لندن کا وہی پرانے والا وقار، ہم تبدیلی لے آئے مگر ڈھاک کے تین پات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قریب دو برس کے بعد پانچ ستمبر کو لندن روانہ ہوا، چونکہ بچوں کے بغیر گیا تھا توخیال تھا کہ تین ہفتے خوب چھٹی گزرے گی مگر ایک ہفتے بعد ہی اداسی نے ایسا جکڑا کہ واپس آتے ہی بنی اور دورہ مختصر کرتے ہوئے پندرہ تاریخ کو ہی واپس ہو لیا۔ قریب دس دن کے مختصر عرصے میں ممکن نہ تھا کہ سب دوستوں سے مل پاتا مگر انیل مسرت صاحب سے نہ ملنے کا افسوس رہے گا کہ انہوں نے بڑی محبت سے لندن میں ایک صبح ملاقات کا وقت دیا اور میں دیر سے اٹھنے کے سبب رہ گیا۔ پھر مانچسٹر میں نعیم الحق کے اعزاز میں دی جانے والی دعوت میں نہایت شفقت سے دعوت دی مگر جلدی واپسی کی وجہ سے میں وہاں بھی نہ جا سکا۔

ہمدم دیرینہ ممتاز چوہدری جو طویل عرصے سے میری میزبانی کا تکلیف دہ فرض نبھاتے ہیں، مجھے یورپ گھمانے کی ضد کرتے رہے مگر ان سے بھی معذرت کر کے واپسی ہی میں خیر جانی کہ دل اداس ہو، تو دنیا میں کچھ اچھا نہیں لگتا اور آدمی جب، اپنے بچوں کے علاوہ اپنی ہی بیوی کی یاد میں اداس ہونے لگے تو اس کا مطلب ہے جوانی نام کی چیز اب اجازت مانگتی ہے۔ جناح لا گروپ کے اصغر رانجھا اور ان کے ساتھی دوست بلال صاحب سے ملاقات اس دورے کا حاصل ٹھہرا۔ وہ پاکستانی جو پاکستان سے پڑھ کر جائیں اور کسی بھی دوسرے ملک میں جا کر مقامی افراد سے پیشہ ورانہ مقابلے کے میدان میں جیتیں اور کھڑے رہیں، ہمارا اثاثہ ہیں۔

 پی آئی اے کو برا بھلا کہنا اب اتنی بوریت کی بات ہے کہ عرصہ اس موضوع کو نہیں چھیڑا، اس وقت بھی صرف اتنا رپورٹ کرتا ہوں کہ پہلے اس ائیر لائن میں فرسٹ کلاس، کلب کلاس اور اکانومی کلاس ہوا کرتی تھی۔ پہلے فرسٹ کلاس ختم کرنا پڑی کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، سروسز کے جس بین الاقوامی معیار پر فرسٹ کلاس کی تعریف لکھی ہوئی ہے، پی آئی اے وہ مہیا کرنے سے عاجز ہے اس لئے اس کلاس کو ہی ختم کر دیا گیا اور رہ گئی کلب کلاس۔ اس کے ٹکٹ پر بھی اب، ایگزیکٹو اکانومی لکھا ہوتا ہے۔

واپسی کے سفر میں ساتھ کی نشست پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور پرانے ہمدم اورنگزیب برکی ہم سفر تھے ان سے پوچھا کہ یہ مرحوم کلب کلاس کا کیا ہوا ؟ ایگزیکٹو اکانومی کیوں لکھا ہے تو جواب ملا کہ بین الاقوامی معیار جس کلب کلاس یا بزنس کلاس کا تقاضا کرتے ہیں، پی آئی اے اس سے بھی فارغ ہو چکی اب یہ صرف، اکانومی اور ایگزیکٹو اکانومی ہی آپریٹ کرتی ہے، اس ائیر لائن کو، کلب یا فرسٹ کلاس کا ٹکٹ جاری کر نے کی اجازت ہی نہیں کہ پی آئی اے، اس سروس کو مہیا کرنے سے ہی قاصر ہے لہذا یہ کسی مسافر کو بہتر کلاس کا ٹکٹ یہ لکھ کر یا کہہ کر بیچ نہیں سکتی کیونکہ اس کے پاس مطلوبہ سروس موجود ہی نہیں۔ اب بجائے کہ یہ سروس کو بہتر کرتے انہوں نے پاکستانی تبدیلی کا راستہ چن لیا۔

طویل نوحہ پڑھنے کی بجائے صرف اتنا کہوں گا کہ دوران سفر، فلم، ریڈیو اور وائی فائی کی سہولت، اب ڈائیوو بس سروس کے علاوہ نیازی بس سروسز سمیت بلال ڈائیوو پر بھی موجود ہے۔ بسوں کے اڈے سے بس پکڑ کے اگر آپ لاہور سے دوسرے شہر روانہ ہوں تو امید ہے کہ آپ کو ٹی وی، ریڈیو اور وائی فائی کی سہولت مئیسر ہو گی، پی آئی اے کے مسافر البتہ اس عیاشی سے محروم ہیں۔ سات سے آٹھ گھنٹے کا طویل سفر اور تمام کی تمام سیٹوں پر ٹی وی سکرین ایک یادگار تصویر کی طرح ٹنگی ہے، کوئی فلم، کوئی ڈرامہ حتیٰ کہ ریڈیو تک سننے کو دستیاب نہیں وائی فائی سروس تو بہت دور کی بات ہے۔

دو سال قبل تک کم از کم مرحوم کلب کلاس میں ایک ٹیبلٹ اور ہیڈ فون دے دیا جاتا تھا اب وہ تکلف بھی ختم کر دیا گیا ہے اور پائی جانے والی سیٹیں جو کبھی کام کرتی ہوں گی اب قسمت پر چھوڑ دی گئیں ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاتے ہوئے میری نشست ریموٹ سے ملتی جلتی کسی چیز کی مدد سے نیچے تو چلی گئی مگر واپسی کو تیار نہ ہوئی، تمام دوسری نشست نما چیزوں پر دوسرے مسافر دھسنے اپنی بقا کی جنگ لڑی رہے تھے لہذا کوئی چارہ نہ ہونے پر کاک پٹ میں جا کر بیٹھ گیا، تقریباً دو گھنٹے بعد میری سیٹ نما چیز کی باقیات، واپسی پر آمادہ ہوئیں اور جہاز کے عملے نے خوشخبری دی کہ آپ اپنا باقی سفر اس چیز پر براجمان ہو کر جاری رکھ سکتے ہیں جسے ہم سیٹ کہتے ہیں۔

ایک روایت ہوا کرتی تھی کہ ٹرالی میں کھانا لاتے تھے اور آپ سے پوچھ کر، آپ کا انتخاب آپ کو سرو کیا جاتا تھا، اب وہ بھی ختم کرکے اس کی جگہ بنی بنائی ٹرے تھما دی جاتی ہے جو ٹوٹی ہوئی ٹیبل پر رکھ کر میں کشمکش میں رہا کہ یہ نیچے ہی نہ جا پڑے۔

یہ سب کچھ اس مقابلے کی دنیا میں ہو رہا ہے جہاں امارات یا اتحاد کی اکانومی کلاس کی ٹکٹ تقریباً اسی قیمت میں دستیاب ہے جتنے کی پی آئی اے کی۔ امارات کی نشست پر آپ کو چار ہزار چینلز دیکھنے، وائی فائی کی سہولت سمیت صاف ستھرا کھانا ایک ایسی میز پر ملتا ہے جس کا ٹوٹا ہوا ہونا، نا قابل تصور ہے۔

مجھے یاد ہے جب چند برس قبل ایک انٹرویو کے دوران میں نے اس وقت، نواز شریف کی کابینہ میں شامل وزیر پٹرولیم شاھد خاقان عباسی سے پوچھا تھا کہ آپ کی ائیر لائن تو کامیاب ہو گئی پھر پی آئی اے کیوں ٹھیک نہیں ہوتی تو ان کا جواب تھا کہ یہ گورنمنٹ کے کنٹرول میں ٹھیک ہو بھی نہیں سکتی، میں نے صدمے کا شکار ہو کر جواب دیا کہ آپ یوں کہیں کہ آپ سے ٹھیک نہیں ہو سکتی، ان کا جواب پھر وہی تھا کہ اگر پی آئی اے کو ٹھیک کرنا ہے اس کو پرائیویٹ کر دیں اور کوئی چارہ نہیں۔ اسد عمر نے خواب دکھائے کہ آپ امارات کی ائیر لائین کو دیکھیں، سنگاپور ائیر لائین کو دیکھ لیں، جب یہ ٹھیک چل سکتی ہیں تو ہم بھی چلا سکتے ہیں بس تبدیلی آنے دیں، ہم نے کہا آمین۔ اب تبدیلی آ چکی ہے اور ہم گواہی دے رہے ہیں کہ ہماری چشم خواب آشنا کو افاقہ ہے۔

لندن وہی پرانا وقار لئے کھڑا ہے، زندگی سہولیات کے اعتبار سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ قریب سات سال وہاں گزار کے میں 2006 میں واپس آیا تھا، آج تک تمام بنیادی اشیا کی قیمتیں یا تو وہی ہیں یا معمولی فرق سے بڑھی ہیں لیکن اس کے ساتھ مقامی حکومتیں ہر، غریب اور بے روزگار کا سہارا بن کر کھڑی ہیں۔ مجال ہے کوئی بچہ بھکاری بننے پر مجبور ہو یا اکیلا دکھائی ہی دے جائے۔ بجلی، گیس وائی فائی، گاڑی وغیرہ کی قیمتیں، مزدور کی قیمت خرید میں ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ مثالی کام کرتی ہیں۔ اول تو سرکاری سکول کسی صورت معیار میں پرائیویٹ سکولوں سے کم نہیں اور تمام ملک میں ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے پھر بھی پرائیویٹ سکول میں بھی عام بچوں کی نشستیں موجود ہیں۔

یعنی ایک بچہ اگر قابل ہے مگر فیس نہیں دے سکتا تو بھی مقامی حکومتیں اس کا مالی بوجھ خود سے اٹھا کر اسے مہنگے سکول میں پڑھا دیں گی۔ یہاں ایسا سوچنا بھی پاگل پن ہے کہ ایچیسن کالج میں غریب کا قابل بچہ پڑھ جائے۔ اور ایسا ہونا بھی کچھ کمال نہیں کہ یہ حل نہیں جب تک اس طرح کے ایچیسن کالج ہر علاقے میں نہ بنیں۔

واپسی پر خبر ملی کہ چونیاں کے ایک علاقے میں تین بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں جن کو زیادتی کے بعد ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا، یہ بچے گزشتہ تین ماہ میں لاپتہ ہوئے تھے۔ جس چینل نے یہ خبر دی ہے اس کا سارا زور، اس داد لینے پر ہے کہ وہ ایکسکلو خبر سب سے پہلے دے رہا ہے اور اس طرح اس نے باقی چینلز کو مات دے دی ہے، آئی جی پنجاب نے اس چینل کی خبر پر نوٹس بھی لے لیا ہے اور تحقیقات کا حکم جاری کر دیا۔ رپورٹر کی واہ واہ بھی ہو گئی، پولیس کی بھی، باقی رہے وہ بچے جو خاک ہوئے ان کا کیا کرنا، قاتل کون ہے، ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا مستقل علاج کیا ہو کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو سکے، اس کی پلاننگ کون کرے؟ کس کے پاس وقت ہے؟

آپ جانتے ہیں مغربی ممالک کی سیاحت کی درخواست پر ویزا نہ لگنے کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں کہ آپ محض سیر کے لئے جا رہے ہیں، آپ واپس نہیں آئیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ خود اپنے ہی ملک کو رہنے کے قابل نہیں سمجھتے۔ یعنی یہ کہ آپ لکھ کر، فارم پر کر کے، فیس دے کر بھی جھوٹ بول رہے ہیں، آپ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ اس لئے جاؤ، جان چھوڑو۔

ایک بات یاد رکھیں۔ مقامی حکومتوں کے شفاف اور منصفانہ نظام کے بغیر انسانی المیے کہیں نہیں جا رہے اور ہم اس نظام کو لانے پر کسی قیمت تیار نہیں۔ وجہ اس کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ ہم چیخ وپکار کرنے والی رنگ باز قوم ہیں، منافقت اور جہالت کا اشتہار ہیں اور اس کا زندہ ثبوت ہیں کہ اپنے بچوں یعنی اپنے مستقبل کی عزت نہ کرنے والوں کی دنیا میں نہ کہیں کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہونی چائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •