بلوچ قبائلی تنازعات؛ درد کی کوئی حد تو ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان سے باہر کے لوگوں کے سامنے جب کبھی بلوچستان کا ذکر آتا ہے تو فوری طور پہ ان کے ذہنوں میں بلوچستان کی ایک تصویر بنتی ہے؛ جس میں جنگ و جدل، پسماندگی، جہالت، غربت، قبائلی تنازعات و دیگر حقیقی و خیالی تصورات شامل ہیں۔ بلوچستان کے لوگوں کی مہر و محبت، مہمان نوازی، وفاداری، روشن خیالی، تاریخی سیاسی جدوجہد، منفرد ثقافت اور دیگر قیمتی اثاثہ جات ذہنوں سے حذف ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان جن مسائل و مشکلات کا شکار ہے ان میں زیادہ تر وہ ہیں جن کا تعلق ریاست، سیاست اور قبائلیت سے ہے، اس لیے رقبے کے لحاظ سے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے کے متعلق پھیلنے والی خبروں نے پاکستان کے دیگر صوبوں کے لوگوں میں بلوچستان کے متعلق ایک ایسی سوچ قائم ہوئی ہے جس کے منفی اثرات کسی نہ کسی صورت بلوچستان پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

خود بلوچستان کے لوگوں میں جو ذہنی کیفیت پائی جاتی ہے وہ یقینی طور پہ باعثِ فکر ہے۔ یہ سوچ پاکستان کے دیگر صوبوں کے متعلق نہیں بلکہ اپنے وطن، اپنی سرزمین، اپنی سیاست و ثقافت، معیشت اور قبائلی تنازعات کی پیچیدگیوں کے متعلق ہے۔ قیام پاکستان کے وقت سے موجود ایک سوچ اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی تحریکوں نے بلوچستان اور بلوچستان کے لوگوں کو جو زخم دیے، وہ اب ناسور بن چکے ہیں۔ ان تحریکوں نے بلوچستان پہ جو اثرات مرتب کیے، اس کا نتیجہ تعلیمی پسماندگی، انفراسٹرکچر کی تباہی، ہیرے موتی جیسے نوجوانوں، رہنماؤں سے محرومی اور قبائلی تنازعات یا قبائلی دشمنیوں کی صورت میں نکلا۔

گو کہ قبائلی تنازعات کی اپنی ایک الگ تاریخ ہے لیکن علحیدگی کی تحریکوں اور پارلیمانی سیاست کی رسہ کشی نے بھی ان قبائلی تنازعات کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اقتدار، طاقت اور دولت کے حصول کی تگ و دو نے قبائلی دشمنیوں کو ختم یا کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ان دشمنیوں نے بلوچستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہیرے موتی جیسے نوجوان و رہنما خاک ہوئے اور تقسیم در تقسیم کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ گروہ اور جتھے وجود میں آئے اور مختلف قبیلے ٹوٹ کر نئی سرداریوں میں بٹ گئے۔ مطلب درد اتنے ہیں کہ ان کی کوئی حد ہی نہیں۔

گذشتہ ماہ اگست میں ضلع خضدار کے علاقے زہری میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب بابو نوروز زرکزئی کے چھوٹے فرزند نواب امان اللہ زہری کو ان کے جواں سال پوتے میر مردان اور دیگر دو ساتھوں کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔ نواب امان اللہ زہری اپنی فیملی کے ہمراہ سردار نصیر موسیانی کی دعوت سے واپس اپنے گاؤں نور گامہ جا رہے تھے کہ ان کو نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔ گولیاں لگنے سے نواب امان اللہ زہری اپنے پوتے میر مردان اور دو ساتھیوں سمیت اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

یہ ایک اندوہ ناک اور دل خراش واقعہ تھا جس نے بلوچستان کے شہدا کی تعداد میں اضافہ کرنے کے علاوہ ایک ایسی چنگاری بھڑکائی ہے جو نہ جانے مزید کتنے گھروں کو جلا کر خاکستر کر دے۔ بلوچ روایات میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خواتین و بچوں کی ہمراہی میں دشمنوں پہ حملہ کیا جائے۔ گو کہ نواب امان اللہ زہری کی زوجہ محترمہ کی مدعیت میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری، ان کے بھائی میر نعمت اللہ زہری و دیگر پہ اس واقعہ کا مقدمہ درج ہوا ہے لیکن میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہ بزدلانہ اور غیرروایتی بلوچ اقدام کوئی بلوچ کر سکتا ہے۔

نواب ثنا اللہ زہری چونکہ ایک بلوچ سردار ہیں، چیف آف جھالاوان ہیں، بلوچستان سندھ افغانستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں ان کے لاکھوں چاہنے والے ہیں، اس لیے مجھے یقین نہیں آتا کہ خواتین و بچوں کی موجودگی میں دشمن پہ حملہ کرنے والا کوئی بلوچ ہو سکتا ہے۔ اس کی تردید خود نواب ثنا اللہ زہری نے بھی کی ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا ”میر امان اللہ زہری ان کے ماموں ہیں اور وہ حملے کے الزام کی واضح مذمت کرتے ہیں۔“

یہ الگ بات ہے کہ سردار رسول بخش زہری کے قتل کے بعد ماموں اور بھانجے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ غالباً اپریل 2009 میں نواب امان اللہ زہری کے فرزند پولیس انسپکٹر میر ریاض زہری کو خضدار بازار میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ نواب امان اللہ زہری نے اپنے فرزند کے قتل کا مقدمہ نواب ثنا اللہ زہری اور ان کے بھتیجے میر زیب زہری کے خلاف درج کروایا تھا۔ اس کے واقعے نے ماموں بھانجے کے درمیان سرخ لکیر کھینچ دی اور اس واقعہ سے قبل پائی جانے والی غلط فہمیاں، کھل کر دشمنیوں میں تبدیل ہوگئیں۔

میر ریاض زہری کے قتل کے بعد حالات کشیدہ ہوئے تو نواب امان اللہ زہری نے کوٹرہ ضلع جھل مگسی کو اپنا مسکن بنایا اور جھل مگسی و شہداد کوٹ سندھ میں اپنی زرعی زمینوں پہ توجہ دینی شروع کی۔ دو ہزار تیرہ میں ایک اور المناک واقعہ رونما ہوا۔ نواب ثنا اللہ زہری، زہری میں اپنے بھائیوں بیٹوں اور بھتیجوں کے ہمراہ انتخابی مہم پہ تھے کہ ان کے قافلے کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ اس اندوہ ناک اور افسوس ناک واقعے میں نواب ثنا اللہ زہری کے بھائی میر مہراللہ زہری، بیٹے میر سکندر زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت کئی دیگر افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے سوگ کا ماحول پیدا کیا اور بلوچستان کے لوگوں میں نواب ثنا اللہ زہری کے لیے ہمدردیوں میں اضافہ کیا۔ نواب ثنا اللہ زہری نے اس واقعہ کا مقدمہ نواب خیر بخش مری، میر حیربیار مری، سردار عطا اللہ مینگل، سردار اختر مینگل، میر جاوید مینگل اور نواب امان اللہ زہری کے خلاف درج کروایا۔ جب کہ نواب ثنا اللہ زہری کے قافلے پہ حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظم نے قبول کی۔

الزام لگنے کے بعد نواب امان اللہ زہری اور ان کے فرزندوں نے اپنی نقل و حمل محدود کر دی۔ تاہم ڈھائی سال قبل نواب امان اللہ زہری کے چھوٹے فرزند میر شہزاد زہری کو ضلع جھل مگسی کے علاقے گنداواہ سے کوٹرہ جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر وہ اس حملے میں معجزانہ طور پہ محفوظ رہے۔ حملوں اور قیمتی جانی نقصانات کا یہ سلسلہ نواب امان اللہ زہری، ان کے پوتے میر مردان زہری اور ساتھیوں کی ہلاکت تک جاری رہا۔

نواب ثنا اللہ زہری نے اس واقعہ کے بعد خود پہ لگنے والے الزام کو مسترد کرنے کے علاوہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل پہ زرکزئی قبیلے کی خون ریزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ سازش بند کر دیں بصورت دیگر وہ اپنے زہری قبائل کو روک نہیں پائیں گے۔

یقینی طورپہ یہ ایک ایسا درد ہے جوکم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ہر ایک واقعہ کے بعد تلخیوں و دشمنیوں کے مزید اژدھے نکل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ نواب امان اللہ زہری، ان کے پوتے اور دیگر ساتھیوں کی شہادت اور نواب ثنا اللہ زہری کی پریس کانفرنس نے محب وطن بلوچستانیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور عام بلوچوں میں خدشات و مایوسی کا طوفان بپا کر دیا ہے۔

گو کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے دیگر سرداروں کے ہمراہ قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنی سی کوشش شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے نواب امان اللہ زہری کے بڑے فرزند نواب زادہ نیاز زہری سے ملاقات بھی کی ہے۔
یہ اچھی بات ہے، مگر یہ کام پہلے ہو جاتا تو نواب امان اللہ زہری، ان کے پوتے اور دو دیگر افراد آج حیات ہوتے۔ اگر یہ کام پہلے ہو جاتا تو نواب ثنا اللہ زہری کی توپ نما پریس کانفرنس گولے نہ برساتی، اگر یہ کام پہلے ہو جاتا تو ہمارا درد کچھ کم ہو سکتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جاوید دھرپالی کی دیگر تحریریں
جاوید دھرپالی کی دیگر تحریریں