ابراج گروپ دبئی امریکی عدالت میں: چار پاکستانی سیاستدانوں کو رشوت دینے کا الزام، تین نام معلوم، موجودہ حکومت میں شامل چوتھی اہم شخصیت نامعلوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی وکلا نے ابراج کیس میں اپنے تجدید شدہ فوجداری چالان میں چار پاکستانی سیاست دانوں کا ذکر کیا ہے جنہیں کمپنی کے سینئر ترین ایگزیکٹو نے مبینہ طور پر رشوت دی یا رشوت دینے کی کوشش کی تھی، تاہم ان چار سیاست دانوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ ان چار میں سے تین سیاست دانوں کے نام پہلے ہی امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے آرٹیکل میں شائع ہو چکے ہیں جس کے بعد باقی رہ جانے والے چوتھے سیاست دان کے نام کے بارے میں لوگ متجسس ہیں کہ یہ کون ہے۔

امریکی پراسیکوٹرز (وکلا) کا الزام ہے کہ 2013ء سے 2016ء کے درمیان ”چوتھے سیاست دان“ کو بھی کمپنی کے سینئر ترین ایگزیکٹو نے رشوت دی تھی۔ 77 صفحات پر مشتمل چالان میں 25 ویں صفحے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ”2013ء سے 2016ء کے درمیان کمپنی کے سینئر ترین ایگزیکٹو (مدعا علیہ) نے ایک موقع پر مسٹر لکھانی اور مسٹر صدیقی (دونوں مدعا علیہان) کی مدد سے کمپنی کے فنڈز استعمال کر کے پاکستان کے ایک منتخب عہدیدار (چوتھا سیاست دان) کو رشوت دی اور اس کے کھانے پینے اور سفری اخراجات ادا کیے۔

23 ویں صفحے پر بتایا گیا ہے کہ کس طرح مبینہ طور پر کمپنی کے سینئر ترین ایگزیکٹو کی ہدایت پر کمپنی ارکان نے کمپنی کے فائدے کے لئے پاکستان کے منتخب عہدیداروں کو رشوتیں دیں۔  چالان کے 54 ویں صفحے پر وکلاء کا الزام ہے کہ“ مثال کے طور پر، جون 2016ء میں مدعا علیہ نے ایک مخصوص پاکستانی عہدیدار (سیاست دان نمبر ایک) کو 20 ملین ڈالرز (3 ارب 12 کروڑ روپے سے زائد) کی ادائیگی کی منظوری دی، اس سیاست دان کے دیگر دو منتخب سیاست دانوں (دوسرا اور تیسرا نمبر) کے ساتھ تعلقات تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ ”سیاست دان نمبر ایک“ کو ”لین دین کے مشیر“ کی حیثیت سے شامل کیا جا سکے اور ”خصوصی طور پر منظوری، رضامندی اور دیگر معاہدوں پر توجہ مرکوز رکھی جا سکے جن کی حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے کمپنی، کے ای ایس پاور لمیٹڈ (جسے کے الیکٹرک لمیٹڈ بھی کہتے ہیں ) کے ساتھ لین دین میں ضرورت پیش آئے گی۔

 کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے الیکٹرک کی ہولڈنگ کمپنی ہے، یہ کمپنی پاکستان میں پاور یوٹیلیٹی کمپنی ہے اور اس میں کمپنی برانڈ کے اداروں نے تقریباً 300 ملین ڈالرز (46 ارب 83 کروڑ روپے سے زائد) کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔“ چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ ادائیگی اور معاہدے کی منظوری کے حوالے سے بھیجی گئی اپنی ذاتی ای میل میں کمپنی کے سینئر ترین ایگزیکٹو نے کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار (ایگزیکٹو) کو ہدایت کی کہ وہ معاہدے میں ترمیم کرے۔

 اس میں کہا گیا ہے کہ ”در حقیقت اور اصل میں معاہدہ کچھ اور نہیں بلکہ سیاست دان نمبر ایک کے ساتھ رابطے کا ذریعے تھا تاکہ وہ کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ نقد رقم کو سیاست دان نمبر دو اور سیاست دان نمبر تین پر کے الیکٹرک میں اپنے اثاثے فروخت کرنے کے کمپنی کے منصوبے سے وابستہ معاملات میں اثر انداز ہونے کے لئے استعمال کر سکے، کیونکہ اس معاملے میں حکومت پاکستان با آسانی مدد کر سکتی تھی۔ “ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ”واقعتاً، معاہدے پر دستخط سے قبل، سیاست دان نمبر ایک نے ایگزیکٹو نمبر ایک کو بتایا کہ سیاست دان نمبر ایک کو سیاست دان نمبر دو اور تین کی آشیرباد حاصل ہو جائے گی اور ساتھ ہی یہ ہدایات بھی مل جائیں گی کہ رقم کیسے تقسیم کی جائے گی۔

 “ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے کہ ”ایک اور مثال یہ ہے کہ تقریباً 2013ء سے 2016ء کے درمیان مدعا علیہ کی کئی مواقع پر مسٹر لکھانی اور مسٹر صدیقی نے مدد کی۔ مدعا علیہان نے ایک اور منتخب پاکستانی عہدیدار (سیاست دان نمبر چار) کو رشوت دینے کے لئے رشوتیں دیں اور اس کے کھانے پینے اور سفری اخراجات ادا کیے۔  اگرچہ چالان میں چاروں میں سے کسی بھی سیاست دان کا نام نہیں لیا لیکن اکتوبر 2018ء میں وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ مدعا علیہ، جو دبئی میں قائم مشکلات کا شکار کمپنی کے بانی ہیں، نے مبینہ طور پر ایک کاروباری شخص مسٹر ملک کو 20 ملین ڈالرز ) 3 ارب 12 کروڑ روپے سے زائد) رشوت دی تاکہ کے الیکٹرک فروخت کرنے کے لئے اُس وقت کی حکومت کے دو انتہائی اعلیٰ ترین منتخب عہدیداروں کا تعاون حاصل کیا جا سکے۔

آرٹیکل میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مسٹر ملک کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ اُس وقت کے دو انتہائی سینئر ترین منتخب عہدیداروں کا تعاون حاصل کریں تاکہ مدعا علیہ کے الیکٹرک میں کمپنی کے اثاثے فروخت کر سکیں۔  تاہم، مدعا علیہ نے وال اسٹریٹ جرنل کے الزامات کی تردید کی تھی۔ امریکی اخبار کی اِس مذکورہ خبر میں تین سیاست دانوں کا نام لیا گیا تھا جن کے متعلق خیال کیا جا رہا تھا کہ چالان میں ان افراد کو ہی سیاست دان نمبر ایک، سیاست دان نمبر دو اور سیاست دان نمبر تین قرار دیا گیا ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس چوتھے سیاست دان کا ذکر کیا گیا تھا وہ کون ہے؟

 یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی پراسیکوٹرز ان سیاست دانوں بالخصوص سیاست دان نمبر چار، کے نام باضابطہ طور پر سامنے لائیں گے یا نہیں، جس کی شناخت وال اسٹریٹ جنرل نے بھی نہیں بتائی۔ کہا جاتا ہے کہ چوتھا معروف شخص موجودہ سیٹ اپ میں اعلیٰ ترین عہدیدار ہے۔  چند ماہ قبل وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ امریکی وکلاء نے کمپنی کے بانی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 250 ملین ڈالرز ( 39 ارب 2 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد) کی خرد برد کی، یہ خبر دنیا کی سب سے بڑی ناکام پرائیوٹ ایکوئٹی کمپنیوں کے متعلق تحقیقات کا حصہ تھی۔

واضح رہے کہ وال سٹریٹ جرنل اپنی 17 اکتوبر 2018 کی اشاعت میں پاکستانی سیاست دانوں میں سے نواز شریف، شہباز شریف کے ناموں کا انکشاف کر چکا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1439725

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •