اسکول کا پہلا دن بچوں کے دماغ میں ہمیشہ کے لیے اسکول کا خوف بٹھا سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی معاشرے میں بچہ عموماً ڈھائی سے تین سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کردیتا ہے۔ تقریباً اسی عمر میں اس کو یا تو گھر پہ مولانا صاحب قرآن کی تعلیم دینے کے لیے آنے لگتے ہیں یا وہ بچہ خود کسی مدرسے جانے لگتا ہے۔ اس عمر میں بچے کی زندگی کا محور والدین اور ددھیال ننہیال سے بڑھتا ہے اور اس میں کئی نئے افراد شامل ہوتے ہیں۔ ان نئے افراد میں سب سے اہم کردار استاد کا ہوتا ہے۔ والدین یقیناً یہ بات شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ بچہ عموماً استاد کی بات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور اگر اسے والدین یا استاد میں سے کسی ایک کی کہی گئی بات کو چننا ہو تو وہ شعوری طور پہ استاد کی بات مانتا ہے۔

یہ غور کیجیے گا کہ میں نے جان بوجھ کہ یہاں شعوری طور پہ ماننے کی بات کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ کی عمر کا وہ حصہ جو اس نے والدین کے ساتھ گزارا ہے اس دوران اس کی شخصیت پہ والدین اور گھر والوں کے روئیے کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ اس لیے بہت دفعہ وہ استاد یا استانی کی بات ماننے کی کوشش کرنے کے باوجود برعکس رویہ دکھاتا ہے۔ اس عمر میں اگر وہ تمام عوامل جو بچے کے روئیے پہ کسی بھی حوالے مثبت یا منفی اثر ڈال رہے ہوں ان کو ذہن میں رکھ کر تعلیمی ماحول تشکیل دیا جائے تو ناصرف بچے کو بہت سی مثبت چیزیں سکھائی جاسکتی ہیں بلکہ گھر سے منفی رویہ سیکھ کے آنے والے بچوں کی مدد کرکے انہیں ان منفی رویوں سے چھٹکارا دلایا جاسکتا ہے۔

لیکن پہلے ہم ان مسائل پہ بات کرتے ہیں جو بچہ اسکول اور اساتذہ سے رابطے کے بعد دیکھتا ہے۔

اسکول اور مدرسے میں سب سے پہلے بچے کو جس رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ سیلیبرٹی سے ایک دم ہجوم کی عام سی اکائی بن جانے کا ہوتا ہے۔ ایکسٹینڈڈ یا جوائنٹ فیملی سے آنے والے بچوں کو شاید یہ تبدیلی زیادہ محسوس نہ ہو لیکن اپنے اردگرد چند نفوس دیکھنے والا بچہ جو ابھی ڈھائی تین سال کی عمر کا ہے وہ ایک دم اپنے گرد اتنے سارے لوگ دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔ یہ پہلا قدم ہوتا ہے جب اس کے دل و دماغ میں اسکول اور استاد کی طرف سے خوف یا خوش گوار احساس جگہ بنا سکتا ہے۔

اور یہ ساری ذمہ داری اس پہلی استانی کے کندھوں پہ ہوتی ہے جسے عموماً اسکول کی سب سے غیر اہم معلمہ سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی لیے عموماً اسکولوں میں سب سے ناتجربہ کار اور عموماً خود بھی کم عمر لڑکیوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ اب اگر ہم اکثریت اسکولوں کی بات کریں تو وہاں ڈھائی سے 4 سال تک کے تقریباً پچیس سے تیس بچے ایک کم عمر لڑکی کے ذمہ دے دیے جاتے ہیں کہ ان سب کو کنٹرول کرو۔

پہلا دن بہت سے بچوں کے لیے ذہنی صدمہ بن جاتا ہے کیوں کہ وہ اجنبی ماحول میں اجنبی چہروں کے بیچ موجود ہیں جن میں سے اکثریت انہی کی طرح پریشان ہے۔ ایسے میں معلمہ چاہ کے بھی نرم دلی اور پیار سے بات چیت نہیں کرپاتی اور بہت سی نرم رویہ رکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتیں۔ نتیجتاً اسکول کے پہلے دن کا برا تجربہ اجنبی جگہ پہ اکیلے رہ جانے کا خوف بچے کے دماغ میں ہمیشہ کے لیے اسکول اور تعلیم سے خوف بٹھا دیتا ہے۔

جلد ہی تعلق کھٹے میٹھے انداز میں پنپنا شروع ہوتا ہے اور یہی معلمہ بچوں کے لیے ماں کا نعم البدل بن جاتی ہے۔ ان کے لیے ان کی کلاس ٹیچر دنیا کی بہترین ٹیچر ہے جیسے ان کی ماں سپر مام ہے۔ وہ ڈانٹ کھاتے ہیں مار بھی کھاتے ہیں لیکن اپنی پہلی معلمہ سے غیر مشروط محبت کرنے لگتے ہیں۔ وہ ٹیچر سے ڈرتے بھی ہیں لیکن محبت بھی کرتے ہیں۔ اور اس محبت کے باوجود ملنے والا منفی رویہ ان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عموماً ٹیچرز کو اس انمول رشتے کا احساس نہیں ہوپاتا۔

اور ان کا جوابی رویہ بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ بدتمیز نہیں ہوسکتا وہ صرف جو سہہ رہا ہوتا ہے اس کا اظہار کرتا ہے لیکن جواب میں اب اسے اس کے گھر کے پس منظر میں جانچا جانا شروع کیا جاتا ہے۔ وہ تقابل جو پہلے مبہم تھا اب امتحان اور روز کے کلاس ٹیسٹ کی شکل میں باقاعدہ ان کی زندگی میں در آتا ہے اور مقابلے کی ایسی دوڑ شروع ہوتی ہے جو مرتے دم تک ذہنی طور پہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

مزید پہ انشاءاللہ اگلے مضمون میں بات کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 43 posts and counting.See all posts by absar-fatima