سو بادشاہ کو بحران چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے لیکن لگتا ہے کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے، یوں لگتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزرنے کے بعد بھی ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’اب تو ہر چیز بدل گئی ہے، تم بھی کبھی بدلو گے یا نہیں، اگر نہیں بدلے تو ایسے ہی ٹھہرے رہو گے، جامد و ساکت، بے فیض و بے وقعت۔ ‘ ہم ’ثبات بس ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘ کے برعکس دائرے کا سفر کرتے ہوئے تھک کر ٹھہر گئے ہیں، یہ کہانی کسی اور نشست کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں، سردست ذکر کررہا تھا سن 2000 اور دہلی کی سنڈے مارکیٹ کا جہاں راقم کو گنجہائے گراں مایا کی شکل میں کچھ کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔

دہلی کا سنڈے مارکیٹ متنوع اقسام کی نئی پرانی، سستی اور کارآمد کتابوں کا اوپن بازار تھا جو ہر اتوار کی صبح لگتا تھا اور تشنگان کتب اپنی پیاس بجھانے کے لئے دور دور سے آتے تھے، انہیں میں سے ایک راقم تھا جو لائبریری کم اور سنڈے مارکیٹ زیادہ جاتا تھا۔ افسوس کہ چند دن قبل سنڈے مارکیٹ بھی بند کردیا گیا۔ دیکھتے جائیں سرمائے سے ہمارے مودی صاحب کی دوستی ابھی اور کیا کیا گل کھلاتی ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہلاء زمینی حقائق اور فضلاء آفاقی مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے۔

دانشوری کے لئے لازم تھا کہ آپ آس پاس کی خبر کم اور ایران توران کی زیادہ رکھیں۔ اگر آپ امریکہ، یہودی سازش، فلسطین اور انتفاضہ کے بارے میں نہیں جانتے ہیں تو پھرآپ کے مسلمان اور باشعور ہونے پر آخ تھو کرنے میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ دہلی کے بارے میں اگر آپ نہیں جانتے تو عرض کردوں کہ وہاں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ قدم قدم پر کیڑے کی طرح رینگتے ہوئے ملیں گے اور میں ہر طرف سے کیڑوں کے درمیان گھرا ہوا تھا۔

ایک تو مولوی ہونے کا بوجھ، اوپر سے مالی تنگی، نیز بلا کا ذہنی انتشار اور محرومی، سو ان صحت مند کیڑوں کے درمیان زندگی مایوس تر ہوگئی۔ صرف ایک ہی پلس پوائنٹ تھا کہ خاکسار کی انگریزی بہتوں سے بہت بہتر تھی اور کوئی کام دھام نہ ملنے پر صحافی ہوگیا تھا۔ حالات کچھ یوں بنے کہ میں دانشوروں کی زمرہ بندی کرنے پر مجبورہوا۔ پہلی صف میں نہایت دلنشین انداز میں ایران توران کی آفاقی باتیں کرنے والے تھے، جن کے پاس نظام مصطفیٰ کی تنفیذ کا ایک مکمل بلیو پرنٹ تھا اور وہ امریکہ سے شروع ہوکر بیت المقدس پر ختم ہوجاتا تھا۔

دوسری صف میں وہ لوگ آئے جو وکٹم سنڈروم کو کیش کرانے کی مہارت تامہ رکھتے تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کے ارذل و ابتذال پسندی کا سارا کچرا لے جاکر حکومت وقت کے سر پر دے مارتے تھے، تیسری صف کے دانشور تلاش کرنے میں بڑی دقت پیش آئی۔ من جملہ ہندوستانی سول سوسائٹی، کشمیر، نکسل ازم اور احتساب ذات وغیرہ پر بات کرنے والے دانشور نہیں ملے کیوں کہ یہ زمینی حقیقتیں تھیں اورآفاقیت کے رتھ پر سوار شاہینوں کے شایان شان نہیں تھا۔

زمینی حقائق پر صرف کورچشم جہلا بات کرتے تھے اور ہم اپنا شمار جاہلوں میں قطعاً نہیں کرانا چاہتے تھے سو ہم نے بھی ایران توران پڑھنے کا عزم بالجزم کیا اور سنڈے مارکیٹ جانا شروع کیا۔ یہ سن 2000 کی بات ہے، تین معقول کتابیں خاکسار کی آمد کی منتظر تھیں۔ ایک کا نام تھا States of Terror: democracy and political violence کتاب کے مصنف پیٹرٹیلر ہیں جو بی بی سی کے انعام یافتہ صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ جو دو اور کتابیں ہاتھ لگیں ان میں اینڈریو گوورس اور ٹونی واکر کی مشترکہ تصنیف Behind the myth: Yasser Arafat and the Palestinian Revolution اور دوسری کتاب تھی Partition of India: Legend and Reality۔

اس کتاب کے مصنف ایچ ایم سیروائی (ہرمس جی مانک جی سیروائی) ہیں۔ تو یہ تین کتابیں ایک ساتھ ہاتھ لگیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں پڑھ بھی ڈالا۔ ان تین کتابوں کے مطالعے سے دو بڑے مغالطے واضح ہوئے۔ ایک مغالطہ دہشت گردی، حریت، جمہوریت اور سیاسی تشدد بطورآئینی جوازکے حوالے سے تھا اور دوسرا مغالطہ تقسیم ہند کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ سیروائی نے اپنی کتاب میں دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ تقسیم ہند کا ذمہ دار محمد علی جناح نہیں بلکہ کانگریس قیادت کا غیر مرئی یا ابہامی تعصب تھا۔ سیروائی نے ”Latent Bias“ لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کتاب پر پھر کبھی بات کروں گا، فی الحال گفتگو پیٹر ٹیلر کی کتاب تک محدود رکھتا ہوں۔

یہ کتاب ان دنوں زیر مطالعہ تھی جب نائن الیون کا سانحہ رونما نہیں ہوا تھا اورنہ ہی سیموئل ہنٹنگٹن کی Clash of civilization کا کوئی غلغلہ تھا، فوکویاما کی The End of History کا شور بھی کچھ کچھ مدھم ہورہا تھالیکن ٹافلر کی تھرڈ ویو ہرجگہ موجود تھی، اردو ہمیں کم اور انگریزی تھوڑی تھوڑی آتی تھی (غلط مت سمجھیے گا) آج بھی وہی حال ہے۔ چونکہ ان دنوں نیا نیا ’جوان‘ ہوا تھا، جوش و جذبے سے بھرپوراورنیانیا صحافی ’بنا‘ تھا۔

اخبار کے مالک کے علاوہ پوری دنیا ہیچ تھی، سب کیڑے مکوڑے نظرآتے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ کیڑے مکوڑے ہی نظرآرہے ہیں، یہ ایک الگ بات ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے ڈارون کے بقائے اصلح نظریے کو روند رہے ہیں اور ہم بزعم خویش روحِ ساعت کو گرفتار کرنے والے اس نظریے کو استحکام بخش رہے ہیں۔ بہرحال ان دنوں چونکہ پوری دنیا ہیچ تھی اورپوری دنیا کوزیرنگیں کرنا تھا (کیوں کرنا تھا خدا معلوم، لیکن اس تسلط میں اسلام کی بالا دستی بہرحال شامل نہیں تھی کہ میں راہ راست سے بھٹک چکا تھا، ابھی بھی بھٹکا ہوا ہی ہوں۔ گم کردہ راہ، نہ کوئی منزل، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی احساس اور نہ ہی کوئی احساس زیاں، بس ایک بے حسی کی ڈور ہے جو بے سمت کھینچے لئے جارہی ہے )۔

اس لئے ملکی وعالمی سیاست، اقتصادیات، گلوبل اکانومی کا جبر اورگلوبلائزیشن کے نام پر ’لوکلائزیشن‘ وغیرہ کا فریب سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ 2001 میں نیٹ کی سہولت میسر نہیں تھی اور اگر کبھی کچھ پیسے ہاتھ آگئے ( کچھ پیسے کیا، ایک ہزار روپیہ مشاہرہ، جس میں سے چار سو روپیہ مکان کا کرایا اور باقی چھ سو میں پورے ماہ کی بدن مفلسی، شب گزیدگی، کرمک نیم شبی کی تسکین، خواہشوں کی اذیت اور نارسائیوں کا سوہان۔ ہے اور نہیں ہے کی کشمکش میں زیست کرتا ہوا ذہن آج بھی لاحاصلی کے عذاب کو سرکرنے کی کوشش میں پیکار ہے ) اور کسی سائبر کیفے میں جاکر بیٹھ گئے تو ایک تصویر اوپن کرنے میں پورا وقت نکل جاتا تھا اور چالیس روپئے بھی۔

افسوس وقت اور پیسے کے ضائع ہونے کا نہیں ہوتا تھا۔ افسوس قیس کے عریاں نہ ہونے کا تھا۔ خیر اب ان حسرتوں کو کیا شمار کریں جنہوں نے جگہ جگہ عریاں کیا اور ان ’ہین بھاؤناؤں /محرومیوں‘ کا کیا گلہ جنہوں نے قاعدے سے جوان ہی نہیں ہونے دیا۔ میرے اندر کا بچپنا انہیں محرومیوں کی بدولت زندہ ہے۔ تو پتہ یہ چلا کہ محرومیوں کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ محرومیوں کے فوائد پر پھر کبھی بات ہوگی۔

تو میں بات کررہا تھا پیٹرٹیلر کی کتاب کی۔ اور یوں پیٹرٹیلر کی کتاب کی ورق گردانی سے ’دانشوری‘ کے سفرکا رسمی آغاز ہوا، مجھے لگا اب مجھے کوئی دانشور بننے سے نہیں روک سکتا (کہنے سے تو ابھی بھی کوئی نہیں روک سکتا)۔ ایک ایسے وقت میں جب صرف وقت ہی وقت تھا۔ اسٹیٹس آف ٹیرر، کیمبرج ڈکشنری، ایک نوٹ بک اور ایوری ڈے ڈرائی ملک پاوڈر سے بنی ہوئی دودھ والی چائے (پانچ روپئے کا پاؤچ چار پانچ دن چل جایا کرتا تھا۔ چھ سو روپے میں ماہ گزرجاتے تھے اور گزر ہی جانا تھا کہ بات ماہ کی تھی ماہ رو کی نہیں۔ ) قصہ کوتاہ یہ دانشوری کے کل اسباب تھے اور قصہ مختصر جو وقت ہم پیسوں سے برباد کرسکتے تھے وہ کتابوں نے برباد کردیئے۔ پیٹر ٹیلر کی کتاب اس وقت میرے پاس موجود نہیں (ایک صاحب لے گئے تھے۔ آگے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مانگی ہوئی کتابیں واپس نہیں کرتے ) اس لئے یادداشتوں کی بنیاد پر ایک واقعہ نقل کروں گا۔

1970 میں بلیک ستمبر نام سے ایک تنظیم بنائی گئی۔ جس کا ماسٹرمائنڈ مبینہ طور پر حسن علی سلامہ تھا۔ اس تنظیم نے 1972 کے اولپمک (میونخ، ویسٹ جرمنی) میں ایک آپریشن کیا جس میں اسرائیلی ٹیم کے 11 ارکان مارے گئے۔ ٹیلر نے اپنی اس کتاب کی تصنیف کے دوران دو لوگوں سے ایک ساتھ ملاقات کی۔ ہلاک ہونے والے ایک اسرائیلی کھلاڑی /کوچ کی لڑکی اوربلیک ستمبرکے ایک رکن کے بیٹے دونوں کو ایک میز پر بٹھایا اور دونوں سے میونخ آپریشن پر بات کی۔ دونوں نے مصافحہ کیا اور دونوں ماضی میں گزرے ہوئے اس المناک سانحے پر بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے کہ ان دونوں کا اس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا اور دونوں پرامن زندگی جینا چاہتے تھے۔

اسرائیلی لڑکی کو معلوم ہے کہ سامنے بیٹھے لڑکے کے باپ نے میرے باپ کو قتل کیا تھا اور اس لڑکے کو معلوم ہے کہ میرے با پ نے ایسا کیوں کیا تھا۔ دونوں نے اس واقعے پر غالباً کسی ’ندامت‘ کا کوئی اظہار نہیں کیا تھا لیکن ایک بات دونوں نے واضح طور سے کہی تھی کہ وہ ایک پرمن زندگی جینا چاہتے ہیں۔ بہت خون خرابہ ہوچکا ہے۔ لڑکی کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ ”مجھے ان کے والد سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نفرت ہے، جو گزرگیا ہے اس پر اب میں نہیں سوچنا چاہتی۔“ اور اسی سے ملتے جلتے خیال کا اظہارلڑکے نے بھی کیا تھا۔

(پورا واقعہ کتاب میں درج ہے، جن کو کتاب میسر ہو وہ حوالہ چیک کرسکتے ہیں اورمجھ سے کہیں کوئی غلطی ہورہی ہو تو اس کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ میں یاد داشت کی بنیاد پر یہ رقم کررہا ہوں، من و عن واقعہ نہیں۔) کتاب میں یہ واقعہ بہت خاص اہمیت کا حامل ہے۔ دو طرح سے، ایک تو یہ پیٹرٹیلر کے کمٹمنٹ، محنت، لگن اورصحافتی دیانت داری کو ظاہر کرتا ہے کہ اس نے ایک بڑے سانحے کے دو متاثرین کو ایک ٹیبل پر جمع کیا اوربراہ راست ان کے بیانات و احساسات کو قلمبند کیا۔ صحافتی دنیا میں فعال افراد جانتے ہیں کہ یہ تقریباً جوئے شیر لانے جیسا کام ہے۔ دوم یہ کہ ایک واقعے سے جڑے ہوئے چندمتاثرہ افراد کے خیالات اجتماعی طور پر کوئی معنیٰ نہیں رکھتے بالخصوص جہاں حکومتیں ملوث ہوں۔ حکومتوں کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں اوروہ چند لوگوں سے نہ بنتی ہیں نہ ختم ہوتی ہیں۔

اب آتے ہیں دہشت گردی کی طرف۔ دہشت گردی ایک گلوبل اکنامک پیکج ہے جو خواہش رکھتا ہے اسے بیچ دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک میں دہشت گردی خواہ وہ داخلی ہو یا خارجی حکومتی سطح پر تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ صرف ایک چین (سلسلے ) کو پکڑلیجیے باقی تمام کڑیاں اس سے جڑتی جائیں گی۔ باہرسے ملک میں غیر قانونی ہتھیاریا دھماکہ خیز مادے اندر کیسے آسکتے ہیں؟ کوئی ایک ہاتھ اس میں انوالو نہیں ہوتا۔ آپ صرف یہ تصور کرکے دیکھ لیں کہ آپ کو غیرقانونی منشیات یا اسلحے وغیرہ دوسرے ملک میں بھیجنا ہے، اب اس کے لئے آپ کو کیا کیا کرنا پڑے گا یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔

نعرہ تکبیر اللہ اکبر کہہ کر بم پھوڑنے والے کو نہیں معلوم کہ وہ کس کا آلہ کار بنا ہے اور نہ ہی اس آدمی کو معلوم جس نے اس نوجوان کو جنت میں ستر حوریں دلائی ہیں۔ نوجوان کو مولانا نے پیسہ دیا، جنت اور حوروغلمان دیے، مولانا کوبادشاہ سلامت نے پیسے اور گاڑی بنگلے دیے اور بادشاہ کو؟ بادشاہ کو اس سے کیا ملنے والا ہے؟ وہ ایسا کیوں کررہا ہے یا کیو ں کروارہا ہے؟ یہ جاننے کے لئے نظریہ بحران کا مطالعہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔

کرائسس یا بحران پوسٹ ماڈرنزم کا ایک اہم باب ہے اور اس وقت پوری دنیا میں یہی بحران سکہ رائج الوقت ہے۔ اگر بحران نہیں ہے تو آپ کی کوئی اہمیت نہیں۔ درحقیقت سماج میں آپ کا ریلیونس اسی وقت بنتا ہے جب سامنے کوئی ایک بڑا بحران کھڑا ہو۔ بہ الفاظ دیگر اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے تو آپ کی کیا ضرورت؟ سو بادشاہ کو بحران چاہیے۔

دہشت گردی بحران اور معیشت سے جڑی ہوئی چیز ہے مذہب سے نہیں۔ مذہب کو جس طرح دیگر بیشتر معاملات کو اکزیکیوٹ کرنے کے لئے ’استعمال‘ کیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح یہاں بھی اکزیکیوٹ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کہ دہشت گردی کے پنپنے کی اصل وجہ مذہب نہیں ہے بلکہ سیاسی بحران اور معاشی جبر ہے اور اس جبر کو مسلط رکھنے کے لئے مذہب کو استعمال کیا جارہا ہے۔ مذہب سے بڑی (بُری نہیں) دینی انڈسٹری اس وقت کچھ اور نہیں۔

ہم سب بیچ رہے ہیں، روز بیچتے ہیں، جب کسی معاملے میں پھنستے ہیں تو مذہب میں پناہ تلاش کرنے لگتے ہیں، جواز ڈھونڈنے لگتے ہیں، اپنے حساب سے تشریحات کرنے لگتے ہیں۔ فساد ان علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں غربت ہے اور ’مذہبی‘ بھی انہیں علاقوں میں زیادہ سرگرم پائے جاتے ہیں جہاں غربت ہے۔ غریب افراد کی برین واشنگ بہت آسان ہے اور برین واشنگ کے لئے پیسے سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ میں نے مذہب سے مایوس ہوکرخودکشی کرنے والوں کو نہیں دیکھا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا تو پلیز بتائیے گا لیکن ہاں معاشی حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کی ایک بڑی تاریخ موجود ہے۔

ودربھ (مہاراشٹر کا ایک عللاقہ) میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات اس امر کے بین ثبوت ہیں۔ بم سے خود کو اڑادینا جہاد نہیں خودکشی ہے اور خودکشی حرام ہے اور اسے جہاد کا نام اس لئے دیا جارہا ہے تاکہ مرنے والے کو یقین رہے کہ وہ جنت میں جارہا ہے جہاں حوروغلمان اور لولو مکنون اس کے منتظر ہیں۔ اب اس میں مذہب کا کیا قصور؟ قصور ان افراد کا ہے جنہوں نے مذہب کو غلط استعمال کیا ہے اور ایسے لوگوں کا مواخذہ بھی بہت سخت ہوگا۔

دنیا کی کل آبادی سات ارب سے زائد ہے۔ سعودی عرب کی آبادی کم و بیش تین کروڑ ہے۔ خریدے ہوئے اسلحوں اور خودکش بمباری سے یہ تین کروڑ لوگ نہ تو پوری دنیا پرقابض ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اسلام کو ”purify“ کر سکتے ہیں۔ اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے۔ چودہ سو سال ہوگئے ہیں اب تک اسلام دنیا پر غالب نہیں ہوا ہے اور فی الحال ایسے کوئی آثار دکھائی بھی نہیں دے رہے ہیں۔ آبادی اور جغرافیہ دونوں اعتبار سے اسلام اس وقت اقلیت میں ہے اور پہلے بھی اقلیت میں ہی تھا۔

سو یہ بات بھی قرین عقل نہیں کہ یہ دہشت گردانہ واقعات اور یہ خود کش دھماکے اسلام کو غالب کرنے کے لئے کیے جارہے ہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ”ایک وقت ایسا آئے گا جب قاتل کو نہیں معلوم ہوگا کہ اس نے قتل کیوں کیا اور مقتول کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ اسے قتل کیوں کیا گیا۔“ یہ کچھ ایسا ہی وقت ہے۔ قاتل کا ریموٹ کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے کسی کو نہیں معلوم۔ بڑے مسائل بہت حساس ہوکر نہیں بہت بے حس ہوکر حل کیے جاتے ہیں۔ ایک بے حسی دہشت گردی ہے اور ایک بے حسی دہشت گردی کا علاج ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ عوام اور ان کی حکومتوں کو طے کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ہاشم خان

مصنف افسانہ نگار ناقد اور صحافی ہیں، ممبئی، ہندوستان سے تعلق ہے

hashim-khan-mumbai has 10 posts and counting.See all posts by hashim-khan-mumbai