آستین کا ایناکونڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آستین کا سانپ سماج میں موجود افراد کی برائیوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔ سانپ خود بھی بطورِ محاورہ اور علامت استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی نہیں بلکہ سانپ ہے۔ اس معنی میں سانپ گویا بدترین دشمن ہوتا ہے اور آستین کا سانپ وہ ہوتا ہے جو بظاہر ہمارے ساتھ ہو، ہمارا ہم درد ہو اور مخلص نظر آتا ہو لیکن در پردہ ہمارا دشمن ہو۔ سماج میں اس طرح کے کردار بہر حال موجود ہوتے ہیں۔ اس تشبیہ کا پس منظر یہ ہے کہ پرانے زمانے میں آستین کو جیب کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں چیزیں رکھنے کے لئے ٹوپی یا عمامہ بھی استعمال ہوتا تھا، آستین بھی اور رومال کا کونہ بھی۔ امام شافعی کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے اپنی قبا کی ایک آستین بہت لمبی رکھی تھی جبکہ دوسری چھوٹی تھی کسی نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ یہ لمبی آستین میں کاغذات رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ اس نے کہا کہ پھر دوسری آستین بھی اتنی ہی بڑی رکھیں۔ انہوں نے کہا نہیں یہ فضول خرچی ہوگی۔ اندازہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو سانپ پالنے کا شوق ہوتا تھا، وہ اپنے پالتو سانپ کو سفر کے دوران میں اپنی آستین میں رکھتے تھے۔

اس طرح سانپ آرام سے رہتا تھا۔ یہ پالتو سانپ جسامت میں چھوٹا ہی ہوتا ہو گا۔ مصر کے علاقے میں ایک زہریلا کوبرا پایا جاتا ہے جسے انگریزی میں ایسپ (asp) کہتے ہیں۔ اسے معزز مجروں کو سزائے موت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی لمبائی 18 سے 20 انچ کے درمیان میں ہوتی ہے چنانچہ اسے آستین میں آسانی سے رکھا جا سکتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ قلوپطرہ نے اسی پالتو سانپ سے خود کو ڈسوا کر خودکشی کی تھی۔

وقت کے بدلتے موسموں کے ساتھ یہ سانپ ایناکونڈا (Anaconda) اژدہا، ہو جاتے ہیں اور اپنے مرّبی کو ڈستے نہیں، بلکہ زندہ ہڑپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کل اپنا پیارا وطن پاکستان بھی اینا کونڈوں (اژدہوں ) کی زد میں ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خود ہی اُن سانپوں کو دودھ میں مذہبی، لسانی، سماجی، سیاسی شکر گھول کے پلایا تھا جس سے وقتی فوائد تو ہمیں مل گیے لیکن وقت کے ساتھ ہم یہ بھول گئے کہ ہم خود بھی ان کی زد میں آسکتے ہیں۔

قومیں منافقت سے نہیں چلتیں قومیں سچائی اور دیانت داری سے چلتیں ہیں۔ قومیں جب سچائی کا ساتھ دیں تو اللہ کی نصرتیں بھی شاملِ حال ہو جاتی ہیں اور بتدریج قومیں مثبت سمت میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتیں ہیں۔ ہمیں امن کا وقفہ چاہیے۔ ہم اگر اپنے پچھلے دو سو سال پر نظر دوڑائیں تو اپنی بیماریوں کی تشخیص مل سکتی ہے۔ ہمیں غیر قوتوں سے مقابلہ اُن چیزوں میں کرنا ہوگا جس کی ہمیں ضرورت ہے اور اُن چیزوں سے بچ کے رہنا ہوگا جس میں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ورنہ آنے والے دن کل سے زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طاؤس پیر کی دیگر تحریریں
طاؤس پیر کی دیگر تحریریں