شاہراہ ”غیر دستور“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی دارالحکومت میں قائم شاہراہ دستور ہمیشہ غیر دستوری اور دستوری رویوں سے سجی دکھائی دیتی ہے۔ شاہراہ دستور کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ اس پر حکومت بے شک جنرل پرویز مشرف کی رہی ہو لیکن اس کا نام شاہراہ دستور ہی رہا ہے یعنی کسی غیر دستوری حکمران نے بھی اس شاہراہ کو غیر دستوری شاہراہ کہہ کر نہیں پکارا۔ اس بے چاری اور لاچار شاہراہ دستور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس پر دستور کے مطابق کام کرنے والے تمام معتبر ادارے موجود ہیں اور یہ تمام معتبر ادارے کسی نہ کسی شکل میں شاہراہ دستور پر دستور کی آبرو ریزی ضرور کرتے رہے ہیں۔ اصولی طور پر اس بے زبان شاہراہ کا ا حترام کرتے ہوئے حکمرانوں کوہفتے کے 7 میں سے 4 دن اس کا نام شاہراہ دستور اور تین دن شاہراہ غیر دستور رکھنا اور پکارنا چاہیے۔

یہ وہی شاہراہ دستور ہے جس پر سپریم کورٹ بھی موجود ہے اور اس کے دائیں طرف پارلیمنٹ اور بائیں طرف وزیراعظم سیکرٹریٹ ہے۔ اس کے بالکل سامنے ایف بی آر ہے اور اس کے پہلو میں الیکشن کمیشن آف پاکستان موجود ہے۔ اسی شاہراہ دستور پر نجکاری کمیشن اور کیبنٹ ڈویژن بھی ہے اور ان سے ملحق ایوان صدر بھی ہے۔ شاہراہ دستور کی پاکستانی نظام حکومت میں مثال بالکل مسجد جیسی ہے جہاں گناہ گار بھی جب چاہے جاسکتا ہے اور پرہیز گار تو ویسے بھی ادھر پائے جاتے ہیں۔ یہ وہی شاہراہ دستور ہے جہاں پر جنرل پرویز مشرف اپنے ساتھیوں سمیت عدالتی تعاون کے ذریعے غیر دستوری حکمران رہے اور ان پر آج کل غداری کا مقدمہ اتنی ہی لاغر حالت میں چل رہا ہے جتنی ان کی اپنی حالت لاغر ہوچکی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کو کمزور کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری وکلاء کو شاہراہ دستور پر لا کر بحال تو ہوگئے مگر پھر انہوں نے شاہراہ دستور کو اپنے غیر دستوری فیصلوں اور ہتھکنڈوں سے بری طرح پامال کیا۔ شاہراہ دستور پر سابق چیف جسٹس نے ایسے غیر دستوری گھوڑے دوڑائے کہ ان کے سموں کے نشان آج بھی باقی ہیں۔ شاہراہ دستور پر آج کل وزیراعظم سیکرٹریٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان جھگڑا جاری ہے۔ حکومت اپنی مرضی کے دو اراکین کی تقرری چاہتی ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان ان تقرریوں کو غیر دستوری قرار دے کر رد کرچکے ہیں۔ حکومت اب چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا ارادہ باندھ چکی ہے۔

الیکشن کمیشن میں یا تو حکومت کے دو ججوں کی تقرری غیر دستوری ہے اور یا پھر چیف الیکشن کمشنر کا انکار غیر دستوری ہے۔ شاہراہ دستور پر یہ بھی فیصلہ جلد ہوجائے گا شاہراہ دستور پر واقع پارلیمنٹ میں صدر مملکت عارف علوی گزشتہ دنوں اپنے سالانہ دستوری خطاب کے لئے تشریف لائے تھے لیکن اپوزیشن نے اس خطاب کے دوران تمام تر غیر دستوری حربے استعمال کیے۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان تسبیح کرتے رہے۔ ایک سوشل میڈیا کارکن کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم کی ایوان میں حالت ایسی تھی جسے کوئی شفقتِ پدری سے محروم ہوگیا ہو حالانکہ پوری اپوزیشن مادر پدر آزاد نظر آرہی تھی۔“

بہرحال صدر پاکستان کے دستوری خطاب کو اپوزیشن نے اپنے غیر دستوری رویے سے مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وفاقی دارالحکومت میں صفائی ستھرائی کا معاملہ بھی اب شاہراہ دستور پر واقع عدالت عظمیٰ میں جاتا ہوا دیکھا جارہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹروں میں ٹھیکیداری نظام کے تحت صفائی کرنے والے 1800 ورکروں کو گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور اصولی طور پر یہ ایک غیر دستوری ٹھیکیداری ہے لیکن مجبور لوگ پانچ ماہ سے کام کرنے پر مجبور تھے اور اب پیر 16 ستمبر سے وہ احتجاج کے لئے باہر نکل آئے ہیں اس احتجاج کے باعث اسلام آباد کی گلیوں میں اب گند ہی گند نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مقرر کردہ میئر شیخ انصر عزیز دو ارب روپے اکاؤنٹ میں رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک خراب ہو۔ اس کے پیچھے سازش یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کو کراچی کی طرح کچرا کنڈی بنانا چاہتے ہیں اس لئے علی نواز اعوان نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے دوسری طرف میئر اسلام آبادشیخ انصر عزیز کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کا نظام سی ڈی اے کے پاس ہے اور پانچ ماہ پہلے سی ڈی اے ہی ادائیگیاں کررہا تھا لیکن اب جان بوجھ کر ٹھیکیداروں کو پیسے نہیں دیے جارہے ہیں۔

شیخ انصر عزیز نے کہا کہ ”میں تو پہلے ہی سپریم کورٹ میں دستوری فتح کے لئے درخواست دائر کرچکا ہوں اور پی ٹی آئی کے نمائندے مجھ سے غیر دستوری کام کروانا چاہتے ہیں میرے پاس جو دوارب روپے پڑے ہوئے ہیں وہ کسی قانون اور دستور کے تحت ہی سی ڈی اے کو دیے جاسکتے ہیں چونکہ ہمارا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اس لئے حکومت ہمارے ساتھ غیر دستوری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے درحقیقت ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔“

بہرحال اب سپریم کورٹ کو شاہراہ دستور پر بیٹھ کر یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اسلام آباد کی دیگر شاہراہوں کی صفائی اورستھرائی کا دستوری حق کس کا ہے؟ عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر غیر دستوری اثاثے بنانے کا الزام ہے ان کا کیس سننے کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیاگیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہمدرد ان کے خلاف ریفرنس کو غیر دستوری سمجھتے ہیں۔

شاہراہ دستور پر موجود پاک سیکرٹریٹ میں وزارت قانون و انصاف کے دفاتر میں سمارٹ فون لے کر جانا غیر دستوری قرار دے دیا گیا ہے اور وزارت قانون و انصاف میں دستوری ترامیم بھی تیار ہورہی ہیں جن کے ذریعے پچاس کروڑ روپے سے زائد کرپشن کرنے والے ملزمان کو جیل میں اچھی سہولتیں نہیں ملک سکیں گی۔ اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف چونکہ کرپشن کیسز پہلے ہی اربوں روپے کے ہیں اس لئے وہ ان ترامیم کو غیر دستوری قرار دے رہے ہیں۔ شاہراہ دستور پر سالوں سے دستوری اور غیر دستوری کاموں کا سلسلہ جاری ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا کیونکہ ایک فریق جس کا کام دستوری سمجھتا ہے دوسرا فریق اس کو غیر دستوری قرار دیتا ہے۔ کچھ دل جلے تو شاہراہ دستور کو بھی فرط جذبات میں شاہراہ غیر دستور قرار دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 49 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat