پنجاب کا مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پنجاب کا مقدمہ“ نامی یہ کتاب مرحوم محمد حنیف رامے نے لکھی ہے۔ یہ کتاب 1985 میں شائع ہوئی ہے۔ حنیف رامے صاحب نے یہ کتاب پنجابی قوم پرست کی نقطہ نظر سے لکھی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں پنجاب کے عوام کی طرف سے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ یقینا انہوں نے جس طرز سے پنجاب کا مقدمہ پاکستان کے باقی اقوام کے سامنے پیش کیا ہے قابل ستائش ہے۔ اب تو پنجابی قوم پرستوں نے بہت ساری کتاب لکھ دی ہے لیکن یہ کتاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ کسی پنجابی کی طرف سے پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی تصنیف ہے جس نے پنجابی قوم پرست نقطہ نظر سے اہل پنجاب کے بارے میں لکھا ہو۔

حنیف رامے صاحب ایک دانشور اور ترقی پسند ذہنیت رکھنے والے انسان تھے۔ وہ بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وہ پنجاب کے وزیراعلی بھی رہے لیکن پنجاب کے حقوق پہ بھٹو کی مخالفت کرنے کی وجہ سے نہ صرف وزارت اعلی کے منصب سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ جیل بھی جانا پڑا۔ اس کے علاوہ وہ ایم۔ این۔ اے، سینیٹر اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں بینظر کے درخواست پہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے بھی رہے۔ رامے صاحب 1970 میں بنگال کی علیحدگی سے پہلے مشرقی پاکستان کے لیڈر اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن سے مذاکر ات کے لئے بھٹو کے ساتھ جانے والے پانچ رکنی وفد کا بھی حصہ تھے۔ ان سب عہدوں پہ فائز رہنے اور بائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھنے کی وجہ سے وہ پاکستان کے مسائل پہ عمیق نظر رکھتے ہیں۔

یہ کتاب حنیف رامے صاحب نے اپنے حافظے سے لکھی ہے اور اس کتاب کے لکھنے کا مقصد اس کے پیش لفظ میں لکھے گئے ایک جملے سے واضح ہے کہ ”میرا ایمان ہے کہ پنجاب نے پنجابیت اختیار نہ کی تو وہ پاکستان کو بھی لے ڈوبے گا۔ “

کتاب میں انہوں نے پنجاب کے جعرافیے اور ان میں بسنے والے لوگوں کا نقشہ انتہائی رومانوی انداز میں پیش کیا ہے۔ اس نے پاکستان کے دوسرے اقوام کو بتایا ہے کہ وہ صرف پنجاب کے تیز دھوپ کو نہ دیکھے بلکہ اس کی گھنی چھاٶں میں بیٹھ کر بھی دیکھے تو وہ حقیقت کو سمجھ لیں گے۔

کتاب میں ایک طرف وہ اہل پنجاب کو اس بات پہ قائل کرتے ہیں کہ وہ پنجابیت اختیار کریں کیونکہ اسی ہی میں پاکستان کی بقإ ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان کے باقی اقوام کے سامنے اہل پنجاب کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔

حنیف رامے صاحب نے اس کتاب میں پنجاب کے تاریخ کے بارے میں لکھا ہے اور اس سے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ پنجاب برصغیر میں داخل ہونے کے لئے سامراجی قوتوں اور باقی حملہ آوروں کے لئے ایک راستہ تھا۔ اس لیے اہل پنجاب کو ہمیشہ مختلف مسائل سے دوچار ہونا پڑا اور اب تاریخ کی تشدد کی وجہ سے اہل پنجاب نفسیاتی طور پہ مجروح ہوچکے ہیں اور مزاحمت کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اور پنجاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ چونکہ آزادی کے وقت پنجاب کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اہل پنجاب باقی صوبوں کی مانند بہت متاثر ہوئے۔

پنجاب ٹکڑے ہونے کی وجہ سے اپنی اصل شناخت کھو بیٹھا۔ اس لیے اہل پنجاب نے اپنے زخم کو مرہم کرنے کے لئے اپنی نئی شناخت پاکستان میں خود کو ضم کرکے بنائی اور اپنی پنجابی شناخت چھوڑ دی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے ثقافت اور زبان سے بھی دور ہوئے اور ایک نئی ثقافت اور نئی زبان اردو کو اپنا لیا۔ اور ان کی اس غلطی کی وجہ سے دوسرے اقوام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور وہ پاکستان کو پنجاب سے تعبیر کرنے لگے۔

پنجاب میں قیادت کے فقدان کے بارے میں بھی وہ لمبی چھوڑی مدلل بحث کرتے ہیں اور ان کے لئے وہ نوآبادیاتی دور کے آقاٶں اور نوآبادیاتی دور میں پنجاب میں ہونے والے سیٹلمینٹ پراسس کو اس کے لئے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ پنجابی پہلی صف کی قیادت میں آنے کی بجائے نوکر شاہی میں زیادہ آنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی کے لئے وہ وجوہات بھی بیان کرتے ہیں کہ اصل وجہ کیا ہے۔ وہ نوکر شاہی اور فوج میں پنجاب کے زیادہ تناسب والے پروپیگنڈہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی ایک بنیادی وجہ تو نوآبادیاتی دور حکومت ہے۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پنجابی نوکر شاہی میں اپنے تناسب کے اعتبار سے زیادہ نہیں۔ لیکن دوسرے اقوام کے لوگ بھارت سے آئے ہوئے مہاجرین جو کہ نوکر شاہی میں بہت زیادہ ہیں کو بھی پنجابی سمجھتے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ اسی بنیاد پہ ہے۔ جبکہ فوج کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسی کا اصل وجہ بھی نوآبادیاتی دور حکومت ہے۔ کیونکہ وہ صرف چند محدود اضلاع سے بھرتی کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے فوج میں پنجابی اور پشتون زیادہ ہیں۔

جبکہ باقی اقوام فوج میں انے سے بھی کتراتی تھیں اور بھرتی بھی محدود ہوتی تھی اس لیے وہ کم ہیں۔ رامے صاحب کے مطابق پنجابی اب بھی فوج میں اپنے آبادی کے تناسب سے کم ہے جبکہ پشتون اپنے آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری اقوام کی طرف سے پنجابی نوکر شاہی پہ ان کے استحصال کے بارے میں رامے صاحب لکھتے ہیں کہ پہلے اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ یہ نوکر شاہی ایک مخصوص ٹولہ ہے اور باقی پنجابیوں کی نمائندگی نہیں کررہے۔

یہ اپنے مفادات کی خاطر باقی اقوام کی طرح پنجابیوں کا بھی استحصال کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ان محدود لوگوں کے عمل کی وجہ سے پنجاب کے باقی پنجاب کے عوام سے نفرت کرنا بالکل غلط ہے۔ اور کچھ لوگ اردو بولنے والے مہاجرین کو بھی پنجابی سمجھ کر پنجابیوں سے نفرت کرتے ہیں تو بھی ٹھیک نہیں۔ اس کے ساتھ رامے صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نوکر شاہی ہمیشہ غیر پنجابیوں حکمرانوں کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی ہے۔ لیکن چونکہ عوام کے سامنے یہی لوگ تھے اس لیے ان کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

رامے صاحب اہل پنجاب کو ان کی خاموشی پہ جھنجھوڑتے ہیں اور اہل پنجاب سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان کی بقإ چاہتے ہیں تو نہ صرف اپنی پنجابیت اختیار کرے بلکہ باقی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکے صوبائی خودمختاری کی جنگ لڑے۔ وہ تقسیم بنگال کے لئے بھی ذمہ دار اہل پنجاب کو گردانتے ہیں کہ انہوں نے اس باریک وقت میں ملزمانہ خاموشی اگر اختیار نہ کی ہوتی تو آج پاکستان کے دو ٹکڑے نہ ہوتے۔

ون یونٹ اور مشرقی پاکستان کے بارے میں بھی لمبی بحث کی ہے لیکن میں اس میں نہیں جانا چاہتا۔ آخر میں وہ پنجاب کے پانی کے مسئلے پہ بھی ایک لمبی بحث کرتے ہیں۔

دوستوں کو یہ بحث سمجھنے کے لئے یہ جاننا ہوگا کہ چونکہ یہ کتاب 1985 میں شائع ہوئی ہے۔ اس لیے اسے حال کے تناظر میں نہیں بلکہ کتاب کے اشاعت سے پہلے کے حالات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

رامے صاحب نے بہت کوشش کی ہے کہ وہ غیرجانبدار رہیں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بات کریں۔ لیکن قدرت نے انسان کی فطرت ہی کچھ یوں بنائی ہے کہ اس کے لئے غیرجانبدار رہنا ممکن نہیں۔ یہاں پہ میں ان کے کچھ بنیادی باتوں سے اختلاف کرتا ہوں۔

سب سے بڑی بات جو ہے وہ یہ ہے کہ رامے صاحب نے پنجاب کے سارے باسیوں کو پنجابی سمجھ کر پیش کیا ہے اور پنجاب کے جنوب میں آباد ایک بڑی قوم سرائیکیوں کو بالکل نظرانداز کیا ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں

رامے صاحب کے مطابق پنجابیوں کا تناسب نوکر شاہی اور فوج میں ان کے آبادی کے برابر ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا پنجابی اور سرائیکی دونوں اقوام کو اپنی ابادی کے تناسب سے برابر ملا ہے۔ یقیننا نہیں بلکہ یہاں ان دونوں محکموں پہ قابض لوگ سنٹرل پنجاب سے ہیں۔

اس کی بات کے پنجاب نوابادیاتی دور سے باقی اقوام سے آگے ہیں تو کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آزادی کے بعد سنٹرل پنجاب نے کتنی ترقی کی؟ جنوبی پنجاب نے کتنی ترقی کی اور باقی صوبوں کا کیا حال ہے؟

وہ سندھیوں کہ اس الزام کو یکسر رد کردیتے ہیں کہ وہاں پہ پنجابی آفیسرز کو زرخیز زمینوں میں آباد کرکے سندھ کی کالونائزیشن کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے جس کے بارے میں عمر نعمان اور اور بہت سارے لوگوں نے لکھا ہے۔

تاریخ کے تشدد اور پنجابیوں کی نفسیاتی مسائل کے بارے میں ان کی رائے ٹھیک ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں یہ تشدد تو تاریخ نے پاکستان کے چاروں صوبوں پہ کیا ہے اور سب سے بڑھ کر پختون خوا پہ کیا ہے۔ تو وہ صوبے اب تک مزاحمت کیوں کررہے ہیں جبکہ پنجاب خاموش ہے۔ یقینا اس کی وجہ کوئی اور ہے۔

کچھ اور سوالات بھی ذہن میں ہیں لیکن تحریر بہت لمبی ہوگئی ہے۔ شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •