آئین پاکستان 1973ء میں غلام اور لونڈیوں کی تجویز کس نے دی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پاکستان کے آئین پر بحث بالکل آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھی تو جمیعت العلماء اسلام کے ایک ممبر مولانا نعمت اللہ صاحب نے اپنی طرف سے ایک اہم نقطہ کا ذکر فرمایا۔ ان کے مطابق اگر آئین میں تبدیلی نہ کی گئی تو بہت نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ آئین میں شق 10 الف یہ تھی:

”غلامی معدوم اور ممنوع ہے اور کوئی قانون کسی بھی صورت میں اسے پاکستان میں رواج دینے کی اجازت نہیں دے گا یا سہولت بہم نہیں پہنچائے گا۔ “

28 فروری 1973 کومولانا نعمت اللہ صاحب نے اس بارے میں ان الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار شروع کیا:

”اور کہتے ہیں کہ غلامی کو ہم کبھی جائز نہیں کریں گے۔ انسانوں کی خریدو فروخت جائز نہیں ہو گی۔ بنیادی حصے میں یہ الفاظ رکھ دیے اور یہ لفظ تو انگریز کے دیے ہوئے ہیں۔“

گویا نعمت اللہ صاحب کے نزدیک اگر پاکستان میں غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے تو بھی انگریز کی سازش تھی۔ بہر حال ابھی انہوں نے قومی اسمبلی پر یہ نظریاتی بم گرایا ہی تھا کہ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے حیران ہو کر پوچھا:

”جناب مولانا نے جو فرمایا تھا وہ سمجھ میں نہیں آیا۔“

پروفیسر غفور صاحب نے جو کہ جماعت ِ اسلامی کے پارلیمانی لیڈر تھے بات ٹالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ”آپ پر یہ بات لاگو نہیں ہوتی“ لیکن بلی تھیلے سے باہر آچکی تھی۔ فضل الہیٰ چوہدری صاحب نے جو کہ سپیکر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے کہا:

”وہ کہہ رہے ہیں کہ غلاموں کو رکھنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ اور اگر ایک آدمی ایک شادی کرتا ہے اور دوسری نہیں کر سکتا تو باندی ہی کو رکھ لے۔“

مولوی نعمت اللہ صاحب نے بات پھر شروع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پیپلز پارٹی کے مولانا کوثر نیازی صاحب سراسیمگی کے عالم میں کھڑے ہوئے اور سوال کیا:

”جناب والا! میں پوچھتا ہوں کہ کیا مولانا کہ ان خیالات کی تائید مفتی صاحب بھی کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس طرف سے جواب دینا پڑے گاکہ حضرت مفتی صاحب کا فتویٰ اس کے حق میں ہے کہ نہیں۔“

مولانا مفتی محمود صاحب تو خاموش رہے لیکن سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے شیخ محمد رشید صاحب کو خیال آیا کہ قومی اسمبلی اپنے نامہ اعمال میں کیا ریکارڈ چھوڑے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ان خیالات کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے ورنہ ہم ملک میں اور پوری دنیا میں بدنام ہو جائیں گے۔“ لیکن سپیکر صاحب قواعد کے ہاتھوں مجبور تھے انہوں نے کہا کہ ”مولانا اپنا نقطہ نظر تو بیان کر سکتے ہیں۔“ چنانچہ مولانا نعمت اللہ صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

” توجناب ِ والا میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آئین جو آپ کے سامنے ہے اس میں کہا ہے کہ اگر آپ غلامی کو جائز رکھیں تو آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں شرمندہ ہو جائیں گے۔ میں خدا کی قسم آپ کے سامنے کہتا ہوں کہ دنیا میں انتہائی درجے تک سرخرو ہوجائیں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی دنیا میں سرخرو ہو جائے گی۔“

مولانا نعمت اللہ صاحب نے تو پیپلز پارٹی کو سرخرو ہونے کا یہ نادر نسخہ بتا دیا تھا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ اُس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران ’سرخرو‘ ہونے کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ اُس وقت باوجود کوثر نیازی صاحب کی چیلنج کرنے کے مفتی محمود صاحب نے اپنی پارٹی کے ممبر کے خیالات کی تردید نہیں کی۔ گو کہ انہوں نے اس کی تائید میں بھی کچھ نہیں کہا۔ بہت سے پڑھنے والوں کو اس پر یقین نہیں آئے گا۔ اس بے یقینی کا علاج ہے کہ 28 فروری 1973 کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کی بحث کے صفحہ 458 سے 460 پر ان ’روح پرور‘ خیالات کو پڑھ لیں۔

یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو اتنی پرانی بات ہے، اب اس کو چھیڑنے سے کیا حاصل؟ لیکن جب اس قسم کے خیالات پیدا ہو رہے ہوں اور ان کے تدارک کے لئے کوشش نہ کی جائے تو پھر ایک عرصہ بعد یہ خیالات غیر محسوس انداز سے سر اُٹھاتے ہیں۔ چنانچہ اس بحث کے بیس سال کے بعد تحریک ِ طالبان پاکستان کی طرف سے ایک فرقہ کے بارے میں ایسے اشتہارات شائع کیے گئے کہ ”اگر تم نے توبہ نہ کی تو تمہاری عورتوں کو کنیزیں بنا لیا جائے گا۔“

اور کوٹ ادو کے مضافات میں اس فرقہ سے وابستہ افراد کے گھروں میں اس قسم کے خطوط بھی بھیجے گئے۔ (پنجابی طالبان مصنفہ مجاہد حسین ص 101۔ 103)۔ اور تو اور طاہر محمود اشرفی صاحب جب پاکستان علماء کونسل کے چیئر مین تھے تو انہوں نے ایک مذاکرے میں اعتراف کیا کہ جب انہوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کے گرفتار شدہ نوجوانوں سے ملاقات کی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں فتوے دکھائے گئے تھے کہ ان دو مسالک سے وابستہ عورتیں تمہاری لونڈیاں ہیں۔ (اے ڈیبیٹ آن تکفیر اینڈ خروج، مرتب صفدر سیال ص 102)

شاید ابھی بھی یہ عذر پیش کیا جائے کہ یہ تو ایک چھوٹے سے گروہ کی دھمکی تھی۔ آخر اس کی کیا اہمیت ہے؟ تو کیا اس بات سے بھی انکار کیا جائے گا کہ داعش نے مسیحی مسلک سے وابستہ خواتین کو کنیزوں کے طور پر فروخت کیا تھا؟ اور اس کے باوجود اسلام آباد کے ایک مدرسے کی طرف سے اعلان شائع ہوا تھا کہ وہ داعش کے ابوبکر بغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ اعلان آج تک انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ شاید اس کو بھی جھوٹ قرار دیا جائے تو کیا اس بات کو بھی غلط قرار دیا جائے گا کہ اپریل 2014 میں اپنے آپ کو جہادی تنظیم کہنے والی دہشت گرد تنظیم ’بوکو حرام‘ نے نائیجیریا کے شمال مشرق میں چیبوک نامی جگہ پر مسلمان لڑکیوں سمیت 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا اور ان کے لیڈر نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ ”خدا کے حکم کے تحت ایسا کیا گیا ہے۔“ ان مظلوم لڑکیوں کو کنیزیں بنا کر سالوں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اور ان میں سے ایک بڑی تعداد اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں آ سکی۔

جب یہ سب واقعات ہو رہے تھے تو ہم میں سے کتنوں کی نیندیں حرام ہوئیں؟ کتنی بار اخبارات میں مذمت کے کالم اور اداریے لکھے گئے۔ کتنے اینکر صاحبان نے بحثیں کر کے اپنے گلے میں خراشیں ڈالی تھیں؟ کتنے چینلز نے پروگرام کیے تھے؟ یا ہم نے مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی تھی۔ کشمیریوں پر ظلم ہو رہے ہیں تو ہم بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ پوری دنیا ہمارے ساتھ ان کی مذمت کرے۔ لیکن جب ان وحشیوں نے نائیجیریا کی مظلوم لڑکیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے تھے تو ہم کیا کر رہے تھے؟

خود فریبی وہ کھائی ہے جس کا صرف آغاز ہے اور پستی کی انتہا کبھی نہیں آتی۔ ضرورت اس بات کی ہے ہم تعلیم کی ابتداء سے ہی اپنے بچوں کو یہ پڑھائیں کہ انسانیت کا احترام تم پر بہر حال فرض ہے۔ رنگ، نسل، سیاسی موقف یا عقیدے کے اختلاف تمہیں اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دیتا کہ تم کسی کے حقوق سلب کرو۔ آزادی ہر کسی کا اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا۔ اگر تم کسی کا حق سلب کرو گے تو تم ہماری نظروں میں زیادہ مجرم ہو گے۔ اگر دنیا میں کسی پر ظلم ہو اور تم خاموش رہے تو تم بھی ظالم ہوگے۔ ہم حکومتی پالیسیوں کو بدلنے کی بہت باتیں کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •