے کے چھ نمبر؟ لاحول ولا!

گوالے پرنسپل کے اسکول میں اہم سوال تعلیم اور تعلیمی معیار کا ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس نے ہر سوال کے جواب کو کینٹین کے ساتھ جوڑا ہوا تھا۔ موجودہ حکومت کے سامنے سوال بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکس کلیکشن میں کمی، سالانہ خسارے میں اضافہ، وعدوں کی خلاف ورزیوں، اپنے ہی کہے سے دو سو ڈگری میں پھرجانے، دواوں کی قیمتوں میں اضافوں، سرکاری ہسپتالوں کی فیسوں میں اضافوں، تعلیمی بجٹ میں کمی اور اقربا پروری کا ہے۔ مگر عمران خان نے ہر سوال کے جواب کو کمال ہوشیاری کے ساتھ ”ریاستِ مدینہ“ کی دُم سے باندھ دیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •