کراچی پہ قبضے کے لئے سرکاری طوطوں کی بے تابی اور بلاول کا استدلال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی پہ قبضے کے لئے شریف الدین پیرزادہ ثانی فروغ نسیم دور کی کوڑی لائے کہ آئین کے آرٹیکل 149 ( 4 ) کے تحت وفاق کراچی کا کنٹرول سنبھالنے کا آئینی اختیار رکھتا ہے اور ان غیر معمولی حالات میں ہم ایسا اقدام اٹھانے جا رہے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 149 ( 4 ) ہر گز یہ نہیں کہتا جو فروغ نسیم صاحب فرما رہے ہیں آرٹیکل 149 کہتا ہے کہ ”صوبائی حکومت اپنے اختیارات کا ستعمال اس انداز سے کرے گی کہ وفاقی انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے وفاقی حکومت صوبوں کو خاص ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کسی وفاقی قانون کو عملی جامعہ پہنانے کا بھی حکم دے سکتی ہے۔“

شق ( 4 ) کے تحت ”وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ایسی سڑکوں اور دوسرے ذرائع رسل و رسائل کی تعمیر کا حکم بھی دے سکتی ہے جو قومی یا دفاعی اہمیت کے حامل ہوں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو امن و امان کی بحالی اور معاشی خطروں سے بچاؤ کے لئے ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔“

اب فروغ نسیم صاحب شوشہ چھوڑ کر اگلے ہی دن اس پہ سندھی میڈیا کو اپنے سامنے بٹھا کر وضاحتیں بھی پیش کرنے لگ گئے کہ ان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے مگر عوام اتنی بے وقوف اور ناسمجھ بھی نہیں ہے کہ جتنا پیروکار الطاف حسین اور مشرف انہیں سمجھ رہے ہیں۔ موصوف کے سندھ دشمن، سندھ کی وحدانیت پہ حملے کی نیت کو بھانپتے ہوئے سندھ بھر سے شدید ترین ردعمل دیکھنے میں آیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے فروغ نسیم کے اس تقسیم سندھ فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے خان صاحب سے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جبکہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سول سوسائٹی، جی ڈی اے سمیت سندھ دھرتی کے حلالی بیٹے سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔

یہاں تک کہ پی ٹی آئی کے اسد عمر نے اسمبلی کے فلور پہ کھڑے ہو کر کہا کہ ”اس وقت ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہے ملک قوم کو تقسیم کرنے اور انتشار برپا کرنے کے کسی فارمولے کی گنجائش نہیں ہے“ انہوں نے جیے سندھ جیے سندھ وارا جین کا نعرہ بھی لگایا۔ اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے حیدرآباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فروغ نسیم کے وزارت سے برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 149 کے نفاذ کو مسترد کردیا اور کہا کہ ”اسی طرح بنگلا دیش میں بھی کیا گیا۔ بنگالی بھی اتنے ہی محب وطن تھے جتنے کہ ہم سب ہیں مگر جب ان کے بنیادی، انسانی اور شہری حقوق چھینے گئے تو بنگلہ دیش بن گیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے ماورائے آئین اقدامات اب سندھودیش، سرائیکی دیش اور پختون دیش بننے کی راہ نہ ہموار کردیں۔ مگر آپ کے ان اقدامات کے خلاف پیپلز پارٹی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ ہم وفاق کو فیڈریشن کو کمزور کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم پاکستان کی یکجہتی، سالمیت اور وحدانیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اپنے خون سے اس کی حفاظت کریں گے۔“

بلاول بھٹو زرداری صاحب کی اس پریس کانفرنس کے بعد شام سے ہی سرکاری ڈھول ان کی پریس کانفرنس کے خلاف زور و شور سے بجنا شروع ہوگئے۔ سرکاری طوطے اپنی اپنی بولیوں میں ان کی تقریر کو اپنی تنخواہوں کے مطابق حلال کرنے میں لگ گئے۔ کوئی بولا کہ بلاول نے سندھو دیش کا نعرہ لگا دیا تو کسی نے کہا کہ بلاول نے پاکستان کو توڑنے کی بات کرنے کا گناہ کردیا۔ اگر وفاق کی مضبوطی فیڈریشن کو متحد رکھنے کی بات کرنا گناہ ہے تو واقعی بلاول نے گناہ کر دیا کیونکہ بلاول نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ”پاکستان کی یکجہتی اور سالمیت کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور یہ حق ہم اپنی جانیں قربان کر کے بھی ادا کریں گے۔“

پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جو کبھی دہشتگرد را ایجنٹ تھی، صرف یہ دو ہی آرٹیکل 149 کے نفاذ کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ ان جماعتوں سے وابستہ لوگوں کی اکثریت اس سندھ دشمن اقدام کی مخالف ہے۔ سندھ کا ہر باشعور ہر زبان بولنے والا ہر طبقے مذہب و فرقے سے وابستہ فرد سندھ پہ اس لشکرکشی کا مخالف ہے۔ صدر عارف علوی نے عاصمہ شیرازی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”صرف کچرے اور صفائی ستھرائی کے مسائل پر شہروں میں مارشل لاء نہیں لگائے جاتے۔“ لیکن پھر بھی غدار وطن الطاف حسین کے نظریات کے پیروکار آرٹیکل 149 کے نفاذ کی حمایت میں اور پیپلزپارٹی کے خلاف زہر اگلنے میں پیش پیش ہیں، ساتھ میں تحریک انصاف کے صوبائی عہدیداران، جن کی اکثریت لینڈگریبروں، چائنا کٹنگ کے ماسٹرز پہ مشتمل ہے، وہ بھی وہی راگ الاپ رہے ہیں۔

آج پاکستان کا ہر باشعور اور محب وطن پاکستانی، سندھ دھرتی کا ہر سچا بیٹا اپنی دھرتی کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی صورت میں متحد ہے تمام سیاسی نظریاتی، فکری تعصبات اور اختلافات پس پشت رکھ کر صرف یک نکاتی ایجنڈا پر متفق ہیں کہ ہم وفاق کے ناعاقبت اندیش سندھ دشمن افراد کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں بالکل واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کوئی ڈھکی چھپی لگی لپٹی نہیں کہی۔ انہوں نے نہ تو سندھودیش کی حمایت میں کوئی بات کہی نہ ہی کسی بھی قسم کی تفریق کی کوئی بات کی بلکہ واشگاف الفاظ میں سندھ کے عوام کے جذبات احساسات اور خواہشات کی نہ صرف ترجمانی کی بلکہ ان کے مینڈیٹ کی پاسداری کرتے ہوئے ان قوتوں کو جو جناح پور، آدھا تمہارا آدھا ہمارا کی بات کرتے تھے، جو سندھ کی عوام کو زبان، رنگ نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کی سیاست کرتے اور مختلف طبقات کے بیچ نفرت بیج بو کر قتلِ عام کرواتے رہے بھرپور جواب دیا ہے۔

آج ایک بار پھر وہی را ایجنٹ، دشمن پاکستان الطاف حسین کے فکری نظریاتی پیروکار بلاول کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے زہر اگلتے نظر آتے ہیں مگر آج ان کی زہرافشانی میں وہ تاثیر نہیں رہی جو ماضی میں ان دہشتگردوں کا خاصہ رہی ہے۔ اس کی وجہ نفرت، قتل و غارت گری، لسانی گروہی سیاست کے خاتمے اور الطاف حسین کے بوئے ہوئے زہریلے بیج کی ناپیدی ہے مگر اس زہر کا ہلکا سا اثر اب بھی فروغ نسیم، وسیم اختر، خالد مقبول صدیقی، عامر خان، فیصل سبزواری، اظہار الحسن جیسے لوگوں کی وجہ سے باقی ہے۔ لیکن یہ زہریلا اثر بھی اب آہستہ آہستہ زائل ہونے کی قریب ہے اور اس کی وجہ سندھ کے باشعور و محب وطن، رنگ و نسل، زبان و قومیت کی تفریق سے بالاتر عوام ہیں جو ان سیاسی درندوں ناسوروں کو اور ان کے مفادات کو اب جان چکے ہیں جس کا اظہار انہوں نے جولائی 2018 کے انتخابات کے موقع پر کیا اب باقی رہی سہی کسر انشاءاللہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پوری کرنے کے لئے تیار ہیں۔

کراچی پہ قبضے کے لئے آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مخالفت میں حکومتی صفوں سے آوازیں اٹھنے کے بعد اب سرکاری طوطوں کی ٹیاؤں ٹیاؤں میں کمی آگئی ہے جبکہ سندھ میں سوائے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ہر سیاسی و قوم پرست جماعت نے آرٹیکل 149 کے نفاذ کے اعلان کے خلاف سخت احتجاج کا اعلان بھی کر دیا ہے جو یقیناً خان صاحب کی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی متنازعہ کراچی کمیٹی میں شامل کیے گئے اکثر سندھی اراکین نے کمیٹی میں احتجاجاً شمولیت سے انکار کر دیا ہے اور خان صاحب سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ متعصب وزیر قانون و الطاف حسین کے فکر و فلسفے کے نظریاتی پیروکار فروغ نسیم کو عہدے سے برطرف کیا جائے اور سرکاری سطح پر آرٹیکل کے نفاذ کا متنازع اعلان واپس لیا جائے۔

خان صاحب کے اپنے اتحادیوں اور سندھ کے طول وعرض سے شدید عوامی ردعمل اور احتجاج نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ استدلال تو درست ثابت کردیا کہ اگر وفاق نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو خدانخواستہ ایک بار پھر بنگلہ دیش بننے جیسا کوئی سانحہ رونما ہوسکتا ہے اور ان کے اس مؤقف کو سندھ کے عوام نے اپنے بھرپور ردعمل نفرت اور شدید غصے کے اظہار سے درست ثابت کردیا ہے جبکہ سرکاری تنخواہیں حلال کرنے والے ضمیر فروش اور سندھ کی ایکتا، وحدانیت اور سالمیت کی دشمن ایم کیو ایم کو کرارا جواب بھی دے دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •