ہمارا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہتر نظامِ زندگی اور ملک کی خوشحالی خدا کی طرف سے کسی رحمت کی صورت نازل نہیں ہوتی، قوموں کا مستقبل ان کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے جو کہتے ہیں اللہ خیر کرے گا تو معذرت ایسی نیچ سوچ سے کیونکہ اللہ خیر نہیں کرتا بغداد تباہ ہوا، سپین ڈوبا، دہلی برباد ہوئی اللہ نے ذرہ برابر رحم نہیں کیا اگر قدرت کے اصولوں کی نگہبانی کرو گے تو پھر خیر کی کافی گنجائش نکلے گی وگرنہ صورتِ حال سامنے ہے، قدرت کے طے شدہ کچھ بنیادی اصول کسی بھی ملت کی ساخت تک کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اِن قواعد پر پورا اترنا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری اور فرضِ عین بھی ہے ان اصولوں کا اطلاق کسی خاص قوم یا مذہب پر نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے جو قوم یا مذہب قدرت کے بنائے ہوئے ان اساسی اصولوں کی پاسداری کرتی ہے وہ ہمارے معاشرے کی طرح رسوا اور ذلیل نہیں ہوا کرتی بلکہ دنیا میں ایک مہذب معاشرے کی صورت مثال قائم کرتی ہے اور ترقی وخوشحالی ان کا پیش خیمہ ہوتی ہے

اِن اصولوں میں بنیادی نقطہ انسانیت ہے جس کا نام ونشاں تک ہمارے معاشرے سے مٹ چکا ہے حکمرانوں سے لے کر سبزی بیچنے والے تک جھوٹ اور مکاری اپنے پر پھیلائے انسانیت کو اپنے اندر دبوچ چکی ہے

انسانیت کو آواز دو انسانیت کہاں ہے؟ تعلیم کا مقصد اچھا انسان بنانا ہے، انسانیت کے جذبہ کو فروغ دینا ہے اور درندگی یا ظالمانہ صفت وکردار سے انسان کوپاک صاف بنانا ہے

بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنا، بیش بہا عہدے حاصل کرلینا کسی کام کے نہیں

حیوان اور انسان کے مابین امتیاز پیدا کرنے والی واحد صفت انسانیت ہے جو اس معاشرے سے کوسوں دور کھڑی ہمارا منہ چڑا رہی ہے اور ہم درندوں کی صف میں سرِفہرست کھڑے اطمینان اور سکون کا سانس لے رہے ہیں

ہم بظاہر تو انسان ہیں مگر اپنی انسانیت کہیں دور پھینک آئیں ہیں جس کو لاپتہ ہوئے عرصہ دراز ہو چکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اب پوسٹرز لگائے جائیں ”اگر کسی کو انسانیت ملے تو انسان کے پتہ پر ارسال کر کے شکریہ کا موقع پائیں“

ہم انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ محض پیسہ ودولت رکھنے والے کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پھر وہ پیسہ جیسے بھی کمایا ہو جب کسی معاشرے میں ایسے سٹیٹس متعین کر دیے جائیں تو ناجائز طریقے اپنانا ضروری ہو جاتا ہے

عورتوں پر ظلم وجبر وتشدد دن بدن دیمک کی طرح پھیلے جا رہا ہے مرد اپنی مردانگی کھو بیٹھا ہے معاشرے میں ڈھلتی عمر کی غریب لاچار لڑکیاں اپنے گھروں میں جہیز کا سامان پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھی ہیں

جہیز ایک ناسور بن چکا ہے جو سماج میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے اس لعنت نے لاکھوں بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں حرام کر رکھی ہیں معاشرے کی ایسی عبث رسموں نے ان معصوموں کی آرزؤں، تمناؤں اور خوبصورتی چھین کر ایسی پچیدگیوں میں ڈال دیا ہے جہاں عقل وشعور کا دائرہ محدود ہو کر رہ گیا ہے

حکومت کو چاہیے کہ ایک قانون بنایا جائے جس کے ذریعے جہیز لینے دینے کو جرم قرار دیا جائے اور جو اس جرم کا ارتکاب کرے اسے جیل اور بھاری جرمانے کی سزا بھگتنی پڑے تاکہ کوئی بھی جاہل آئندہ ایسا گھناؤنا مطالبہ نہ کرے۔

ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں، مگر یہ سمجھنے سے عاری ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی

انسانوں سے ہمدردی اور محبت کے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن دینِ اسلام نے خدمتِ انسانیت کو بہترین اخلاق اور عظیم عبادت قرار دیا ہے مگر افسوس ہم دین کو حقیقی معنوں میں سمجھ نہیں پائے جس کا نقصان شب وروز اٹھانا پڑ رہا ہے

ہماری سوچ کا تخمینہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے جب ہم رسولؐ کو یوم آخرت بطور سفارشی منتخب کرنے میں ذرا برابر عار محسوس نہیں کرتے، حالانکہ حضورؐ نے صرف اتنا کہا تھا کہ میرے لیے مقامِ محمود کی دعا کرو تو میری شفاعت واجب ہو جائے گی، نا کہ شفاعت کے لیے بھی دعا کرو اور اس پر بھروسا کر کے عمل صالح چھوڑ دو

ہماری سب سے بڑی دو بدنصیبیاں یہیں ہیں کہ حشر کے دن کا مرکزی خیال حساب کتاب تھا مگر لوگوں نے اسے شفاعت کا موضوع بنا دیا دوسری یہ کہ انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت رب العالمین کی ہے جبکہ لوگوں نے غیراللہ کو گلے لگا لیا،

علم اور اخلاق فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی قوم عروج تک پہنچے گی یہ معاملہ سازش کے افسانے بیان کرنے سے نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرنے سے ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد فیضان چوہدری کی دیگر تحریریں
محمد فیضان چوہدری کی دیگر تحریریں