معاشی بحران ’عملی اقدامات کی ضرورت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پا کستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے اقتدار کا ایک سال مکمل کر چکی ہے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم تا حال ملک کی بہتر معاشی سمت کا تعین نہیں کر سکی جس کے باعث وطن عزیز میں بسنے والا عام آدمی بیمار معشیت کے سائے میں بمشکل زندگی کے روز و شب گزارنے پر مجبور ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اشیائے ضروریہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں ایک اندازے کے مطابق عام آدمی کے ماہانہ اخراجات کے بجٹ میں 17 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں جو اکنامک ایڈوائزری کونسل بنائی تھی یہ اکنامک ایڈوائزری کونسل ملکی معشیت کو بہتری کی جانب گامزن کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ حکومت عام آدمی کو یہ اعتماد نہیں دلا سکی کہ معشیت کی بحالی کے لئے کتنا وقت لگے گا جس کے باعث تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے باوجود ملک میں لاغر معشیت نے بے یقینی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ ملک میں جاری احتساب کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کے قیام سے لے کر ابتک اس احتساب کے ثمرات ابھی تک واضح نہیں ہو سکے جس سے عوام کو اس بات کی تسلی ہو سکے کہ کرپٹ افراد سے احتساب کے ذریعے ملک و ملت کی لوٹی گئی دولت کی واپسی شروع ہو چکی ہے۔ اس جاری احتساب سے یہ ضرور ہوا کہ ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام اور کمزور معشیت پاکستان کے بہتر مستقبل کے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے۔ ان حالات میں بھی حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود اس بیانیے کے ساتھ اقتدار میں ہے کہ اچھے دن زیادہ دور نہیں جلد ملکی معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے عوام کو امید دلائی کہ معشیت بحرانی کیفیت سے نکل آئی ہے اور اب مہنگائی کو کنٹرول کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا حکومت میں آنے سے قبل یہ دعویٰ تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملک میں اتنی سرمایہ کاری اور پیسہ لائیں گے کہ یہ ملک جلد ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے ہوئے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہو گا۔ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے حوصلہ افزاء نتائج سامنے نہیں آئے۔ عمران خان نے حکومت بنانے سے قبل اپنی تقریروں کے دوران جو وعدے کیے اور عوام کی آنکھوں میں ترقی و خوشحالی کے سپنے چنے وہ کسی جنت کے وعدوں کے مترادف تھے۔

ملک کی خراب معشیت کی بنیاد دہائیوں پرانی ہے۔ اس ملک کو لوٹنے والوں کی ایک لمبی فہرست اس کمزور معشیت کے ساتھ نتھی ہے۔ عمران خان اور اس کی ٹیم نے حکومت میں آنے سے قبل معاشی چیلنجز سے نمٹنے، ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے کوئی حکمت عملی وضع نہیں جس کے باعث معشیت کمزور ہوتی چلی گئی۔ عمران خان اور اس کی معاشی ٹیم کے حوالے سے عوام کو جو توقعات تھیں وہ در حقیقت اتنی درست نہیں تھیں۔ عمران خان کی ایمانداری اور نیت پر شک نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمران خان اور اس کی معاشی ٹیم کو حکومت میں آنے کے بعد اس بات کا ادراک ہوا کہ حالات ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خراب ہیں کیونکہ متعلقہ محکموں میں جس نوعیت کے انسانی وسائل اور مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے موجودہ حکومت کو اس کمی کا سامنا تھا۔ نا تجربہ کاری اور حکومتی رموز سے نا آشنائی کے باعث ملک بہتری کی بجائے ابتر حالات سے دوچار ہو گیا۔

حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کے مطابق مالی سال 20۔ 2019 ء کا ٹیکس جمع کرنے کا ٹارگٹ پچپن سو ارب حکومت کے لئے ایک مشکل ٹارگٹ ہے کیونکہ اس وقت ملک کساد بازاری، برآمدات کا نہ بڑھنا، لارج سکیل صنعتوں کی منفی گروتھ، بڑھتی بے روزگاری اور دس فیصد سے زائد شرح مہنگائی کے ساتھ نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اس سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.25 فیصد رہی جو بہت تشویشناک امر ہے ماہرین کے مطابق جہاں شرح نمو میں اضافہ سے عام لوگوں کو روزگار ملتا ہے وہیں غربت کی شرح میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق ترقی کی رفتار میں حالیہ کمی کے باعث چالیس لاکھ سے زائد افراد خط غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور اور دس لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ سال 18۔ 2017 میں معاشی حجم 313 ارب ڈالر تھا جو سال 19۔ 2018 میں گر کر 205 ارب ڈالر پر آگیا ہے اس تنزلی کی وجہ سے روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں چونتیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ زراعت، صنعت، تجارت، معدنیات، سیاحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہتریں نوجوان افرادی قوت رکھنے والے ملک کی معاشی ابتری کے باوجود حکومت کے ترقیاتی اخراجات کم ہونے کی بجائے اس کے غیر ترقیاتی اخراجات سات ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔

گذشتہ سال بجٹ خسارے کا جو تخمینہ 2175 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 3444 ارب روپے ہو گیا یعنی قومی پیداوار کا 8.9 فیصد ہو گیا جو گذشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ وزارت خزانہ کی فسکل آپریشنز رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے 3028 ارب روپے ملکی اور 416.7 ارب روپے کا غیر ملکی قرض لیا۔ حکومت نے مجموعی طور پر ایک سال کے دوران 1390 ہزار روپے غیر ملکی قرض لیا ملکی معاشی عدم استحکام کے باعث ایک اندازے کے مطابق کاروباری افراد نے سات سو ارب سے زائد روپے بنکوں سے نکلوا لئے۔ شدید کساد بازاری کے باعث ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑتی جا رہی ہیں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے خوردونوش کی خریداری پر پندرہ فیصد ٹیکس، بے روزگاری، اور مہنگائی نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔

اسٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کا مجموعی حکومتی قرض 31.8 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قومی قرضہ سال 2018 ء کے آخر تک مجموعی ملکی پیداوار کا 73.2 فیصد بن چکا تھا جو سال 2019 ء کے آخر تک 82.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری لانے کے لئے اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بے تحاشا قرض اتارنے کے لئے مزید قرض لینا پڑیں گے۔ اگر موجودہ صورتحال کے پیش نظر عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو جہاں حکومت عوامی غیض و غضب کا شکار ہو گی وہیں یہ ملک مزید قرضوں کی دلدل میں دھنس جائے گا اور یہ صورتحال صرف اور صرف بے روزگاری اور غربت کو جنم دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •