تبدیلی نہیں آئی، آفتاب سوا نیزے پہ آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاملات بہت آگے جا چکے ہیں، بلکہ ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ہوا، نا اہلی وجہ بنی یا حالات کا جبر ہے، اس پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں لیکن اب سب کو نظر آگیا ہے کہ ریاست مفلوج ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعتیں یہ کہنا شروع ہو گئی تھیں کہ ملکی باگ ڈور اناڑیوں کے ہاتھ دینا تباہ کن ہوگا۔ دینی، سیاسی جماعتوں خصوصاً جے یو آئی (ف) کا بہت پہلے سے یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاست اور اقتدار کی نئی شطرنج بچھانا عالمی ایجنڈا ہے۔

کچھ اسی طرح کی باتیں 2014 ء کے دھرنوں کے دوران مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی کی گئی تھیں۔ ایسی باتوں کو بعد میں دھرایا جاتا رہا لیکن اتنی شدت سے نہیں کیونکہ دونوں بڑی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو فکس کرنے کے لیے تمام ادارے ان پر چھوڑ دیے گئے تھے۔ منصوبہ سازوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کو حکومت تو دی لیکن اسے بھی کٹ ٹو سائز کرنے کا پروگرام تھا۔ ن لیگ کے بارے میں تو کھلے عام کہا جاتا تھا کہ اسے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔

آج حالت یہ ہے کہ پورا زور لگانے کے بعد ن لیگ کی سرکش قیادت کو ڈیل یا ڈھیل کے لیے جھکایا نہیں جا سکا۔ دل کے امراض میں مبتلا 70 سالہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم اور خاندان کے دیگر ارکان کے ہمراہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرکے ”ماسٹر مائنڈ“ کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ 2014 ء میں دھرنوں سے شروع ہونے والا ”منحوس چکر“ اب دھرنوں کے ذریعے ہی ختم کرنے کے آثار واضح ہیں۔ یہ بحث ہی نہیں کہ ملک اس صورت حال کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ جنہوں نے امپائر کا کردار ادا کرنا تھا وہ خود فریق بن کر اکھاڑے میں اترے اور گتھم گتھا ہو کر خود کو بھی گرد آلود کرا بیٹھے ہیں۔

اب تک یہ امر خاصا اطمینان بخش ہے کہ مختلف اداروں میں بیٹھے افراد کی اتھارٹی کو اس طرح سے چیلنج نہیں کیا گیا جس کی باتیں ان کے حوالے سے سننے میں آرہی تھیں لیکن یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اب کوئی خود کو غیر جانبدار یا دودھ کا دھلا نہیں کہہ سکتا ہے۔ ایسے میں عوام تو کیا آزاد تجزیہ کار بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ گھڑ مس کی صورت حال میں ’جرگہ‘ یا ’پنچایت‘ کی میزبانی کون کرے گا؟

اداروں کا اپنے اصل کام سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں میں ملوث ہونا کبھی بھی سودمند ثابت ہوا، نہ ہو گا۔ آج حالت یہ ہے کہ پاکستان کا کمزور حکومتی ڈھانچہ، گرتی ہوئی معیشت بری طرح سے سیاسی تقسیم کو دیکھ کر مودی نے کشمیر کو یوں ہڑپ کر لیا ہے جیسے وہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔ اب حکومت پکار رہی ہے کہ آؤ اس مسئلے پر تو مل کر چلیں مگر اپوزیشن جماعتیں کان دھرنے کو تیار نہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) سمیت اپوزیشن جماعتوں نے علانیہ موقف اختیار کررکھا ہے کہ حکمران ٹولے نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر عارف علوی کے خطاب کے دوران جو کچھ ہوا وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ ایسے میں صرف غافل لوگ ہی لاتعلق ہو کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یوں تو اسٹیبلشمنٹ کا ارادہ کم و بیش تمام سیاسی ودینی جماعتوں کی ری سٹرکچرنگ کرنے کا تھا لیکن مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی پر خصوصی نظر رہی، اسی لیے عمران خان اور ان کے وزیر مشیر بار بار گرجتے برستے نظر آئے۔ اندازے کی سب سے بڑی غلطی نواز شریف کے بارے میں تھی۔

خیال بلکہ یقین تھا کہ جیل کی تکلیفیں عمر کے آخری حصے میں برداشت کرنا ممکن نہ ہو گا۔ گھر والوں (بچوں ) کو بھی ساتھ ہی رگڑا لگے گا تو سیدھا لندن جا کر دم لیں گے۔ کبھی گھر کا کھانا بند، کبھی ایئر کنڈیشنر اتارنے کی دھمکی، کبھی قریبی رشتہ داروں کے سوا سب سے ملاقاتوں پر پابندیاں، لیکن الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، اب شاید حکومت کو بھی بعد میں ہی پتہ چلا ہو کہ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے اچانک طویل ملاقات کرنے والوں میں ان کے بھائی شہباز شریف کے علاوہ احسن اقبال اور خواجہ آصف بھی شامل ہیں۔ کیا باتیں ہوئیں علم نہیں۔ اتنا ضرور سنا ہے کہ شہباز شریف مسکراتے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔

عمران خان کے سرپرست ابھی تک پیپلز پارٹی کو بھی ”راہ راست“ پر لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کبھی پیار بڑھتا تو کبھی لڑائی۔ وفاقی حکومت گرفتاریوں پر لگی ہے اور وزیراعلیٰ سندھ تک کو پکڑنے کی دھمکیاں دیتی ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی للکار کر کہتی ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح سندھو دیش بنانے کی بنیاد رکھنے سے باز رہا جائے۔ یہ دو بڑی سیاسی جماعتیں ہی کیا کم تھیں کہ 2019 ء کے متنازعہ الیکشن سے پہلے اور بعد میں جے یو آئی (ف) کے بارے میں بھی غلط اندازہ لگا لیا گیا۔

کہاں سینکڑوں حکومتی ترجمان اپوزیشن کے لتے لیتے نظر آتے ہیں۔ میڈیا کو مکمل طور پر ”فتح“ کر کے تحریک انصاف اور ماہرین امور یوتھیالوجی کے حوالے کر دیا گیا۔ سیانوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ گالیاں دینے کا کلچر لوٹ کر آئے گا اور پھر ہر کسی کو یوں لپیٹ میں لے لے گا کہ امان نہ ملے گی۔ اہل نظر دیکھ رہے ہیں کہ اب ریاست کے بڑے بڑے ستون خود کو پارسا اور اپنے کام سے کام رکھنے والا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ معاشرے میں کچھ عرصہ پہلے تک ہونے والی سرگوشیاں بلند آوازوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

بحث و مباحثہ کا سلسلہ اداروں کے اندر جا پہنچا ہے۔ ایک طبقے کا خیال تھا کہ کشمیر کا معاملہ نمٹائے جانے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بھی آگے بڑھا جائے گا۔ کامران خان سے پروگرام کرائے گئے۔ ریاستی طور پر ”منظور شدہ“ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب بھی وکالت کرتے نظر آئے مگر آج حالت یہ ہے کہ ریاست کے سیاسی و غیر سیاسی پرزے زور زور سے تردید کررہے ہیں کہ ایسا کوئی پلان نہیں۔ ایک پیج کے باوجود صورت حال یوں ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا رکوانے کے لیے براہ راست درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعداب سعودی عرب سے مدد مانگی جارہی ہے۔ بحران محض ہر شعبے میں ہی نہیں، ہر ادارے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

کاروبار زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ تھمتا جارہا ہے۔ جب پوری معیشت ہی آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دے دی گئی تو آگے کیا خاک اچھا ہو گا؟ آئندہ کئی سالوں تک گروتھ ریٹ 3 فیصد کے لگ بھگ رہنے کی پیشگوئی کی جارہی ہے۔ ایسے میں بے روزگاری کا جو طوفان آئے گا وہ سب بہا لے جانے کے لیے کافی ہو گا۔ نئے پاکستان میں کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو یہ تو طے ہے کہ بھکاری سے لے کر ارب پتی تک ہر کوئی پریشان ہے۔ مڈل کلاس پس کررہ گئی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے بجٹ میں اگر کسی کو ریلیف ملا ہے تو وہ اس کے فنانسرز مختلف مافیاز ہیں۔ تمباکو، شوگر، توانائی اور بعض دیگر شعبوں کے بارے میں کئی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں۔ کرپشن کا عمل ہر سطح پر جاری ہے۔ اس حکومت کو لانے سے پہلے ہر طرح کی مالی بدعنوانی سے پاک ثابت کرنا اسی منصوبے کا حصہ تھا جس کے تحت مخالفین کو دنیا کے بدترین بدعنوان ثابت کرنا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے کے پی کے میں بھی کوئی خاص کام نہیں کیا تھا۔

باہر سے جانے والے حیران ہوتے تھے کوڑے کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکیں، ناقص تعلیمی نظام، محکمہ صحت کا برا حال، اس کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد عمران خان کی جماعت کو ایک اور موقع دینے کو تیار تھی۔ یہ دراصل ملک کے ”اصل حکمرانوں“ کی جانب سے دیا گیا ایک حسین دھوکہ تھا۔ اسے ہی ففتھ جنریشن وار کہتے ہیں اور کے پی کے کے سادہ عوام اس جھانسے میں آگئے۔ صوبے میں آج بھی ہر شعبے کا برا حال ہے اور بی آر ٹی صوبے نہیں ملکی تاریخ کا بدترین منصوبہ بن چکی ہے اور آج پورے ملک کا یہی حال کر دیا گیا ہے۔

اس پر بھی بعض احمق یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اقتصادی سمت درست ہو گئی۔ ادھر ہمارے حقیقی مالکان آئی ایم ایف والے بار بار تنبیہ کرنے اسلام آباد آجاتے ہیں۔ حالیہ دورے کے بارے میں بھی حکومتی بیان بظاہر اطمینان بخش ہے لیکن اقتصادی ماہرین کچھ اور رائے رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک معیشت چل رہی ہے نہ چلے گی۔ آئی ایم ایف سے اس کی شرائط تبدیل کرانے کے لیے ایک بار پھر سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔ یوں لگتا ہے کہ ملک کو کچھ بڑے دماغ نہیں بلکہ اوسط درجے سے بھی کم فہم رکھنے والے چند افراد چلارہے ہیں جنہیں خود کچھ پتہ نہیں کہ ان کے اپنے اقدامات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔

؟ حکمران طبقات خود کو آسمانی مخلوق سمجھتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ لوگوں میں خوف ختم ہوتا جارہا ہے۔ ہر شعبے میں پھیلتا بحران اکٹھا ہو کر جس سمت بھی بڑھے گا تباہی مچا دے گا۔ سب سے خطرناک بات تو یہ ہے کہ گیم اوور ہو چکی لیکن کسی کو پتہ نہیں انجام کیا ہو گا؟ یہی سب سے خطرناک بات ہے۔ ڈیل یا ڈھیل ہو نہ ہو، دھرنا رنگ جمائے یا نہ جمائے موجودہ حالات برقرار نہیں رہ سکتے۔ قوم کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ خود تو پاکستان کوتبدیل نہ کر سکے مگر ان کی وجہ سے پاکستان تبدیل ہونے جارہا ہے۔

آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ اداروں کا اپنا وقار ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ کسی کو بھی اداروں کے احترام کی آڑ میں من مانی، اختیارات سے تجاوز، دھوکہ دہی، کرپشن اور ملکی آئینی نظام سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر بعض افراد اداروں کے تقدس کے نعرے کی آڑ لے کر چھپ کر وار کرتے پائے جائیں تو انہیں سامنے لایا جانا چاہیے۔ موجودہ بحران کا حل عوامی دباؤ، تحریک اور دھرنے کی صورت میں نکلا تو تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک دیرپا اور پائیدار سمجھوتہ طے پا سکتا ہے جو ملک و قوم کے لیے بہت آگے لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر اب بھی کسی نے محض احتجاج کی دھمکی دے کر ساز باز کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی تو ہم انہی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہ جائیں گے لیکن اس دفعہ اس بات کا امکان بہت کم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •